شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پاکستان / وزیر داخلہ کی عدالت سے مزید 2 دن کی مہلت طلب

وزیر داخلہ کی عدالت سے مزید 2 دن کی مہلت طلب

اسلام آباد(مانیٹرنگ سیل) وفاقی دارالحکومت میں فیض آباد پر دھرنا ختم کروانے کے عدالتی حکم کی عدم تعمیل پر عدالت نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو طلب کرلیا۔احسن اقبال نے عدالت میں پیش ہو کر دھرنا ختم کروانے کے لیے مزید 48 گھنٹوں کی مہلت طلب کرلی۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں مذہبی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنان نے گزشتہ 15 روز سے ریڈ زون کو قبضے میں لے رکھا ہے۔ فیض آباد میں دیے جانے والے دھرنے سے جڑواں شہر کے باسی سخت پریشانی و اذیت کا شکار ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 17 نومبر کو انتظامیہ کو دھرنے کے شرکا کو اگلے روز تک ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے حکام کو کہا تھا کہ پرامن طریقہ یا طاقت کا استعمال جیسے بھی ہو فیض آباد خالی کروایا جائے۔ کل صبح تک تمام راستے صاف ہونے چاہئیں۔ تاہم عدالت کی دی گئی ڈیڈ لائن کو 2 روز گزرنے کے باوجود دھرنا تاحال جاری ہے۔ اس دوران حکومت نے کئی علما و مشائخ کے ذریعے مظاہرین نے مذاکرات کی کوشش کی تاہم دونوں فریقین میں ڈیڈ لاک برقراررہا۔ گزشتہ روز احسن اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ختم نبوت سے متعلق قانون مزید سخت کردیا گیا ہے لہٰذا اب دھرنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھرنے والے عوام کو بھڑکا رہے ہیں اور عوام کے جذبات مشتعل کر رہے ہیں۔ آج پیر کے روز بھی صورتحال جوں کی توں برقرار ہے جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر داخلہ احسن اقبال، سیکریٹری داخلہ، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو عدالت میں طلب کرلیا جس کے بعد وزیر داخلہ احسن اقبال اور سیکریٹری داخلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔ سماعت کے موقع پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر داخلہ احسن اقبال کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ اتنے نا اہل ہوچکے ہیں حکومتی رٹ قائم نہیں کر سکتے۔ عدالت کا حکم گراؤنڈ میں ہے مزید وقت نہیں دے سکتے۔ عدالتی حکم پر مذاکراتی عمل کی ضرورت نہیں تھی۔ احسن اقبال نے جواب دیا کہ طاقت کے استعمال سے خونریزی کا اندیشہ تھا لہٰذا آپریشن نہیں کیا۔ انہوں نے دھرنا ختم کروانے کے لیے مزید 48 گھنٹے کا وقت مانگ لیا

error: Content is Protected!!