شہ سرخیاں
Home / فیصل اظفر علوی / جنگل کا دستور

جنگل کا دستور

سنا ہے جنگلوں میں بھی کوئی دستور ہوتا ہے جسے جنگل کا دستور کہا ہے اور جنگل کا یہ دستور بہت مشہور دستور ہے، ہم اپنی روز مرہ زندگی میں یہ جملہ استعمال کرتے ہیں کہ پاکستان میں ’’جنگل کا دستور‘‘ رائج ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، جنگل کا دستور تو پھر بھی کوئی’’ دستور‘‘ ہوتا ہے جبکہ وطن عزیز میں رائج دستور جنگل کے دستور سے بہت مختلف ہے، وطن عزیز کا دستور ، لنگڑا دستور، کالا دستور، اندھا دستور، نرالہ دستور، مردہ دستور اور فرعونی دستور کا عین پرتو ہے، جنگل کا دستور وطن عزیز کے دستور سے ہزار درجے بہتر ہے کہ جنگلوں میں جانور مشکلات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں، جنگلی جانوروں کے دکھ سکھ سانجھے ہوتے ہیں، جنگل پر اگر کوئی مصیبت آن پڑے تو تمام جانور مل کر اس کا مقابلہ کرتے ہیں، جنگل میں اگر کوئی جانور مر جائے تو پورا جنگل سوگ میں ڈوب جاتا ہے، جنگل میں اگر کوئی باہر سے آکر حملہ کرے تو جنگل کے تمام جانور اس حملہ آور کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں، جنگل میں اگر کوئی طوفان آجائے تو جانوروں کا باہمی اتفاق دیدنی ہوتا ہے، غرض جنگل کا دستور واقعی کوئی دستور ہوتا ہے، پاکستان کا تو دستور نرالہ ہے، پاکستان کے دستور میں ڈاکٹریٹ کی جعلی ڈگری رکھنے والے نامور وکیلوں کو ’’ڈاکٹر‘‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے،آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔! پاکستان میں ’’لیموزین‘‘ پرسیر کرنے کیلئے لاکھوں روپے تو خرچ کئے جاسکتے ہیں مگر کسی غریب کے منہ میں نوالا نہیں ڈالا جاسکتا، پاکستان میں خصوصی طور پر لاکھوں روپے خرچ کرکے ’’سری پائے‘‘ تو کھائے جاسکتے ہیں مگر کسی غریب کی بیٹی کی شادی نہیں کروائی جا سکتی، پاکستان میں ’’دو گھروں‘‘ کے ’’باغیچوں‘‘ پر کروڑوں روپے تو خرچ کئے جاسکتے ہیں مگر غریب لوگوں کے آشیانے آباد نہیں کئے جاسکتے، پاکستان میں لاکھوں روپے کی شراب تو پی جاسکتی ہے مگر کسی پیاسے کو پانی نہیں پلایا جاسکتا، پاکستان میں ’’مردہ‘‘ لوگوں کی سالگرہ پر لاکھوں روپے تو خرچ کئے جاسکتے ہیں لیکن زندہ لوگوں کو مردہ ہونے سے بچانے کیلئے ایک روپیہ بھی نہیں خرچ کیا جاسکتا، پاکستان میں غریب کو چوری کرنے پر برسوں قید میں تو ڈالا جاسکتا ہے مگر اربوں روپے کے سرعام ڈاکے ڈالنے والوں کو سزا نہیں دی جاسکتی، پاکستان میں ظاہری شان و شوکت کو برقرار رکھنے کیلئے غریب کو مارا تو جاسکتا ہے لیکن ’’پروٹوکول‘‘ نہیں ہٹایا جاسکتا، پاکستان میں اربوں تو ڈکارے جاسکتے ہیں مگر غریب پانچ روپے بھی نہیں کھا سکتا، پاکستان میں خلاف فیصلہ آنے پر عدلیہ کو تو ہٹایا جاسکتا ہے مگر غریب کو انصاف نہیں دلایا جاسکتا، پاکستان میں موچی پر تو ٹیکس لگایا جاسکتا ہے مگر جاگیر داروں پر ٹیکس نہیں لگایا جاسکتا، ایسے میں پاکستان کادستور جنگل کا دستور کیسے ہو سکتا ہے؟ جنگلوں کا تو دستور اعلی ہے، پاکستان کا دستور کالا ہے۔
ایسے د ستور کو ، صبح بے نور کو
میں نہیں جانتا، میں نہیں مانتا
ہمارے ملک میں اگر کسی کو اپنے بے گناہ عزیز یا رشتہ دار سے ملاقات کیلئے بھی جیل جانا پڑے تو اس کو بھی سو یا دو سو روپے رشوت ادا کرنی پڑتی ہے، کسی افسر سے جائز کام کروانا تو دور کی بات، بات کرنے کیلئے بھی رشوت ادا کرنی پڑتی ہے، اگر کسی شہری نے اپنے حق کو جتانا ہو تو اس کیلئے بھی ’’چائے پانی‘‘ کا خرچہ برداشت کرنا پڑتا ہے، ایسے میں ہمارا دستور کیسے جنگل کا دستور ہوسکتا ہے، جنگل میں تو ایسا نہیں ہوتا، ’’چائے پانی‘‘ اور ’’مٹھائی‘‘ جیسے اخراجات زیادہ تر پولیس کے محکمے میں ہوتے ہیں جو کرپشن میں اپنی مثال آپ ہے، سیکیورٹی کے نام پر جابجا لگائے گئے ناکوں پر عوامی خدمت گزار ’’پولیس کا ہے فرض، مدد آپ کی‘‘ کے مصداق خلوص نیت اور سچے دل سے عوام کی ’’خدمت‘‘ کرنے میں دن رات مصروف ہیں ’’خدمت‘‘ کرنے کے جذبے کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے اور بیچارے پولیس والے روزے کے ساتھ عوام کی ’’خدمت‘‘ کرتے ہیں، عموماََ ’’خدمت‘‘ رات کے وقت کی جاتی ہے کیونکہ رات کا وقت ہوتا ہی خدمت کیلئے ہے، ایسے میں ہمارا دستور= جنگل کا دستور؟ جنگل میں تو راتوں کو ایسی ’’خدمت‘‘ نہیں ہوتی، وطن عزیز پاکستان میں جو انسان جس پیشے سے وابستہ ہے وہ اپنے پیشے کے ساتھ صحیح معنوں میں انصاف کررہا ہے، قانون، قانون کی عزت کو تار تار کررہا ہے، قانون بنانے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں گھس کر قانون کے رکھوالوں کے منہ پر تھوک کر چلے جاتے ہیں اور قانون دور بیٹھا ہنستا رہتا ہے، ڈاکٹر ’’مسیحائی‘‘ کے پیشے کا آپریشن کرنے میں مصروف ہیں، اساتذہ ’’پیغمبری‘‘ پیشے کی دُرگت بنانے میں مصروف ہیں، مورخ تاریخ کا ’’بینڈ‘‘ بجا رہے ہیں، عالم جاہل کا کردار ادا کررہے ہیں، سیاستدان خباثت دان کا کردار ادا کر رہے ہیں، محافظ اپنے لوگوںکا خون بہا رہے ہیں جبکہ دشمنان اسلام و پاکستان ان سب حالات پر خوشیاں منا رہے ہیں، ایسے میں ہمارا دستور جنگل کے دستور سے بہتر کیسے؟ وہاں تو یہ سب ’’نیک کام‘‘ نہیں ہوتے، خدایا۔۔۔۔۔۔! ہمارے ملک میں اب جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کردے۔
سنا ہے!
جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے!
شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا
سنا ہے!
ہوا کے تیز جھونکوں میں ’’مینا‘‘ اپنے گھر کو بھول
کر کوے کے انڈوںکو اپنے پیروں میں تھام لیتی ہے
سنا ہے!
گھونسلے سے جب کوئی بچہ گرے تو
سارا جنگل جاگ جاتا ہے
سنا ہے!
سیلاب آجائے تو لکڑی کے تختے پر
سانپ، چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں
منصفو۔۔۔!
میرے ملک میں بھی اب جنگلوں کا
کوئی دستور لے آئو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

About admin

Scroll To Top