شہ سرخیاں
Home / کھیل / 2011کا سال پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے خوش قسمت سال رہا

2011کا سال پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے خوش قسمت سال رہا

2011ء کا سال پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے خوش قسمت سال رہا۔ اس سال پاکستان نے تینوں نے فارمیٹ میں عمدہ کھیل پیش کیا جبکہ ورلڈکپ کے سیمی فائنل تک رسائی قومی ٹیم کا بڑا کارنامہ رہا۔ پاکستان نے 2011ء میں 10ٹیسٹ میچز کھیلے جس میں 6میں پاکستان فاتح رہا ، ایک میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور 3میچز ہار جیت کے بغیر اختتام پذیر ہوئے، سال بھر پاکستان کی کامیابی کا تناسب 66فیصد رہا جبکہ پاکستان سے بہتر تناسب 75فیصد صرف انگلش ٹیم کا ہے ، یوں پاکستانی ٹیم فتوحات کے حوالے سے دوسرے نمبر پرہے۔ ایک روزہ میچز میں 32میچز کھیلے ، 24میں ٹیم کامیاب رہی جبکہ 7میں شکست ہوئی اور ایک میچ بارش کی نذر ہوگیا۔ پاکستان کی جیت کا تناسب 77فیصد ہے اور یہ سال بھر 10سے زائد ون ڈے کرکٹ کھیلنے والی ٹیموں میں سب سے بہترین تناسب ہے۔ ٹی ٹونٹی مقابلوں میں پاکستان نے پانچ مقابلوں میں حصہ لیا جہاں چار میں جیت نصیب ہوئی ، ایک میں شکست ہوئی ۔2011ء میں پاکستان نے جنوری میں نیوزی لینڈ کیخلاف پہلی ٹیسٹ سیریز کھیلی جہاں دو میچز کی سیریز میں پاکستان ایک صفر سے فاتح رہا۔ یہاں ہونیوالی ون ڈے سیریز میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو3-2سے شکست دیکر ٹرافی جیتی۔ مئی میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کیخلاف دو میچز کی ٹیسٹ سیریز کھیلی اور یہ سیریز ایک ایک سے ڈرا ہوگئی۔ویسٹ انڈیز میں ہونیوالی ون ڈے سیریز بھی پاکستان نے 3-2سے اپنے نام کی۔ستمبر میں پاکستان نے زمبابوے کیخلاف واحد ٹیسٹ میچ کھیلا جہاں پاکستان کامیاب رہا جبکہ یہاں ہونیوالی تین میچز پر مشتمل ون ڈے سیریز میں بھی پاکستان میزبان ٹیم کو کلین سوئپ شکست دی جبکہ اس سے قبل مئی کے آخر میں پاکستان نے آئرلینڈ کیخلاف دو ون ڈے میچز کی سیریز میں یکطرفہ کامیابی حاصل کی۔نومبر و اکتوبر میں پاکستان یواے ای میں سری لنکا کیخلاف تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں حصہ لیا جہاں پاکستان نے نوسال کے طویل عرصہ بعد سری لنکا کیخلاف ایک صفر سے کامیابی حاصل کرکے ٹیسٹ سیریز اپنے نام کی۔یہاں ہونیوالی ون ڈے سیریز میں پاکستان نے لنکن ٹائیگرز کو 4-1کے وسیع مارجن سے شکست دیکر اپنی برتری برقرار رکھی جبکہ ابوظہبی میں ہونیوالے اولین ٹی ٹونٹی میچ میں بھی پاکستان نے سری لنکا کو آؤٹ کلاس کردیا۔ سال کے آخرمیں پاکستان نے بنگلہ دیش کا رخ کیا اور دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں میزبان ٹیم کی ایک بھی نہ چلنے دی اور کلین سوئپ مکمل کیا جبکہ تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی بھاری مارجن سے جیت کر ایک اور کلین سوئپ اپنے حصہ میں درج کرایا۔ فروری میں سری لنکا ، بھارت اور بنگلہ دیش میں ہونیوالے ورلڈکپ میں پاکستان نے آٹھ میچز میں حصہ لیا جہاں قومی ٹیم کو صرف دو میچز میں شکست ہوئی۔ پہلی شکست راؤنڈ معرکے میں نیوزی لینڈ کیخلاف ہوئی جبکہ دوسری شکست بھارت کیخلاف سیمی فائنل میں ہوئی۔ پاکستان نے آسٹریلیا جیسی ناقابل شکست ٹیم کو راؤنڈ میچ میں ہراکر کینگروز کی لگاتار 34فتوحات کو بریک بھی لگا دی۔
کرکٹ بورڈ کے حوالے سے 2011ء تبدیلی کا سال رہا۔ پی سی بی کے متنازع چیئرمین اعجاز بٹ اکتوبرمیں عہدہ ختم ہونے کی صورت میں اپنی ذمہ داریوں سے سبگدوش ہوئے اور ان کی جگہ چوہدری ذکاء اشرف نے ذمہ داریاں سنبھالیں جبکہ قومی ٹیم کے کامیاب ترین کوچ وقاریونس نے بیماری کی وجہ سے اپنی ذمہ داریوں سے استعفیٰ دیا۔ پی سی بی نے ڈسپلن خلاف ورزی پر شاہد آفریدی کو تین ماہ تک ٹیم سے دور رکھا اور ان کی ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کی قیادت واپس لیکر مصباح الحق کو سونپی جبکہ محسن خان قومی ٹیم کی عبوری کوچ تعینات ہوئے۔2011ء میں پاکستان کرکٹ کو سب بڑا دھچکا محمد عامر، آصف اور سلمان بٹ کی برطانوی کورٹ کی جانب سے سزا کے دور ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ اکتوبر کے وسط میں برطانوی کراؤن کورٹ نے لارڈز میں سپاٹ فکسنگ کرنے والے تین پاکستان کرکٹر کو قیدکی سزا سنائی۔ مجموعی طور پر پاکستان نے 2011ء میں پانچ ٹیسٹ سیریز کھیلیں جن میں سے چار سیریز جیتیں اور ایک سیریز ڈرا ہوگئی اور 6ون ڈے سیریز کھیلیں اور تمام سیریز اپنے نام کیں جس کے بعد اگر یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ 2011ء پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے خوش قسمت ترین سال رہا ۔
انفرادی کارکردگی کے حوالے سے2011ء لاہور سے تعلق رکھنے والے دو قومی ہیروز کرکٹ امپائرعلیم ڈار اورٹینس سٹار اعصام الحق کیلئے شاندار رہا۔ علیم ڈار نے لگاتار تیسری بار آئی سی سی امپائرآف دی ائیر کا ایوارڈ جیتا ۔شائقین نے 2012ء میں پاکستان ہاکی ٹیم سے لندن اولمپکس اور کرکٹ ٹیم سے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں فتح کی امیدیں وابستہ کر لی ہیں جبکہ کھیلوں کے منتظمین پرامید ہیں کہ چینی ہاکی ٹیم کے دورہ پاکستان سے غیرملکی ٹیموں کی آمد کا شروع ہونیوالا سلسلہ دوہزار بارہ میں وسیع پیمانے پر طول پکڑے گا۔

x

Check Also

وقار یونس آج اپنی46 ویں سالگرہ منارہے ہیں

اسلام آباد(سپورٹس نیوز)ماضی کے عظیم فاسٹ بالر اور بورے والا ایکسپریس کہلانے ...

Connect!