شہ سرخیاں
Home / انور عباس انور / دو نومبر۔۔۔کس کی جیت اور کس کی ہار؟؟
loading...
دو نومبر۔۔۔کس کی جیت اور کس کی ہار؟؟

دو نومبر۔۔۔کس کی جیت اور کس کی ہار؟؟

anwar-abas-logoآج شہرکے مختلف مقامات پر خاص طور پر گیا تاکہ جان سکوں کہ ہمارے عوام جنہیں ایلیٹ کلاس گنوار ،ان پڑھ اور جاہل کہتی نہیں تھکتی ملک کے موجودہ حالات کو کیسے دیکھتے ہیں اور کیا سوچتے ہیں،کیا واقعی ہمارے اخبارات پاکستان کی آبادی کے اس بڑے حصے کی سوچ کی ترجمانی کرتے ہیں؟ اور الیکٹرانک میڈیا پر بیٹھے اینکرز، تجزیہ نگار کے تجزیے انکی رائے کے عکاس ہوتے ہیں؟ مہنگائی اور حکومتوں کی مقبولیت کے حوالے گاہے بگاہے جاری ہونے والے سروے حقیقی صورتحال کی نمائندگی کرتے ہیں یا پھر مخصوص مقاصد کے تحت عوام کی سوچ میں تبدیلی لانے کے لیے ’’گھڑے ‘‘جاتے ہیں ان مقاص کو لے کر میں سب سے پہلے شہر کے بیوٹی سیلون ( گاؤ ں اور قصبوں میں حجام کی دوکان ) پر حجامت کے لیے گیا تو وہاں آٹھ نو افراد پہلے سے موجود تھے جن میں چار پانچ بزرگ بھی تھے اور ایک خوبصورت سا حقہ بھی ان کے درمیان موجود تھا شہر کے اس سیلون کی خاص بات یہاں حقہ کی موجودگی ہے، بزرگ لوگ داڑھی منڈوانے اور خط کروانے اور بال کٹوانے کے لیے اس دوکان کا انتخاب اس لیے کرتے ہیں کہ ایک ٹکٹ میں دو مزے لے لیے جائیں گے، حجامت بھی بنوا لیں گے اور حقے کی واریاں بھی لگا لیں گے۔۔۔حجام اور اسکا شاگرد شیو اور بال کا ٹنے میں مگن تھے ، بزرگ باری باری حقے کے کش لیتے اور حقہ آگے کی طرف بڑھا دیتے۔اخبار کے مطالعہ میں مصروف ایک محنت کش نے حجام سے کہا کہ استاد جی ذرا جلدی جلدی کریں ، جس پر حجام نے جواب دیا کہ کیا تم نے عمران خاں کے (ڈرامے کے شو)دھرنے میں جانا ہے؟ نہیں استاد جی وہاں ہم جیسے غریبوں کا کیا کام؟وہاں جائیں وہ لوگ جنہوں نے وزیر شزیر بننا ہے۔
جب میں نے محسوس کیا کہ میری باری آنے میں کافی دیر لگے گی تو میں نے جلدی کی آواز لگانے والے سے پوچھا کہ آپ کو اس قدر جلدی کیوں ہے؟ تو وہ گویا ہوا کہ میں ایک مزدور ہوں دیہاڑی کرکے اپنے گھر کا نظام چلاتا ہوں اگر آج دیہاڑی نہ لگی تو میرے لیے مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔ اس لیے استاد کا ترلا کر رہا تھا،ابھی میری بات ختم نہیں ہوئی تھی کہ حقے کا لمبا کش لگاتے ہوئے ایک ادھیڑ عمربزرگ نے لقمہ دیا کہ سب ایک جیسے ہیں ان میں کوئی فرق نہیں، با نواز شریف بندے کا پتر ہے اور نا عمران خاں مکے سے آیا ہوا ہے، ایک اور بابا جی بولے کہ اگر وزیریا ممبر بن کر اپنے مال و دولت کے انبار نہیں لگانے تو پھر انتخابات میں حصہ لینے کا کیا فائدہ؟ گھر گھر ،گلی گلی قریہ قریہ ،گاؤں گاؤ ں کی خاک چھاننے اور بندے بندے کی باتیں سننے سے بہتر ہے کہ بندہ’’ مسیت مل‘‘ لے اور اللہ اللہ کرکے اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارے۔
جب میں نے یہ محسوس کیا کہ یہاں میری باری جلدی نہیں آنے والی تو میں نے وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا اور جب دوکان ( حمام ) سے باہر نکلنے لگا تو ایک حقہ پیتے بابے نے کہا کہ نہ جا پتر تو میری باری لے لے ہمارا کیا ہے ہم پھر خط وط کروا لیں گے ہم نے تو سارا دن یہیں بیٹھے رہنا ہے اور پوری دنیا کی سیاست کھیلنی ہے، اتنی دیر میں حجام نے بھی مجھے کہا کہ آؤ جی کرسی سنبھالو اور اپنی باری پکی کرو۔۔۔کرسی اور باری پکی کرنے کی بات سن کر ایک ینگ مین بولا کہ ’’میاں جی جان دیو ساڈی واری آن دیو‘‘اس پر ایک اور آواز ابھری ’’رہنے دے پہلواناں گاؤ ں کی کرکٹ تجھ سے کھیلی نہیں جاتی اور نا ہی تو آج تک ساتھ والے گاؤں کے بلاول بھٹی کو آوٹ کرسکا ہے حالانکہ ہر بار تو یہی دعوی کرتا ہے کہ اس بار میں اسے پہلی بال پر ہی بولڈ کروں گا۔‘‘ اس نوجوان کی باتوں سے پتہ چلتا تھا کہ یہ عمران خاں کا ’’بلے باز‘‘ ہے۔
حجامت بنواکر میں نواحی گاؤں سامولانہ میں ملک حاجی عابد ڈھکو کے ڈیرے پر پہنچا ، جہاں انکے بھتیجے اور ملک عباس ڈحکو کے جواں سال بیٹے کے انتقال پر فاتحہ پڑھنی تھی ، کہتے ہیں ناں کہ بندہ خوشی میں شریک ہونے سے رہ جائے تو رہ جائے مگر غمی سے پیچھے نہ رہے یہی سوچ کر میں گاؤں میں یا دوست احباب اور عزیز و اقارب کے غم میں برابر شریک ہوتا ہوں، فاتحہ کہی مرحوم کی بخشش کے لیے دست دعا بلند کیے اور مرحوم کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا تو صف غم پر موجود بہت سارے ا لوگ اخبارات کے مطالعہ میں مگن تھے، ایک صاحب خبر پڑھتے اور پھر اس پر خود ہی تبصرہ فرماتے، اس سے پوچھا گیا کہ کیا خبر ہے، تو اس نے جواب دیا کہ وہی رونا دھونا ہے خیر کی کیا خبر ہونی ہے نواز شریف اور ان کی جماعت کے لوگ آصف زرداری اور عمران خان کو چور چکا کہتے ہیں تو عمران خاں اور اسکے ساتھی نواز شریف اور اسکے وزرا کو سکیورٹی رسک قرار دے رہے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی والے خود کو دودھ سے دھلا ہوا ثابت کرنے پر بضد ہیں، بلاول نواز شریف اور عمران کاں دونوں کو چاچا بھی کہتا ہے اور انہیں برا بھی گردانتا ہے ، ابھی اس کی بات جاری تھی کہ ایک مسلم لیگی جو یونین کونسل کا چئیرمین منتخب ہوا ہے فاتحہ کے لیے پہنچا ،دعا اور تعزیت کے بعد میں نے ان سے دریافت کیا کہ ’’چئیرمین صاحب کب برسراقتدار آ رہے ہیں‘‘ میرا دھیان ان کے ہونٹوں کی طرف تھا اور ان کے حرکت میں ٓانے کا منتظر تھا کہ ایک موصوف بولے کہ’’ حکومت خود نہیں چاہتی کہ یہ لوگ بلدیاتی اداروں کا انتظام سنبھالیں،چئیرمین صاحب اس بات کی نفی کرتے رہے لیکن بہت سے لوگوں نے چئیرمین صاحب کے موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔یہاں بھی اسلام آباد کی صورتحال زیر بحث رہی، کچھکا موقف تھا کہ عمران خاں درست کر رہا ہے جب کہ کچھ اس رائے کے مخالف رائے رکھتے تھے۔ایک صاحب نے کہا کہ عمران خاں ناچ گانے کی محفل سجاتا ہے، لیکن ایک صاحب نے کہا کہ اب تو سب پارٹیاں اسی دگر پر چل نکلی ہیں خواہ وہ پیپلز پارٹی ہو ،مسلم لیگ ہو یا قاف لیگ حتیکہ جماعت اسلامی کے جلسوں میں بھی ’’ ڈیک پر ترانے اور نغمے‘‘ گونجتے ہیں۔لوگ ناچتے اور جومتے ہیں۔
برج اٹاری لاہور سے دس پندرہ کلو میٹر پر واقع ہے وہاں ایک پرانے سیاسی اور سماجی کارکن چودہری برکت علی دھوتا کے بھتیجے ہمایوں اشرف کے آفس کچھ دیر ٹھہرنا ہوا وہ تابعدار نوجوان ہے اپنے باپ اور تایا کی طرح بڑا وضعدار ہے ، باتوں باتوں سے پتہ چلا کہ ہمایوں اشرف شوشلسٹ پارٹی کے سربراہ چودہری سی آر اسلم سے بڑی نیاز مندی رکھتا ہے، بات چل نکلی اور اسلام آباد کے دھرنے کے اختتام ہونے پر ختم ہوئی ہر طرف سے عمران خاں کو ہدف تنقید بنایا گیا ،کہا گیا کہ جب کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر دھرنا ختم کرنا ہوتا ہے تو کیوں لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کیا جاتا ہے، دھرنا تو اکیلا عمران خاں بھی دے سکتا ہے، چودہری حمید بھٹی نے کہا کہ ملک غلام جیلانی( معروف وکیل) عاصمی جہانگیر کے والد اکیلے ہی اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرتے تھے، حکومت انہیں گرفتار کر لیتی تھی اور ملک غلام جیلانی کہا کرتے تھے کہ گرفتاری سے ان کے لانگ مارچ کے مقاصد حاصل ہو گئے ہیں۔۔۔ لیکن عمران خاں دونوں دھرنوں میں کچھ بھی حاصل نہ کرپایا ہے۔ایک سیانے نے لقمہ دیا کہ ’’جناب ہارے دا ناں ہیرا تے جتے دے سر جتیاں‘‘
یہ ساری گفتگو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہمارے عوام سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں سے بیزار ہیں، میرے خیال میں اسلام آباد میں نہ کسی کی ہار ہوئی ہے اور نہ کوئی فاتح ٹھہرا ہے، جیت ہار کا فیصلہ کچھ دیر کے لیے ملتوی ہوا ہے، اب اس کا دارومدار پانامہ پیپرز کے عدالتی فیصلے پر منحصر ہے۔

note

Share Button
loading...
loading...

About admin

loading...
Scroll To Top