شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / جنرل راحیل کے بطور آرمی چیف آخری دن اور پروپیگنڈہ
loading...
جنرل راحیل کے بطور آرمی چیف آخری دن اور پروپیگنڈہ

جنرل راحیل کے بطور آرمی چیف آخری دن اور پروپیگنڈہ

sabir mughalجنرل راحیل شریف پاک افواج کے 15ویں سربراہ ہیں جن کی مدت ملازمت اسی ماہ ختم ہورہی ہے ،ان کی بطور آرمی چیف ریٹائرمنٹ پر آج بھی شکوک و شبہات پیدا کئے جا رہے ہیں ،روزانہ کی بنیاد پر میڈا کی زینت بننے والے حکومتی ارکان اس حوالے سے کوئی نہ کوئی نیابیان داغ دیتے ہیں حالانکہ ان کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔اپنی سیاسی یا کرپشن کی جنگ میں بھی ہر کوئی انہیں شامل کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ بلا وجہ انہیں ایمپائر کا خطاب دے کر ان کی تضحیک کی جاتی رہی ہے مگراپنی دھن میں پکے اور صحیح پیشہ ور سپاہی کی طرح انہوں نے ان پیچیدہ اور خود ساختہ تمام معاملات سے خود کو الگ رکھا۔گجرات دھرتی کا یہ سپوت جو 16جون1956کو کوئٹہ میں پیدا ہوا تب ان کے والد محمد شریف بھٹی بطور میجر وہاں تعینات تھے،شہداء کے خاندان سے تعلق رکھنے والے راحیل شریف 54ویں لانگ کورس سے فارغ التحصیل ہیں انہوں نے فرنٹیئر فورس کی رجمنٹ کی6thبٹالین میں کمیشن حاصل کیا۔ 27نومبر2013میں وزیر اعظم میاں نواز شریف نے انہیں پاکستانی فوج کا سپہ سالار مقرر کیا،انہیں۔ دو سینئر جرنیلوں لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم اور لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود پر فوقیت دی گئی تھی۔ جنرل راحیل شریف نے جس وقت پاکستان آرمی کی کمانڈ سنبھالی تب ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر تھی،انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف سخت موقف اختیارکیا اور سانحہ پشاور کے بعد پاکستان آرمی نے تمام تر ملک دشمن قوتوں کے خلاف بلا تفریق کاروائیوں کا آغازکر دیا،اس وقت سے وطن عزیز میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آنے لگی ،ضرب عضب کی کامیابی ان کی قائدانہ صلاحیتوں کی بہترین ،عمدہ اور لازوال مثال ہے ۔ راحیل شریف ملک میں ایک مقبول ترین آرمی چیف کی حیثیت سے ابھرے ۔عالمی سطح پر جنرل راحیل شریف کو2015کابہترین ملٹری کمانڈر تسلیم کیاگیا،انہیں14قومی اعزازات کے علاوہ ۔آرڈر آف عبدالعزیز (سعودی عرب)،Legion of Merit(امریکہ)،آرڈر آف ملٹری(برازیل)،ملٹری میرٹ آف دی فرسٹ آرڈر(جارڈن)اور ترکش لیجنڈ آف میرٹ(ترکی) سے نوازا گیا۔چند ماہ قبل جنرل راحیل شریف نے آئی ایس پی آر کے ذریعے واضح کر دیا تھا کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے،جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کی صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے یہ ضروری سمجھا کہ اس لعنت پر اس وقت تک قابو نہیں پایا جا سکتا جب تک ان کے اندرونی سہولت کاروں کو بے نقاب نہ کیا جائے اور ملک میں خوشحالی ،تعمیر ترقی و بہتری کے لئے ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہر صورت ضروری ہے ، کراچی آپریشن میں انہیں حد درجہ سیاسی قوتوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اب بھی رینجرز کرپٹ عناصر کے ضمانتیں منسوخ کرانے کے لئے عدالت میں اپیل کرتی نظر آ رہی ہے مگر وہ اس میں بھی کامیاب نہ ہو سکی ایسے حالات میں سول قیادت کیوں گہری نیند میں ڈوبی ہوئی ہے؟ درحقیقت جرائم پیشہ اور ملک دشمن عناصر نے سیاسی جماعتوں میں ہی پناہ حاصل کر رکھی ہے یہی الفاظ ہماری عدالت اعظمیٰ کے بھی تھے،سابق صدر آصف زرداری نے تو پاک آرمی کو صاف الفاظ میں للکارا بھی تھا(اب آصف علی زرداری اس وقت وطن واپسی کا اعلان کیا ہے جب جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ میں محض چند دن باقی ہیں ،کہا جا رہا ہے کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے انہیں گرین سگنل دیا گیا ہے کہ اب سب ٹھیک ہے) ۔ان پر Indirectبہت سے الزام لگائے گئے مگر یہ وہی کردار ہے جس نے فوج کو سیاسی معاملات سے دور رکھا۔انہوں نے وہ کام بھی کئے جو صرف اور صرف جمہوری حکومت کے کرنے کے تھے ۔ جنرل راحیل شریف نے عالمی سطح پر ہونے والی معاشی جنگ کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کیا،ہمار ے NROزدہ حکمرانوں کا جھکاؤ اندرون خانہ امریکہ کی جانب تھا جو کسی صورت نہیں چاہتے تھے کہ چین کو پاکستان سے تجارتی راستہ مل جائے،ہمارے سیاسی نا خدا جو ہمیشہ ہی غیر ملکی آقاؤں کی بدولت اقتدار میں آتے ہیں عجیب مخمصے کا شکار تھے تب جنرل راحیل شریف نے امریکہ ،برازیل ،چین،انگلینڈ اور روس سمیت متعدد ممالک کے دورے کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے ہی پاکستان کی ترقی کا راز پوشیدہ ہے ۔ وہ قابل فخر آرمی چیف جس نے تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے دنیا کی نمبر ۔ون۔فوج کے نمبر۔ون۔کمانڈر کا اعزاز حاصل کیا اپنی مدت ملازمت کے آخری دنوں جہاں ایک طرف پاکستان دشمن عالمی قوتیں ان کی ریٹائرمنٹ کے دن گن گن کے گذار رہی ہیں وہیں پاکستان کی سیاسی قوتیں اور ملک دشمن ناسور بھی اس حوالے سے پیچھے نہیں ہیں،جس طرح کا کوارڈنیشن جنرل راحیل کا سول اور نام نہاد جمہوری حکومت کے ساتھ تھااس سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ اب تک جنرل راحیل سے ہی مشورہ کر کے کسی نئے آرمی چیف کا اعلان اب تک کر چکے ہوتے مگر ایسا نہیں کیا گیا،ان کی مشاور ت توسدا بہار اقتداری شخصیت مولانا فضل الرحمان سے ہے جن کا یہ بیان دو دن پہلے ہی میڈیا کی زینت بنا ہے ،جس کے مطابق نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر مشاورت کا عمل مکمل ہو گیا ہے مناسب وقت پر اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔وقت کی مناسبت کا تعین کرنے والے کون ہیں؟ اس مناسب وقت سے ان کے مطالب کیا ہیں؟قربان جائیں ایسے شاہکاروں پر۔ پتہ نہیں حکومت اور اس کے حواری کسے بآور کرانا چاہتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف بھی ہمارے لئے کسی خطرہ سے کم نہیں،۔جنرل راحیل ملک بھر میں ہونے والے کسی بھی سانحہ پر سب سے پہلے پہنچ کر متاثرین کو یقین دلایا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں پاک فوج ان کے ساتھ ہے،وہ تو اپنی عید بھی فیملی کی بجائے عام سپاہیوں کے ساتھ جنرل راحیل شریف ہی تھے جنہوں نے بھارت جیسے بد ترین دشمن کی انکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں بآور کرایا کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہنا،امریکہ پر بھی واضح کیا کہ ہم تمہارے غلام نہیں ہم اپنی خودداری پر آنچ نہیں آنے دیں گے (واضح رہے کہ پاک فوج کے پریشر پر ہی ایک دفعہ امریکی پاکستان آیا تھا) ۔جو کام ہماری خارجہ پالیسی کے تحت وزارت خارجہ کو کرنا چاہئیں تھے وہ کام فوج کر رہی ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے جب جنرل راحیل شریف اپنا عہدہ چھوڑنے جا رہے ہیں تب ایک دم اندورونی و بیرونی طور پر ان کا امیج خراب کرنے میں ایک دم اتنی ساری قوتیں کیسے منظر عام پر آتی جا رہی ہیں،اندورنی طور پر ۔سیکیورٹی لیکس۔کا پنڈورا کھل جاتا ہے ایک وفاقی وزیر کی قربانی دے کر سب اچھا ہے کی رپورٹ مل جاتی ہے اگر ایسا تھا تو پرویز رشید کو ان کے عہدے سے کیوں سبکدوش کیا گیا؟، پاکستان تحریک انصاف کے پانامہ لیکس پر مظاہرے یا دھرنے سے جنرل راحیل شریف کاکیا تعلق ہے؟ مگر سیاسی قوتوں جن کے مفادات یکساں ہیں نے باتوں باتوں میں انہیں بھی نہیں بخشا۔قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد پہلے ہی سست روی کا شکار تھا جسے اب مزید بریک لگ گئی ہے۔ دوسری جانب دہشت گردی کی لہر ایک بار پھر ابھر کر سامنے آ گئی ہے،کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج ،کراچی میں ٹارگٹ کلنگ،سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ،دربار شاہ نورانی حب میں خود کش دھماکہ ۔بھارت کی جانب سے روازنہ کی بنیاد پر لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی بارڈر پر انتہا درجے کی بلا اشتعال جارحیت جہاں فوجی جوانوں کی شہادت کے ساتھ ساتھ سرحدی رہائشی علاقوں میں بھی شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے ،انڈین آبدوز اور ان کے جاسوس ڈرون طیارے کا واقعہ کوئی معمولی باتیں نہیں ہیں۔ ان سب واقعات سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا مورال گرانے کی مذموم کوشش جاری ہے۔انتہا درجے تک عوامی پذیرائی حاصل کرنے والے آرمی چیف سے عام آدمی کی بندھنے والی توقعات کہ اب وہ اپنے فوجی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کرپشن میں لتھڑے کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے وہ بھی پوری نہیں ہونے دی گئیں،اب رہی سہی کسر پاکستان کے خلاف ایسے حالات پیدا کر کے پوری کی جا رہی ہے ۔یہ سب پیغامات کس کو دئیے جا رہے ہیں ،یہ کس کس کی غلط فہمی ہے کہ جنرل راحیل شریف کی بطور آر می چیف ریٹائرمنٹ کے بعد آنے والاآرمی چیف اور ان کے ساتھی ۔مٹی کے مادھو۔ہوں گے؟نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوگا عالمی اور اندورنی سطح پر ایسی سوچ رکھنے والے کردار اپنے مذموم مقاصد میں اب کبھی کامیاب نہیں ہو ں گے ،تاریخ میں جنرل راحیل شریف کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور ان کی قومی کردار کو ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا اور ان کے بعد آنے والے بھی کیونکہ پاک آرمی اب ایک خاص سمت پر چل نکلی ہے اقتدار کی جانب نہیں بلکہ بدکرداروں اور ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کی جانب ۔

note

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top
web stats