شہ سرخیاں
Home / اعجاز رانا / مبلغین اسلام کا عالمی تبلیغی اجتماع ( رائے ونڈ)
loading...
مبلغین اسلام کا عالمی تبلیغی اجتماع ( رائے ونڈ)

مبلغین اسلام کا عالمی تبلیغی اجتماع ( رائے ونڈ)

rana aijazہر طرح کے نسلی، لسانی و فرقہ وارانہ تعصب سے قطع نظر اقوام عالم میں دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے، عالم اسلام کے مسلمانوں کا سالانہ اجتماع ہر سال رائے ونڈ میں منعقد ہوتا ہے ۔ بلاشبہ حج کے بعد یہ عالم اسلام کا دوسرا بڑا اجتماع ہے، جس میں لاکھوں فرزندان اسلام شرکت کرتے ہیں ۔ زبان پر ذکر الٰہی ، ذہن میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی فکر ، پیشانیوں پر سجدوں کے نشان، کاندھوں پر بستر، ہاتھ میں تسبیح لیے بے شمار قافلے اپنے مخصوص انداز میں چلتے ہوئے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے شہروں ، قصبوں، دیہاتوں اور بیابانوں سے اس روح پرور اجتماع میں شرکت کرتے ہیں۔ منتظمین تبلیغی جماعت نے پاکستان بھر کے تبلیغی حلقوں کو 8 بڑے حصوں میں تقسیم کیا ہے ، اور ہر سال عوام کے بڑھتے ہوئے رش کے پیش نظر فیصلہ کیا ہے کہ اس سال 4 حلقوں یعنی آدھے پاکستان کا اجتماع پہلے مرحلے میں ہوگا اور باقی آدھے پاکستان کا اجتماع دوسرے مرحلے میں ہوگا تاکہ عوام پاکستان کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اجتماع رائے ونڈ کا پہلا مرحلہ (جس میں کوئٹہ ، لاہور ، پشاور ، ملتان کے حلقے شامل ہوں گے) جمعرات 3 نومبر کی عصر سے شروع ہورہا ہے جوکہ6 نومبر اتوار کی صبح تک جاری رہے گا اور 6 نومبر اتوار کی صبح اجتماعی دعا ہوگی۔ جبکہ دوسرا مرحلہ ( جس میں ڈیرہ اسماعیل خان، فیصل آباد ، کراچی، سوات کے حلقے شامل ہوں گے) جمعرات10 نومبر سے کی عصر سے شروع ہوگا اور13 نومبر اتوار کی صبح اختتامی اجتماعی دعا ہوگی۔ اجتماع میں ملکی، سرحدی، صوبائی امتیازات، قومی لسانی تعصبات اور گروہ بندیاں سب یہاں خاک میں مل جاتے ہیں یہاں سب بحیثیت مسلمان، امیر و غریب، حاکم و محکوم، پنجابی و پٹھان، بلوچی و سندھی، گورا ہو یا کالا، عربی ہو یاعجمی، رنگ و نسل کے اختلافات سے بے نیاز ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتے اور سجدہ ریز ہو کر پوری دنیا کے انسانوں کی ہدایت کے لئے دعا، اور تبلیغ کے موثر طریقہ کار پر حکمت عملی مرتب کرتے ہیں۔
بانی تبلیغی جماعت مولانا محمد الیاس نے جب اپنے گردوپیش کا جائز ہ لیا تو ہر طرف دین سے دوری عقائد کی خرابی اور اعمال و عقائد کا بگاڑ دیکھا کہ لوگ جہالت و گمراہی کے ’’بحرظلمات‘‘ میں ڈوبے ہوئے ہیں تووہ اس سلسلہ میں متفکر و پریشان دیکھائی دینے لگے، آپ نے محسوس کیا کہ عام دینداری جو پہلے موجود تھی اب ختم ہوتی اور سمٹتی چلی جا رہی ہے، پہلے یہ دین داری خواص تک اور مسلمانوں کی ایک خاص تعداد میں رہ گئی تھی پھر اس کا دائرہ اس سے بھی تنگ ہوا اور ’’اخص الخواص‘‘ میں یہ دینداری باقی رہ گئی ہے ، جہاں پہلے علم و عمل کی قندیلیں روشن رہتی تھیں اب وہ بے نورتھیں، دوسری بات انہوں نے یہ محسوس کی کہ علم چونکہ ایک خاص طبقہ تک محدود رہ گیا ہے اس لیے آپ یہ چاہتے تھے کہ عوام الناس میں پھر سے دینداری پیدا ہو، خواص کی طرح عوام میں بھی دین کی تڑپ اور طلب پیدا ہو، ان میں دین سیکھنے سکھانے کا شوق و جذبہ انگڑائیاں لے، اس کے لیے وہ ضروری سمجھتے تھے کہ ہر ایک کھانے، پینے اور دیگر ضروریات زندگی کی طرح دین سیکھنے او اس پر عمل کرنے کو بھی اپنی زندگی میں شامل کیا جائے، اور یہ سب کچھ صرف مدارس و مکاتب اور خانقاہی نظام سے نہیں ہوگا کیونکہ ان سے وہی فیضیاب ہو سکتے ہیں جن میں پہلے سے دین کی طلب ہواور وہ اس کا طالب بن کر خود مدارس و مکاتب اور خانقاہوں میںآئیں، مگر ظاہر ہے کہ یہ بہت ہی محدود لوگ ہوتے ہیں اس لیے مولانا الیاس ضروری سمجھتے تھے کہ اس ’’دعوت و تبلیغ‘‘ کے ذریعہ ایک ایک دروزاہ پر جا کر اخلاص و للہیت کے ساتھ منت و سماجت اور خوشامد کر کے ان میں دین کی طلب پیدا کی جائے کہ وہ اپنے گھروں اور ماحول سے نکل کر تھوڑا سا وقت علمی و دینی ماحول میں گزاریں تاکہ ان کے دل میں بھی سچی لگن اور دین سیکھنے کی تڑپ پیدا ہو، اور یہ کام اسی دعوت والے طریقہ سے ہوگا جو طریقہ اور راستہ انبیاء کرام علیہم السلام کاتھا اور جس پر چلتے ہوئے صحابہ کرامؓ کو پوری دنیا پر اسلام کو غالب کرنے میں کامیابی ہوئی اور پھر جب اس دعوت و تبلیغ سے عام فضا دینی بنے گی تو لوگوں میں دین کی رغبت اور اس کی طلب پیدا ہوگی تو مدارس و خانقاہی نظام اس سے کہیں زیادہ ہوگا۔ اور پھر مولانا محمد الیاس خود سراپا دعوت بن کر ’’دعوت و تبلیغ ‘‘ والے کام کو لے کر بڑی دلسوزی کے ساتھ دیوانہ وار ’’میوات‘‘ کے ہر علاقہ میں پھرے ہر ایک کے دامن کو تھاما، ایک ایک گھر کے دروازہ پر دستک دی ، دین کے لئے محنت کی اور فاقے برداشت کیے، گرمی و سردی سے بے پرواہ ہو کر تبلیغی گشت کئے اور بے چین و بے قرار ہو کر راتوں کواللہ رب العزت کے حضور روتے گڑگڑاتے اور دعا کرتے اور پھر اپنی ہمت و طاقت ، مال ودولت سب کچھ ان میواتیوں پر اور ان کے ذریعے اس تبلیغی کام پر لگا دیا۔ا ور پھر ایک ایک گھر سے ایک ہی وقت میں کئی کئی افراد دین کے کام کے لیے باہر نکلنے لگے اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ ابتداء میں یہی میواتی لوگ جن کو اپنے گھر اور گاؤں سے نکلنا مشکل تھا اب وہ مولانا الیاس کی محنت سے اس دعوت و تبلیغ کی فکر لے کر ملک ملک، شہر شہر دین کی خاطر پھرنے لگے۔ مولانا الیاس کی یہ عالمگیراحیائے اسلام کی تحریک کوئی معمولی کام اور تحریک نہیں بلکہ یہ پورے دین کو عملی طور پر زندگی میں نفاذ کی تحریک تھی۔ جماعت کے بانی مولانا الیاس فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت اور تحریک کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لایا ہوا دین پورا کا پورا سکھا دیں، رہی تبلیغی قافلوں کی چلت پھرت، تو یہ اس مقصد کے لیے ابتدائی ذریعہ ہے اور کلمہ و نماز کی تلقین گویا ہمارے پورے نصاب کی الف، ب، ت ہے۔ ہماری تبلیغی تحریک کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے سارے کے سارے جذبات پر دین کے جذبہ کو غالب کر کے اور اس راستہ سے مقصد کی دعوت کو پیدا کرتے ہوئے اور پوری قوم کو اس حدیث کے مصداق بنایا جائے ۔ جس کا ترجمہ ہے ’’تمام مسلمان ایک جسم و جان کی مانند ہیں‘‘۔ اور ہمارے تبلیغی کام میں اخلاص، صدقِ دل کے ساتھ اجتماعیت اور مل جل کر باہمی مشورے کے ساتھ کام کرنے کی بڑی ضرورت ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ جس کام میں بھی جان و مال اور وقت یہ تین قیمتی چیزیں خرچ ہو جائیں تو وہ کام بھی قیمتی ہو جاتاہے۔ تبلیغی جماعت بھی آج دعوت و تبلیغ کے اس مقدس کام میں جان و مال اور وقت لگا کر یہ کام پوری دنیا میں کرنے اور پھیلانے میں مصروف ہے۔ مولانا الیاس نے اس دعوت و تبلیغ والے کام کے طریقہ کار اور چھ اصولوں کے علاوہ کچھ مطالبے اور دینی تقاضے بھی رکھے ہیں جس کے تحت اس دعوت و تبلیغ والے کام کی محنت و ترتیب اور مشورہ کے لیے روزانہ کچھ وقت دینا، ذکر و اذکار اور اعمال و افعال میں دین اسلام کی پابندی کرنا، ہفتہ ایک بار گشت سے علاقہ کے لوگوں سے ملنا، کچھ وقت نکال کر اپنے ماحول میں ضروریات دین کی تبلیغ کیلئے باقاعدہ جماعت بنا کرایک امیر اور ایک نظام کی ماتحتی میں اپنی جگہ اور قرب و جوار میں تبلیغی گشت کرنا، ہر مہینے میں تین دن اس دعوت و تبلیغ والے کام میں لگاتے ہوئے اپنے شہر یا قرب و جوار میں اس دعوت و تبلیغ والے کام پر نکلنے کیلئے آمادہ اور تیار کرنا، سال میں چالیس دن اللہ کے راستے میں دعوت و تبلیغ کیلئے لگانا، اور پھر چار مہینے کے لئے اللہ کے راستے میں نکل کردین اور اس دعوت و تبلیغ والے کام کو سیکھے اور پھر ساری زندگی اسی کام میں صرف کرنا۔ مولانا محمد الیاس نے اس دعوتی سفر اور نقل و حرکت کے ایام کا ایک مکمل نظام الاوقات مرتب کیا جس کے تحت یہ تبلیغی جماعتیں اپنا وقت گزارتی ہیں ایک وقت میں گشت، ایک وقت میں اجتماع، ایک وقت میں تعلیم، ایک وقت میں حوائج ضروری کا پورا کرنا اور پھر ان سارے کاموں کی ترتیب و تنظیم ، گویا کہ یہ تبلیغی جماعت ایک چلتی پھرتی اخلاقی و دینی تربیت گاہ بن جاتی ہے ۔ مولانا الیاس فرماتے ہیں کہ ہمارے طریقہ کار میں دین کے واسطے جماعتوں کی شکل میں گھروں سے دور نکلنے کو بہت زیادہ اہمیّت حاصل ہے، اس کا خاص فائدہ یہ ہے کہ آدمی اس کے ذریعے اپنے دائمی اور جامد ماحول سے نکل کر ایک نئے صالح اور متحرک دینی ماحول میں آجاتا ہے اور پھر اس دعوت و تبلیغ والے سفر اور ہجرت کی وجہ سے جو طرح طرح کی تکلیفیں اور مشقتیں پیش آتی ہیں اور در بدر پھرنے میں جو ذلتیں اللہ کے لیے برداشت کرنا ہوتی ہیں ان کی وجہ سے اللہ کی رحمت خاص طور پر متوجہ ہوتی ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ سے خاص الخاص تعلق جب بنتا ہے جبکہ عزیز و رشتہ داورں کی نسبت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم تعلق مضبوط ہوتا ہے۔آج پوری دنیا میں تبلیغی جماعت اس دعوت و تبلیغ والے کام کو پوری محنت، اخلاص وللہیت اور نظم کے ساتھ کر رہی ہے اور اس کام کے اثرات و ثمرات سے آج کوئی بھی ذی ہوش انسان انکاری نہیں اور اللہ کی مدد و نصرت سے ناقابل یقین حد تک کامیابی ہو رہی ہے۔ دن رات اللہ کی نافرمانی و معصیت اور فسق و فجور میں زندگی گزارنے والے افراد اس تبلیغی جماعت کی بدولت تہجد گزار، متقی، پرہیز گار اور دین کے داعی بنتے نظر آرہے ہیں۔ تبلیغی جماعت مخلوق کو مخلوق کی غلامی سے نکال کرخالق کی بندگی و غلامی میں لانے، صحابہ کرامؓ جیسی پاکیزہ صفات و عادات کو اپنانے اور پیدا کرنے، صبح جاگنے سے لے کر رات سونے تک، کھانے پینے سے لے کر حاجات تک، گویا کہ پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک پوری زندگی میں دین لانے کی کوشش اور مخلوق سے کچھ نہ ہونے اور خالق ہی سے سب کچھ ہونے کا یقین دلوں میں پیدا کرنے میں مصروف عمل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے دین حق کی تبلیغ کے لئے انبیاء کرام کو بھیجا ، اور نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی کتاب قرآن مجید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی بطور نمونہ ہمارے سامنے ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد دین اسلام کی تبلیغ آپ کے اور ہمارے بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے ذمہ ہے۔ تبلیغی جماعت اس ضمن میں احسن خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ ہماری اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ دین اسلام کی تبلیغ اور سربلندی کے لئے بڑھ چڑھ کر خدمات سرانجام دیں، تاکہ اللہ رب العزت کی رضا اور دونوں جہانوں کی کامیابی و کامرانی ہمارا مقدر ٹھہرے۔آ مین

note

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top