شہ سرخیاں
Home / Uncategorized / عوام حکمران اور حکومت پاکستان

عوام حکمران اور حکومت پاکستان

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کی عوام کو حکومتی دعوےٰ ڈھونگ فریب اور جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں لگتے عوام جدھر مہنگائی کے سیلاب میں ڈوبتی جارہی ہے ادھر حکومت ہر روز نئی حکمت عملی اختیار کر رہی ہے جسمیں نہ تو عوام کی بھلائی کو دیکھا جا رہا ہے نہ ملک کی سلامتی کو نہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا سو چا جا رہاہے صرف سستی روٹی کرنے سے کچھ نہیں ہو گا باقی تما م اشیائ خردو نوش حد سے زیا دہ مہنگی ہیں میں سستی روٹی کا نعرہ لگانے والے جناب شریف برادران سے پو چھتا ہوں کہ کیا عوام صرف سو کھی روٹی کھائیں با قی گھی ،دالیں ،چینی وغیرہ سستے کر نا آ پ کے ذمے نہیں یا گندم پنجاب کی پیداوار ہے اس لیے روٹی ہی سستی ہو سکتی ہے ہمارے جناب صدر پاکستان آ صف علی زرداری کو کو ئی بھی چیز چاہے وہ کھانے کی ہو یا پہننے کی فون کارڈ ہو یا ایزی لوڈ یہاں تک کہ ایک ماچس بھی بنا صدر ٹیکس کے بکنا اچھا نہیں لگتا بلکہ انکا بس میں ہو تو پاکستانی ہونے پرٹیکس لاگوں کر دے کہ جو بھی پاکستانی ہے وہ یہ ٹیکس ادا کرے گا حکومت کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت کے ساتھ منسلک شہر راولپنڈی میں آ ج سے تقر یباً 4سال پہلے شہید کیے جانے والی اس بے باک لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کیس کے قصور واروں کو نہیں پکڑ پا ئی بلکہ صرف الزام تراشی سے کام لیا جا رہا ہے ابھی ان سو الات کے جوابات ملے نہیں تھے کہ ریمنڈ ڈیوس کتے کا کیس سامنے آ یا جس نے دن دہاڑے 2نوجوانوںکو گاڑی سے کچل دیا اور اس کے بارے میں ہماری حکومت کی تما م ہمدردیا ں سامنے آ ئیں نہ حکمرانوں نے ریمنڈ ڈیوس کے بارے میں سچ بو لا تھا نہ ڈرون حملوں کے بارے میں جسمیں بے قصور آ ئے دن اپنی جان سے ہاتھ دو بیٹھتے ہیں آ خر کب تک?……..ابھی ریمنڈ کا معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ امریکہ نے رات کے اندھیرے میں ہمارے پاکستان جسے ہم امن کا گہوارا کہتے ہیں اس امن کے گہوارے میں غیر قا نونی طریقے سے ہماری سر حد وں کو کراس کرکے ہمارے ملک کے شہر جو دارالحکومت سے تقریباً 25کلو میٹر دور ہے وہاں آ پریشن کرنے آ یا اور ہمارے فو جی جوانوں کو اس بات کا علم تب ہو ا جب وہ آ پر یشن مکمل کر کے واپس چلے گئے اس وقت کہا ں تھی ہماری انٹیلی جنس کہاں تھے حکمران یا ریڈاروں کے ساتھ ساتھ ہمارے حکمرانو ں فوج اور انٹیلی جنس کی آ نکھیں بھی جام ہو گئی تھی اور اس آ پریشن کے 4دن بعد وزیر اعظم پا کستان نے اجلاس کا انعقاد کیا جسمیں انہوں نے امریکہ سے دوستی قا ئم رہنے پر زور دیا اور تما م باتیں امریکہ کے حق میں کیں کہ کہیں امریکہ سن کر ہمیں بیک دینا نہ بند کر دے ادھر امریکہ کتا ان پر الزام پہ الزام لگا رہا تھا آ خر امریکہ نے اس طرح کیوں کیا یہ سوال عوام اپنی مو جودہ حکومت سے کر کے تھک گئی ہے پر جواب نہ مل سکا کیا اسی طرح کسی دن اللہ نہ کرے ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کو بھی تباہ کر دیا جائے گا اور بہاناہو گا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو رہا ہے میری عوام سے اپیل ہے آ ج وقت ہے جاگ جائو ورنہ ہمارا یہ جنت نظیر ملک ایک دن کافروں کے قبضے میں ہو گا اور ہم اور ہماری نسلیں غلامی کا شکار ہو جائیں گی ۔۔۔۔۔۔۔ہم نہیں تو کو ن ?…….اب نہیں تو کب ?……..

About admin

Scroll To Top