شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / الحمراء کلچرل کمپلیکس ۔۔۔۔ایک تعارف

الحمراء کلچرل کمپلیکس ۔۔۔۔ایک تعارف

الحمراء کلچرل کمپلیکس ،لاہورآرٹس کونسل الحمراء کاایک ذیلی ادارہ ہے ، یہ عمارت اپنے فن تعمیر کے حوالے سے ایک مثالی درجہ کی حامل ہے ۔اس کو بین الاقومی ماہر تعمیرات نیئرعلی دادا نے ڈائزین کیا۔یہ عمارت دو بین الاقومی سہولیات سے لیس ہالز کے علاوہ ایک اوپن ائیر تھیٹر پر مشتمل ہے الحمراء پر مانیٹ آرٹ گیلری بھی اسی کا حصہ ہے۔اس عمارت کی تعمیر کا اگر مشاہدہ کیا جائے تو اس میں نہایت unityنظرآتی ہے جو اس کی خوبصورتی کا سبب ہے ۔اس عمارت کا محل وقوع بھی اپنی مثال آپ ہے۔الحمراء کلچرل کمپلیکس کا ہال نمبر ایک350سیٹیں جبکہ ہال نمبرII،150سیٹوں پر مشتمل ہے مزیدبراں الحمراء اوپن ائیر تھیٹر میں 4000افراد کے بیٹھے کی گنجائش ہے۔ حال ہی میں ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہورآرٹس کونسل الحمراء کیپٹن(ر) عطاء محمدخان نے ا پنے ہاتھوں سے پاکستان کے قومی شاعر اور بین الاقومی مفکر علامہ محمد اقبال کا مجسمہ الحمراء کلچرل کمپلیکس میں نصب کروایا ہے جس کا مقصد نوجوان نسل کو ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے پیغام سے روشناس کروانا ہے لہذا جب بھی لوگ الحمراء کلچرل کمپلیکس میں داخل ہوتے ہیں تو ان کی پہلی نظر اس مجسمہ پر پڑتی ہے جس سے انھیں اپنے تحریک آزادی کے مجاہد ین یاد آتے ہیں جن کے جدوجہد سے آج ہم اس آزاد وطن عزیز پاکستان میں سکھ کا سانس لے رہے ہیں جو بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا ہم پرایک احسان عظیم ہے۔تاہم ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیپٹن(ر)عطاء محمد خان کے عوامی سطح پر اس اقدام کو بہت سراہا جارہا ہے۔اگر ہم اس ادارے کی تاریخی حوالوں پر نظر ڈالیں تو اس ادارے کی بنیادوں میں بے پناہ تجربہ کا ر افراد کی دن رات کی محنت شاقہ ہمیں نظر آئے گی۔ جسٹس آئی اے رحمان ،میاں عبدالقادر،صوفی غلام مصطفی تبسم اس ادارے میں صدر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر چکے ہیں ،ڈاکٹر انور سجاد بھی چیئرمین کی حیثیت اس ادارے کی ترقی میں سے اپنا حصہ ڈال چکے ہیں۔جبکہ سید امتیاز علی تاج، فیض احمد فیض،محسن شیرازی،حامدجلال،نعیم طاہر،ڈاکٹرتصدق حسین گیلانی، شعیب ہاشمی سیکرٹری کی حیثیت سے اس ادارے کی نشوونمامیں اپنا کلیدی کرداراداکرتے رہے ہیں جبکہ کے اس بعد فاخرسیداعجاز الدین،علی کاظم،جاوید احمد قریشی ،شوکت علی شاہ اور عطاء الحق قاسمی ،کامران لاشاری اس ادارے کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔آج کل الحمراء آرٹس کونسل کی گورننگ باڈی کے چیئرمین محمدمالک ہیں جبکہ دیگر ممبران میں ڈاکٹر خورشید رضوی، نیئرعلی دادا ،ڈاکٹر تحسین فراقی،مسعود اختر،شعیب بن عزیز، نوین فرید، نصرت جمیل ،نگہت یاورعلی، روف طاہر،نائیلامقبول جبکہ سیکرٹری انفارمیشن پنجاب،سیکرٹری فنانس پنجاب ،ڈی سی لاہور، پرنسپل این سی اے ،جنرل منیجر پی ٹی وی ،پرنسپل کالج آف آرٹ پنجاب یورنیوسٹی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر لاہورآرٹس کونسل بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں ۔اس علاوہ میںآپ کو بتاتا چلو کہ بیوروکریسی سے بھی نہایت مستند کئی آفیسرز اس ادارے کے انتظامی امور کے سربراہاں کے طورپر میں اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں ان میں سعید احمد علوی، سید خالد اخلاق گیلانی، شبیر احمد، سید محمد حامد،راجہ محمد عباس، اصغر حسین گیلانی، خالد مسعود چوہدری ،ارشد بن احمد، کامران افضل چیمہ ،شعیب بن عزیز، نجم احمد شاہ، محمد علی بلوچ،کیپٹن(ر)عطاء محمد خان شا مل ہیں۔کیپٹن(ر)عطاء محمد خان گزشتہ ساڑھے تین برسوں سے لاہور آرٹس کونسل الحمراء میں بطور ایگزیکٹوڈائریکٹر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔انھوں نے جب سے یہاں اپنے عہدے کا چارج سنبھالہ ہے تب سے یہاں پروگراموں کے معیار وتعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔عوام کی الحمراء کی طرف توجہ بڑھی ہے۔بین الاقومی سطح پرپاکستان کو سوفٹ امیج نمایاں ہوا ہے۔ان کے ادوار میں ترکی،جاپان،چین، سری لنکا،مالایپ،انڈونیشیاء،ہنگری،فرانس،ڈنمارک،ملائشیاء،نپیال،آسٹریا،روس،ناروے کے علاوہ دیگر دنیا کے اہم ممالک الحمراء کے پلیٹ فارم پر اپنے اپنے ممالک کا کلچرل پاکستانی عوام کے لئے پیش کر چکے ہیں اور ابھی کئی ممالک کے ساتھ یہ شراکت جاری ہے۔اس ادارے میں میڈیا امور صبح صادق، پی آر او ،لاہور آرٹس کونسل نہایت احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جاپان کے ساتھ ایک ایم او یو سائن کیا گیا ہے جس سے پاکستان اور جاپان دوطرفہ ثقافتی تبادلے کی رفتارکرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔اس کے علاوہ ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہورآرٹس کونسل الحمراء کیپٹن(ر)عطاء محمد خان کی خصوصی دلچسپی سے یہاں دو ایسے پروگرام بھی منعقد ہوچکے ہیں جن میں دو درجن سے رائدممالک کے سفیروں نے پاکستانی لباس زیب تن کرکے ایک فیشن شو میں واک کی اور یہ انوکھا تجربہ اتنا کامیاب رہا کہ دنیاکے ممالک جو ک درجوک الحمراء کا رخ کررہے ہیں۔ لاہور آرٹس کونسل الحمراء ایک ادبی وثقافتی ادارہ کے ناتے ’’الحمراء اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کلچرل کمپلیکس‘‘ بھی کامیابی سے چلا رہا ہے جس میں نوجوانوں کو گائیکی،سارنگی،ڈرائنگ،مصوری،چائلڈآرٹ ،ستار،ہارمونیم ،وائیلن ، طبلہ، بانسری،گٹار،ڈانس اور اداکاری کی ماہر اساتذہ کی زیرنگرانی بہت کم فیس پر تربیت دی جاتی ہے اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ادارہ شعبہ موسیقی ،ڈرامہ ،ہدایت کاری اور ادب وثقافت کی دیگر اصناف میں اعلیٰ مقام پیدا کرنے والوں کی تربیت میں کلیدی کردارادا کر چکا ہے بلکہ آج بھی ادا کر رہا ہے کیوں کہ ہماری ترقی، فنون لطیفہ سے محبت اور اس فروغ سے وابستہ ہے ہمارے تہذیب و ثقافت کا ہماری دھرتی کے رسم ورواج کے ساتھ گہرا تعلق ہے یہ تعلق صدیوں سے چلا آرہا یہاں تک کہ اس کی جڑیں اتنی گہری ہوچکی ہیں کہ جیسے لوگ تپتی دھوپ میں سایہ داردرختوں کے نیچے سکون محسوس کرتے ہیں ویسے ہی حالات کے ستائے لوگ اس ادارہ میں منعقد ہونے والی سرگرمیوں سے راحت پانے کے لئے اس ادارے کا رخ کرتے ہیںیہی وجہ ہے کہ آپ کو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ادب وثقافت کی تربیت حاصل کرنے کے لئے اس ادارہ کا رخ کرتی نظرآتی ہے۔لہذا الحمراء اکیڈمی آف پر فارمنگ آرٹس سے بے شمار طلبا وطالبات تربیت حاصل کرچکے ہیں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
بچے قوم کے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں لہذا بچوں کی ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ ان کی تفریح بھی ازحد ضروری ہے الحمراء آرٹس کونسل بچوں کے لئے جہاں مختلف طرز کے مصوری کے مقابلے منعقد کرتی ہے وہاں ان کی تفریح کا سامان کرنے میں بھی پیش پیش ہے لہذا’’ستاروں سے آگے’’نیا اجالا اور تعلیم ‘‘ایسے پروگرام ہیں جن سے بچے بے حد لطف اندوز ہوتے ہیں،پورا ہفتہ سکول میں خوب پڑھائی کرنے کے بعد بچوں کا ذہن تھک جاتا ہے یہ تھکن دور کرنے کا ذمہ بھی الحمراء آرٹس کونسل نے اپنے کندھوں پر لے رکھاہے اور بچوں کو مفت تفریح کی فراہمی یقینی بنائی ہوئی ہے کیوں کہ ایک طرف بچوں کو پڑھائی ضروری ہے تو دوسری طرف ایسی تفریحی سرگرمیاں ناگزیر ہیں جن سے بچے تعلیمی نصاب سے جڑے رہیں نہ کہ اکتاہٹ کا شکار ہو کر تعلیم ہی سے بھاگ جائے۔لہذا ایک طرح سے اگردیکھا جائے تو الحمراء آرٹس کونسل کے بچوں کی تفریح کے لئے یہ پروگرام نہایت اہمیت کے حامل ہیں والدین ہرہفتہ کے آخر چھٹی کے روز الحمراء کا رخ کرتے ہیں اور بچے اس دن کا پورا ہفتہ بڑی بے چینی سے انتظار کرتے ہیں۔پاکستان میںآرٹ کے فروغ میں پرمانیٹ آرٹ گیلری کا بنیادی کردارادارہا ہے اس گیلری میں ساراسال بغیر کئی تعطل کی نمائشیں جاری رہتی ہیں،کلچرل کمپلیکس پرمانیٹ آرٹ گیلری نے نہ صرف نئی نسل کے مصوروں کی حوصلہ افزائی کی ہے بلکہ یہ ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم کی حیثیت بھی رکھتی ہے یہی وجہ ہے سارا سال یہ گیلری مختلف طرز کے فن پاروں کی نمائش کے لئے کھلی رہتی ہے کوئی ایک دن بھی ایسا نہ ہے کہ جس دن یہاں کسی نہ کسی مصور کے فن پاروں آویزاں نہ رہے ہوں۔لہذا اس گیلری کی اہمیت کے پیش نظر آرٹسٹ کئی مہنیے پہلے یہ گیلری بک کروالیتے ہیں ،الحمراء آرٹس کونسل اپنی تمام آرٹ گیلریاں آرٹسٹوں کو مفت فراہم کرتی ہے کسی آرٹسٹ سے کوئی معاوضہ وصول نہیں کیا جاتا یہی آرٹ کی خدمت کا بنیادی ثبوت ہے۔ یہ گیلری پہلے ایک ہی حصہ پر مشتمل تھی جس میں 200فن پارے آویزاں کئے جانے کی گنجائش موجود تھی مگراب اس کو جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے اور اس کی تزوئین وآرائش کی جارہی ہے۔اسے جدید دور کی ضروریات کے مطابق مختلف حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہورآرٹس کونسل الحمراء کیپٹن(ر) عطاء محمد خان نے اپنے دور میں نہ صرف اس ادارے کی پروگرامنگ پر خصوصی توجہ دی ہے بلکہ اس ادارے کی تروئین وآرائش پر بھی خاطر خواہ کام کیا ہے اور اسے عالمی سہولیات سے لیس کردیا گیا ہے

x

Check Also

ڈانس پارٹی پرچھاپہ،اسٹیج اداکارہ سمیت7رقاصائیں گرفتار

خانیوال (مانیٹرنگ سیل) خانیوال میں پولیس کی بڑی کارروائی کرتے ہوئے ڈانس ...

Connect!