شہ سرخیاں
Home / غازی شاہد رضا علوی / ایکسین مافیا

ایکسین مافیا

وطن عزیز پاکستان جسکی بنیاد ’’ پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہ الا اللہ‘‘ کے انتہائی مضبوط ستونوں پر رکھی گئی جس کی بنیادوں میں لاکھوں شہدائ کا لہو شامل ہے، جس کے حصول کیلئے ہمارے بزرگوں نے اپنے تن، من، دھن کی بازی لگا دی، اس لئے کہ عزت و آبرو اور آزادی کے ساتھ سر بلندی اسلام کیلئے باوقار انداز کے ساتھ مسلمانان ہند، حقوق العباد اور حقوق اللہ کو حضرت محمد(ص) کے بتائے ہوئے بپترین ضابطہ حیات کے مطابق احسن طریقے سے ادا کر سکیں، جہاں کسی کی حق تلفی نہ ہو، بلکہ بھائے چارے کی کی فضائ میں معاشرہ ایک روشن مثال بن کر پروان چڑھ سکے،، مگر اپنے قیام کے فوری بعد ہی معمار وطن حضرت قائد اعظم کی رحلت بعد بد قسمتی سے نوزائیدہ پاکستان وطن دشمن غدار عناصر کے ہاتھ چڑھ گیا جنہوں نے اس ملک کے بخیے اُ دھیڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور قیام سے لیکر آج تک اسے گِدھوں کی طرح نوچ نوچ کر کھاتے رہے، جس کو روندنے اور براباد کرنے میں ہر شعبہ ہائے زندگی کے تمام عناصر نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس کے معصوم اور بھولے بھالے عوام کو یرغمال بنا کر رکھ دیا اور کرپشن کی ایسی داستان رقم کی کہ دنیا ورطہ حیرت میں گنگ ہو کر رہ گئی، ان داستانوں کو وقتاََ فوقتاََ میڈیا نے خبروں کے ذریعے عوام تک پہنچایا مگر ہمیشہ کی طرح محاسبے کی بجائے ایک دورسے کا پردہ رکھ کر معاملہ گول کر دیا جاتا ہے، کیونکہ کرپشن کے اس حمام میں سبھی ننگے ہیں، بلکہ ننگے پن میں بے شرمی کی تمام حدیں پھلانگ چکے ہیں، کرپشن کے بدنام زمانہ چیمپیئنز کے درمیاں ایک طبقہ ورکس ڈیپارٹمنٹس کے ایکسین حضرات کا بھی ہے، جن کے ذمے اس ملک کی تعمیر و ترقی کا کام ہے، مگر تعمیر و ترقی کی آڑ میں کمال جعلسازی کے ساتھ شرافت کے لبادے میں اس ملک کو دونو ں ہاتھوں کے ساتھ لوٹ لوٹ کر جتنا ایکیسن مافیا نے کھایا ہے اتنا شیاد ہی کسی اور نے کھایا ہوِ، ایکسین مافیا کرپشن اس صفائی سے کرتا ہے کہ اس طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا، گویا مہذب ڈاکو کا روپ دھارے بیدردی سے وطن عزیز کی جڑوںکو دیمک کی طر ح کھایا جا رہا ہے اور ان یک سیاہ کارناموں کی بدترین مثالیں بھری پڑی ہیں، گویا تعمیراتی منصوبوںکا آغاز ہی بد عنوانی سے کیا جاتا ہے، ابتدائی اسٹیبلشمنٹ سے لیکر آخر تک مطلوبہ لاگت سے کہیں زیادہ رقم مختص کی جاتی ہے تا کہ کھل کر کھانے کا موقع ملے، پھر اسی پر بس نہیں کی جاتی بلکہ ناقص، غیر معیاری اور گھٹیا ترین میٹریل کے استعمال سے روڈ یا بلڈنگ کا بیڑا غرق کر دیا جاتا ہے جو کہ اپنی تعمیر کے بعد کچھ ہی مہینوں میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے، انسان کے فطرتی لالچ کے پیش نظر قبل از تقسیم برصغیر پاک و ہند میں C+W ڈیپارٹمنٹ کے قیام کے ساتھ ہی تمام متعلقہ انجینئرز کا کمیشن مقرر کردیا گیا تھا تا کہ وہ دلجمعی سے کام کریں، برسہا برس گزر جانے کے بعد بھی انگریزوں کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق ہی آج بھی کام جاری و ساری ہے، لیکن لالچ کے اندھے پن نے ایکسین مافیا اور متعلقین اسی ڈی اوز، سب انجینئرز، سبھی اس حمام میں ننگے ہیں، بلکہ اب تو اس بہتی گنگا میں اوپر سے موجود ایس ای، چیف انجینئر، چیف سیکرٹری اور سیاسی شخصیات بھی مستفید ہونے لگی ہیں، تبادلوں کیلئے سیٹیں کروڑوں میں بکنے لگی ہیں، ایسے میں جب اندھا دھند بندر بانٹ ہو گی تو کام بھی اسی معیار کے ہونگے، جس کی ایک مثال کراچی میں اربوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے شیر شاہ پل کی ہے جو اپنی تعمیر کے کچھ عرصہ بعد گر گیا اور بے شمار قیمتی جانیں بھی ساتھ لے گیا اور قومی خزانے کا کثیر لاگت نقصاں ہوا جس پر تعمیرات کمپنی کو بلیک لسٹ قرار دے دیا گیا مگر بد نصیبی کی انتہا دیکھئے اس ناقابل بھروسہ کنسٹرکشن کمپنی کو اسلام آباد میں زیرو پوائنٹ انٹر چینج کا ٹھیکہ دے دیا گیا، جس نے بے ضابطگیوں اور بے عنوانیوں کی انتہا کردیا اور ایسی بے ڈھنگی چال سے انٹر چینج کی تعمیر شروع کی جس میں ابتدائ ہی سے بہت سی خامیاں موجود تھیں، اپنی مطلوبہ لاگت سے کہیں زیادہ لاگت میں تیار ہونے والا یہ انٹر چینج اپنی تعمیر کے مکمل ہونے کے فوری بعد جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگا، سڑکوں پر گڑھے پڑ گئے، بیم اور پلرز بیٹھنے لگ گئے، اور ایسا لگتا ہے کہ شاید ہی کچھ عرصہ میں یہ بھی کراچی کے شیر شاہ پل کی طرح منہدم ہو جائے گا، زہے نصیب آپ کو ہمسایہ ملک چین کے دو واقعات سناتا ہوں، ایک مرتبہ چین میں ایک طالب علم نے ایڈیٹر کی ڈاک میں خط لکھا کہ نئی تعمیر ہونے والی سڑک جگہ جگہ سے بیٹھ گئی ہے جس میں بارش کی وجہ سے پانی جمع ہو گیا ہے اور انہیں سکول جانے کیلئے وہاں سے گزرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے نا صرف ان کے کپڑے خراب ہوتے ہیں بلکہ انہیں شدید دشواری کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے وہ اخبار چیئرمین چائنہ مائو زے تنگ کی نظر سے گزرا تو مائو زے تنگ اپنی سائیکل پر سوار ہو کر موقع پر پہنچ گیا، جگہ کا جائزہ لیا، واقع ہی بات سچی تھی اور گزرے والوں کو دشواری کا سامنا تھا، مائو نے اسی جگہ پر اپنا کیمپ آفس لگایا اور روڈ بنانے والے تمام متعلقہ ہائی وے انجینئرز کو طلب کر لیا، جان چھڑوانے کیلئے ہائی وے انجینئرز نے مختلف توضیحات پیش کیں، حتیٰ کہ کچھ نے کہا کہ جناب نیچے زمین نرم ہے جس کی وجہ سے سڑک بیٹھ گئی ہے، مائو نے کہا کہ زمین کی فوری طور پر کھدائی کی جائے اور مٹی کے ٹیسٹ کئے جائ] ]>

x

Check Also

فراش

پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ملک کی اقتصادی اور معاشی حالت کو ...

ملک و قوم کی سلامتی کا واحد راستہ

پاکستان کے سٹریٹجک پروگرام کے بارے میں بے بنیاد پروپیگنڈا، وکی لیکس ...

روحانی تدارک

پاکستانی عوام منظّم قوم بننے کی بجائے ایک ہجوم بن گئے، لسانی، ...

سیاسی ووڈ

پاکستانی عوام کی طرف سے میڈل ملنے کے بعد ’’خادم پاکستان‘‘ وزیر ...

ایکسین مافیا

وطن عزیز پاکستان جسکی بنیاد ’’ پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہ ...