شہ سرخیاں
Home / غازی شاہد رضا علوی / ملک و قوم کی سلامتی کا واحد راستہ

ملک و قوم کی سلامتی کا واحد راستہ

پاکستان کے سٹریٹجک پروگرام کے بارے میں بے بنیاد پروپیگنڈا، وکی لیکس کے ذریعے پاکستانی حکام، پاک فوج اور خصوصاََ آئی ایس آئی کو بے وقار، بے عزت اور بے توقیر کرنے کا ٹاسک خود سونپ کر خفیہ ویب سائٹ سے ہزاروں اہم فائلوں کے چوری ہونے کا ڈرامہ رچا کر اقوام عالم بالخصوص پاکستانی قوم کو حیران و پریشان کردیا، انکل سام کی وکی لیکس کے ذریعے دوسرے ممالک کے راز افشائ کرنا محض ایک فریب ہے، در اصل وہ اپنی ساری نظر ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر مرکوز کئے ہوئے ہے جو اس کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتا ہے اور دنیا بھر میں یہ واویلا کرنے میں مصروف ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر طالبان اور القاعدہ قبضہ کرکے دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالنے والے ہیں اور آئی ایس آئی کے طالبان سے خصوصی روابط ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دینے والی پاکستان کی مسلح افواج جس نے جہاندیدہ جرنیل چیف آف آرمی سٹاف اشفاق پرویز کیانی کی قیادت میں جو عظیم خدمات سر انجام دی ہیں ان سب کو پس پشت ڈال کر فوج اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کرنے، پاک فوج اور آئی ایس آئی پر قدغن لگانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ رکھا گیا، دراصل مغربی ممالک اور سی آئی اے پوری طرح سے آگاہ ہیں کہ جب تک روس جیسی سپر پاور کا قلع قمع کردینے والی آئی ایس آئی جس نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو مقدم رکھتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف حکمت عملی کے ساتھ کامیاب کاروائی کرتے ہوئے دہشتگردی کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، جس پر دنیائے مغرب انگشت بددنداں رہ گئی، اس آئی ایس آئی کو جب تک وہ اپنے راستے سے نہیں ہٹا دیتے تب تک وہ پاکستان اور عالم اسلام پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے اور ایسا ہونا آئی ایس آئی کے موجودہ چیف لیفٹنٹ جنرل شجاع احمد پاشا جیسے قابل ترین اور محب وطن جرنیل کی موجودگی میں انتہائی مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے اور اسی وجہ سے سی آئی اے اور اہل مغرب نے لیفٹنٹ جنرل شجاع احمد پاشا کی مدت ملازمت میں توسیح کی بھرپور مخالفت کی، الغرض تمام تر کٹھن اور نا مساعد حالات کے باوجود پاک فوج اور آئی ایس آئی اندرونی و بیرونی محاذوں پر پھیلائے گئے خلفشاروں کے خلاف نبرد آزما ہے مگر کوئی بھی فوج اس وقت تک مکمل کامیابی حاصل نہیں کرسکتی جب تک اسے بھرپور عوامی تائید حاصل نہ ہو، لیکن خوش قسمتی سے پاکستانی عوام کے دل پاک فوج کے ساتھ دھڑکتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ تیزی سے زوال پذیر ہوتی معیشیت اور شدید مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، روز مرہ کی اشیائے خوردونوش عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتی جارہی ہیں، سرکاری اداروں میں ہوشربا خساروں نے قوم کو بوکھلا کر رکھ دیا ہے، ناقص حکومتی پالیسیوں نے عوام کی معصوم اور چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی چھین لی ہیں، جس سے عوام کے مسائل میں کمی آنے کی بجائے روز بروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے، جبکہ حکمرانوں کو صرف اپنا اقتدار بچانا مقصود ہے، ان حالات میں قوم کو سیاستدانوں پر اب قطعاََ اعتبار نہیں رہا، پاکستانی سیاستدانوں نے ہمیشہ قوم کی معصومیت اور نا سمجھی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار کے حصول کیلئے عوام کے شعور کو بیدار کرنے سے اجتناب کیا، یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک ملک میں کوئی سیکولر جماعت پیدا نہ ہوسکی، جبکہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں جمہوریت کا راگ الاپتے نہیں تھکتیں اور پوری قوم کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے، نفرتوں کے ایسے بیج بوئے جارہے ہیں کہ الامان، الحفیظ۔ یہ ہماری بدنصیبی ہے کہ ہمارے ہم وطنوںکو اپنے پیارے اور مقدس ملک سے پیار نہیں، اس کی عظمت اور نسبت کا خیال بھی نہیں اور سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب ایک معمولی پاکستانی بھی پاکستان کی برائی کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے مفادات کے پیش نظر کوئی واضح روڈمیپ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی عوام میں آج تک بھرپور سیاسی شعور بیدار نہ ہوسکا، جبکہ سیاستدان اس بارے میں بالکل بھی فکر مند نظر نہیں آتے، ایسے میں قوم کی نظر پاکستان کی فوج اور عدلیہ پر ٹہرتی ہے جو کہ پہلے ہی اس ملک و قوم کیلئے اندرونی و بیرونی دیگر کئی طرح کے مسائل پر شدید دبائو کے باوجود اپنا کردار نہایت احسن طریقے سے ادا کررہے ہیں، مگر ان پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملکی آئین کو مد نطر رکھتے ہوئے موقع پرست، خود غرض، بے ایمان، بے شعور، کرپشن اور جہالت سے بھرپور سیاستدانوں سے نجات دلا کر بنیادی تبدیلیوں کے ساتھ عوام کو ترقی کی درست سمت اور شاہراہ پر ڈالیں اور ترقی یافتہ ملکوں کی طرح سخت تبدیلی لاکر سخت جدوجہد کے ساتھ عوام کو ترقی کے سفر پر گامزن کریں اور ہر طرف سے کرپشن کا راستہ مکمل طور پر بند کردیا جائے اور ایسا انقلاب برپا کیا جائے جو کم از کم ایک نسل کو ترقی یافتہ اقوام کی طرح سماجی، علمی، شعوری صورت میں ڈھال دے اور یہ سلسلہ آگے تواتر کے ساتھ چلتا رہے تو با شعور، دیانتدار معاشرہ وجود میں آسکتا ہے جس سے پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک بن کر ابھر سکتا ہے، میرا ایمان ہے کہ قوم کو اگر درست سمت میں ڈال دیا جائے تو پوری قوم رضا کار بن کر اس ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے، ہماری 20 کروڑ عوام آج بھی کام کرنے کا بھرپور جذبۂ ایمانی رکھتی ہے، مگر ان سے ک] ]>

x

Check Also

فراش

پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ملک کی اقتصادی اور معاشی حالت کو ...

ایکسین مافیا

وطن عزیز پاکستان جسکی بنیاد ’’ پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہ ...

روحانی تدارک

پاکستانی عوام منظّم قوم بننے کی بجائے ایک ہجوم بن گئے، لسانی، ...

سیاسی ووڈ

پاکستانی عوام کی طرف سے میڈل ملنے کے بعد ’’خادم پاکستان‘‘ وزیر ...

ایکسین مافیا

وطن عزیز پاکستان جسکی بنیاد ’’ پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہ ...