شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ’’عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے‘‘

’’عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے‘‘

عزت مآب !چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار صاحب آپ نے پاکستان کی 71سالہ تاریخ میں ایک تاریخی باب رقم کیا ہے آنے والی نسلیں قیامت کی سحر ہونے تک عہد عدل نثار کو یاد رکھیں گی کہ ایک شیر دلیر عادل وقت اس پاک سرزمین پر اللہ تعالیٰ کی رحمت بن کر آیا تھا عدل کی زنجیر چھنکی اور فراعین وقت جو قانون کو اپنے در کی لونڈی سمجھتے تھے انکوسرنگوں کرنا پڑے۔آپ کے عہد ساز فیصلے پاکستان کی تاریخ کے سنہرے باب بن کر ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔آپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ قانون اندھا نہیں ہوتا بلکہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ۔
بحیثیت ایک غریب پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ایک اہم مسئلہ کی جانب آپکی توجہ مبدول کروانا چاہتاہوں ۔عزت مآب ! غریبوں کا بنیادی مسئلہ روٹی کپڑا اور مکان کا حصول ہے جس کو دلانے کے جھوٹے دعوے اور لارے ہر دور میں ہر سیاستدان نے کیے ہیں اور پھر روٹی،کپڑا اورمکان دیتے دیتے ہم غریبوں کی ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کے سرؤں سے چادریں تک چھین لی ہیں ۔یہ مسئلہ میرا اکیلے کا نہیں بلکہ(قومی المیہ)ہے ۔عزت مآب !میں ایک قلم کا مزدور ہوں اور ایک کرایہ کے گھر میں اپنی بیوی بیٹیوں کے ساتھ رہائش پذیر ہوں جس محلے میں رہتا ہوں وہاں ہر بندہ خدا ہے کسی کا ماما پولیس میں اعلیٰ افسر ہے تو کسی کا چاچا کوئی بڑا سیاسی لیڈر کون کہتا کہ غریب کو آزادی ملی ہے غریب تو کل بھی غلام تھا فرنگیوں ،ہندؤں اور سکھوں کا اور آج بھی غلام ہے وڈیروں ،جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا ’’غلامی کا قانون‘‘ آج بھی رائج ہے آج بھی قبل اسلام کی طرح ہر طاقتور ہر قسم کے حقوق کا مالک ہے ۔محلوں کے اندر گھروں کے آگے راستوں میں بگڑے ہوئے امیرزادوں کاجتھوں کی صورت میں بیٹھنا ،کھڑا ہونا آتی جاتی خواتین پر آوازیں کسنا (تھڑے بازی)کو ہماری ثقافت کا نام دیا جاتا ہے ۔پچھلے سال کی بات ہے کہ گلی کے ایک اوباش نوجوان جس کا ماما اعلیٰ افسر ہے گلی میں اوباش لڑکوں کو لیکر کھڑا ہوجاتا ہے اور اونچی آواز میں فحش پنجابی مجرے گانے لگاکر اونچی اونچی آوازیں کستا ،کو سمجھایا تو شرابیں پی کر سرعام گالم گلوچ کرنے لگے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دینے لگے ون فائیو پر کال کی تو پولیس نے پانچ منٹ کا فاصلہ ایک گھنٹے میں طے کیا اور اے ایس آئی آتے ہی ہم پر برس پڑا کیونکہ غنڈوں کی سرپرستی کی جارہی تھی تھانہ میں مجرموں سے بدتر سلوک کیا گیا ۔ہمارا کوئی رشہ دار نہ تو کوئی بڑا افسر تھا اور نہ ہی سیاستدان اور نہ ہی ہمارے پاس سرمایہ تھا ہم غریبوں کے پیچھے کس کا فون آنا تھا غریب کا تو سایہ اس کا ساتھ چھوڑ جاتا ہے ہماری اسی کمزوری کی وجہ سے سامنے ہمسایہ ہمارے دروازے کے آگے اوباش نوجوانوں کو لیکر کھڑا ہونے لگا اور ہماری آتی جاتی خواتین کو باتیں (مذاق )کرتا سمجھایا تو کرائے کے غنڈوں کے ساتھ گھر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگئے اور میری بیوی پر پسٹل تان لیا ون فائیو پر کال کی توایک سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک آدمی جو خود کوپولیس والا بتا رہا تھا ڈیڑھ گھنٹے بعد آیا(پولیس اسٹیشن کا فاصلہ حد آٹھ منٹ) جب کہ غنڈوں کی تعداد پچاس کے قریب تھی اس ہمسائے نے آتے ہی اس پولیس والے کی جیب میں دوہزار روپے ڈالا اور حسب روایت قانون نے ہمارے ساتھ وہی سلوک کیا جو ایک غریب کے ساتھ صدیوں سے کیا جارہا ہے ۔عزت مآب !آج بھی محلے کے اندر گلیوں میں وہ غنڈے رات دو ،تین بجے تک کرکٹ کھیلتے ہیں اور نچی آواز میں ڈیک پہ فحش گانے چلاتے ہیں جتھوں کی صورت میں کھڑے ہوتے ہیں ہمارے گھر کے دروازے کے سامنے کوڑا کرکٹ پھینکتے ہیں مگر ہماری جرات نہیں کہ ہم بول سکیں اگر منت کرتے ہیں تو خواتین کومارنے کے لیے اینٹیں ،پتھر اٹھا لیتے ہیں گندی گندی گالیاں اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے ہیں ۔گھر کے آگے آدھی گلی تک ناجائز تھڑے بنائے ہوئے ہیں ۔بغیر ایل ڈی اے نقشہ منظور چار چار منزل عمارتیں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔عزت مآب گھر کے آگے بجلی کی ننگی تاروں کے گچھے جھول رہے جب بارش ہوتی ہے تو پورے گھر میں کرنٹ آجاتا ہے متعلقہ ایس ڈی او واپڈا کو درخواست دی تو جواب ملا کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے پچاس ہزار روپے ہیں تو نئی تار ڈال دیتے ہیں ریکوسٹ کی تو آگے سے ایس ڈی اوسیخ پاہوکر ایف آئی آر درج کرانے کی دھمکیاں دینے لگے ۔کئی بار سوچا گھر تبدیل کرو مگر حالات اجازت نہیں گھر کے ایڈوانس اور آسمان کو چھوتے ہوئے کرائے اخراجات نہیں ہیں۔عزت مآب !جب تعصب ،گروہ بندی ،انتہاپسندی،انتشار کے ڈر سے مساجد کے لاؤڈ سپیکر بند ہوسکتے ہیں تو گلی محلوں کے اندر ڈیک کیوں نہیں ؟آج جس کو ہماری تہذیب اور ثقافت کا نام دیا جارہاہے درحقیقت دہشت گردی کو فروغ دیا جارہا ہے تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اسی وجہ سے گلی ،محلوں کے اندر بڑے بڑے بدمعاشوں نے جنم لیا ہے ۔عزت مآب! یہ میرے اکیلے کا مسئلہ نہیں بلکہ وطن عزیز پاکستان میں بسنے والے کروڑوں غریبوں کا مسئلہ ہے ۔جن کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ان وڈیروں،جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے غریبوں کو اپنا زرخریدغلام اور یرغمال بنایا ہوا ہے ۔جب چاتے ہیں جہاں چاہتے ہیں کسی غریب ،مظلوم ،محکوم اور لاچار کا استحصال کر دیتے ہیں ان سرمایہ داروں کے نزدیک غریب کی عزت،عزت ہی نہیں کبھی کسی کی بیوی کی اس کے شوہر کے سامنے عزت تارتار کردیتے ہیں تو کبھی کسی معصوم بیٹی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر وحشیانہ طریقے سے قتل کر دیتے ہیں ۔عزت مآب آزادی سے پہلے بھی جوان بیٹی کے ماں وباپ کو بیٹی کی عزت کی حفاظت کی خاطر رات رات بھر جاگنا پڑتا ہے اور آج بھی وہی حال ہے ایسے ایک نہیں ہزراوں واقعات اخبارات کی شہہ سرخیاں بن چکے ہیں جن میں سکول جاتی ہوئی حوا زادی کو سرعام اٹھالیا جاتا ہے اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کردیا جاتا ہے اور بے بس ماں وباپ کی طرف سے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر تک درج نہیں کی جاتی ۔عزت مآب!خدا کے لیے میری اس اپیل پر نظر ثانی فرمائیں اورکوئی ایسا قانون نافذ کریں جس میں یہ تھڑے بازیاں ختم ہوجائیں،اونچی آواز میں ڈیک چلانے پر مکمل پابندی ہو محلوں،گلیوں کے اندر کرکٹ کھیلنے پر پابندی ہو اور کرایہ دار کو زندہ رہنے کا مکمل حق حاصل ہو۔عزت مآب !ایسا از خود نوٹس لیں کہ’’ایک بھی غریب کے لیے حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو‘‘اگر ریاست غریبوں کو انکی بنیادی ضروریات میں روٹی ،کپڑا ،مکان ،صحت اور تعلیم نہیں دے سکتی تو کم سے کم میرے پاکستان کے اندر جس کے حصول کے لیے ماؤں نے اپنے بچوں کو،بہنوں نے اپنے جوان بھائیوں کو اور سہاگنوں نے اپنے سہاگ قربان کر دئیے تھے ہمارے آباؤاجداد نے ان مٹ قربانیاں دیں تھیں میں زندہ رہنے کا حق دیا جائے کیونکہ میرا بھی میرے ملک پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ امیر شہر کا ۔
عزت مآب !غریب یہ احساس مانگتا ہے (کہ بے شک غربت اور امارت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے )مگراسے پاکستان میں زندہ رہنے کا حق دیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؂ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ وبازار میں عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے ۔۔

error: Content is Protected!!