شہ سرخیاں
Home / ناصر اللہ بیگ / چنگاریاں

چنگاریاں

مولانا عبداُللہ جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد G-6 اسلام آباد میںلال مسجدکے خطیب اور امام بنے، 1973میں لال مسجد میں دینی تعلیم کے لئے ایک مدرسہ قائم کیا جسے بعد میں جامعہ فریدیہ کے نام سے E-7اسلام آباد منتقل کر دیا گیا، 1992میں لال مسجد سع ملحقہ پلاٹ پر طالبات کے لئے جامع سیدہ حفصہ قائم کیا۔1998کے آغاز ،میں مولانا افغانستان چلے گئے جہاں ملا عمر اور اُسامہ بن لادن سے ملاقات کیا۔افغانستان سے اسلام آباد اکر بہت بڑا مظاہرہ کیا اور ملک میں نظام اسلامی تحریک چلانے کا اعلان کیا لیکن اکتوبر1988میں لال مسجد کے صحن میں کسی شخص نے مولانا پر گولی چلائی جس سے آپ اللہ کو پیارے ہوگئے۔اسکے بعد اپکے بڑے بیٹے مولانا عبدالعزیز کو لال مسجد کا خطیب اور چھوٹے بیٹے مولانا عبدالرشید غازی کو نائب خطیب مقرر کیا گیا۔علامہ عبدالرشید غازی قائداعظم یونیورسٹی سے تاریخ میں ماسٹرز کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں گریڈ 17کے افسر بنے پھر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو میں اسٹنٹ ڈائریکٹرکے عہدے پر فائز ہوگئے،آپ ماڈریٹ انسان تھے ۔مسجد کے صحن میں والد کی موت کے بعد موقف میں تبدیلی اگئی پوری داڑھی رکھ لی دنیا سے کٹ کے لال مسجد اور جامع حفصہ کے ہو کر رہ گئے اور حکومتی اقدامات پر فتوےٰ دیتے رہے اسی طرح جولائی 2007کو لال مسجد اپریشن میں اپ کو جینے کا موقع نہ ملا۔
ایسے ہزاروں لوگ ایسا کر جاتے ہیں جن کا انہوں نے سوچا تک بھی نہیں ہوتا ہے زندگی میں اچانک آنے والی اندھیاں انسانی سوچ کوایک سکینڈ میں تبدیل کر دیتی ہیںاوربقول شیخ سعدی (رح)’’ انسان مجبواََ تلوار کے تیز دھار والے حصے کو پکڑتا ہے‘‘۔جاوید اقبال کی مثال لیجئے جس نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا بدلہ 100معصوم بچوں کا قتلِ عام کر کے لیا۔واضح رہے میں غازی رشید اور جاوید اقبال کے اقدامات کی حمایت بالکل نہیں کررہا ہوں میرے کہنے کا مقصد ہے کہ اخر انہوں نے اس راستے کا انتخاب کیوں کیا؟
باضمیر انسان سب کُچھ سہہ سکتا ہے مگر عزت کے معاملے میں کچھ بھی نہیں سہہ سکتا ہے جنوبی وزیرستان پر گرنے والے ڈرون کے گولوں سے نجانے کتنے چنگاریاں بن رہے ہیں،آنکھوں کے سامنے خاندانوں کی بربادیاں دیکھنے کے بعد نہ جانے کتنے معصوم خودکش بمبار بن رہے ہیں،اپنوں کے بچھڑنے کے بعد انکے جینے کا مقصد صرف انتقام رہتا ہے ۔موقع ملنے پر بارود کی ڈھیر پر چنگاری بن کر گرتے ہیں اور شعلے کیساتھ اپنی زندگی کا چراغ گُل کرتے ہیں۔ہم میڈیا پراوراخبارات میں ڈرون حملوں کی خبریں سُنتے اور پڑتے ہیں پھر ایک یا دو دن بعد بھول جاتے ہیں،مگر وہ کیسے بھولے گا جس کے بچے اس حملے میں جل کر خاک ہوگئے ہو، وہ کیسے بھولے گا جس کا خاندان صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہو ، وہ کیسے بھولے گا جس کا ہنستا بستا گھر قبرستان بن گیا ہو اوروہ کیسے بھولے گا جس کا کوئی وارث نہ بچا ہو۔ان سب کے بعد وہ خاموش رہے تو اپنوں کا مجرم اور دھماکے کرے تو انسانیت کا مجرم۔۔۔ اخر وہ کرے کیا۔
امریکہ 9/11کے ڈرامے کے بعد سے ہزاروں بچوں کو ئتیم،ہزاروں عورتوں کو بیوہ اور ہزاروںلوگوں کو آپاہچ بنا چکا ہے۔ ہمارے حکمران کامریکیوں کے سامنے گُٹھنے ٹیک چکے ہیں ،لاہور میںریمنذ ڈیوس کی من مانی، ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کا ڈرامہ، پاکستانی شہریوں کی بدنام زمانہ جیل گونتناموبے میں موجودگی اور جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملے اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ جو چاہے کر سکتا ہے،اسے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جب تک پاکستانی حکمران جنوبی وزیرستان کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک خیم نہیں کر تے ہے۔تب تک ملک میں امن ممکن نہیں ہے،قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں پر خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے کسی دوسرے حصے پر بھی﴿خدا نہ کرے﴾ ڈرون حملے ہوئے تو حکمران خاموش رہیں گے،اور اگر خاموش نہیں رہیں گے تو قبائلی علاقوں پر خاموش کیوں۔؟ قبائلی علاقوں کے چنگاریوں کو بجھانے کے لئے حکومت کو اسلام آباد اور قبائلی علاقہ جات میں فرق مٹانا ہوگا۔ اور ملک کے تمام حصوں کو ایک ترازو میں تولنا ہوگا۔