شہ سرخیاں
Home / ایڈیٹر کے قلم سے / بچے من کے سچے
loading...
بچے من کے سچے

بچے من کے سچے

aqeeاولاد اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی قدر ان سے پوچھئے جن کے آنگن میں یہ پھول نہیں کھلتے۔ان کے بغیرگھر ویران سا لگتا ہے کیونکہ اس گھر میں بچے کی صورت میں کھلنے والا پھول نہیں ہے۔ اولاد کی صحیح تربیت والدین کا حق ہے۔ اولاد کی نیک تربیت کے بے شمار فوائد ہیں۔ تربیت یافتہ اولاد والدین کی نیک نامی کے ساتھ ساتھ ان کے بڑھاپے کا سہارا بھی بنتے ہیں اور اگر اولاد کی تربیت صحیح نہ ہو تو وہ وبال جان بن جاتی ہے۔والدین کو بچپن ہی سے بچے کی تربیت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ بچپن کا زمانہ زمین کی مانند ہوتا ہے جس میں انسان جوکچھ بیجے گا وہی کاٹے گا۔
بچے پھول کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ان کے معصوم چہرے سورج کی پہلی کرن سے مشاہبت رکھتے ہیں۔ جو معاشرے کی ایک انتہائی معصوم اور حساس پرت ہوتے ہیں ۔معاشرے کا ہر فرد بچوں سے پیار کرتا ہے۔ بچوں کی موجودگی سے گھروں میں رونق ہوتی ہے۔انہی پھولوں نے پڑھ لکھ کر ملک کے مستقبل کا معمار بننا ہوتا ہے ۔ یہی معصوم پھو ل ڈالی سے ٹوٹ کر گلیوں کی دھول بن جاتے ہیں ۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1989 میں بچوں کے منظور شدہ حقوق کا اعلان کیا تھا جس کے بعد 20 نومبر 1990 کو دنیا کے 186 ممالک نے بچوں کا عالمی دن منانے کی منظوری دی تھی۔پوری دنیا میں اس دن کی مناسبت سے تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔جس کے تحت بچوں کا عالمی دن منانے کا مقصد ان کی تعلیم، صحت، سیر و تفریح اور ذہنی اور جسمانی تربیت کے حوالے سے شعور اْجاگر کرنا ہے تاکہ بچے مستقبل میں معاشرے کے بہترین شہری بن سکیں۔
بچے کسی بھی ملک کا مستقبل کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ بچوں کی پرورش میں سب اہم کردار ماں باپ کاہوتا ہے۔ دوسرے نمبر پر استاد کا مقام ہے ۔ معاشرے میں اچھا شہری بننے کے لیے جہاں ان دونوں کی ذمہ داری ہے ادھر حکومت کو بھی پیچھے نہیں چھوڑ سکتے۔ حکومت کو بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا وہ بچوں کے حقوق کے لیے مناسب اقدام کررہی ہے؟ اگر ہم حکومتی اقدامات پر نظردوڑائیں تو سب کچھ سامنے نظر آجائے گا۔
صحت کے میدان میں بچوں کے لیے چلڈرن ہسپتال نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جن شہروں میں چلڈرن ہسپتال قائم کئے گئے وہاں پر مریض بچے زیادہ اور انتظامات کم ہیں۔ بہت سے بچے ہسپتال کے در پر اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں ان بچوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ امراء کی تعلیم اور غریب کی تعلیم میں بھی فرق ہے۔ پرائیویٹ اور گورنمنٹ سیکٹر میں بھی تعلیم کے میدان الگ الگ ہیں۔
اس کے علاوہ سب سے اہم چائلڈ لیبر ہے ۔ چائلڈ لیبرسے مراد نوعمر اور کم سن بچوں سے محنت مشقت اور ملازمت کرانا ہے۔ یعنی بچے کو اس کے حق تعلیم و تفریح سے محروم کر کے اس کو کم عمر میں ہی کام پر لگا دیا جائے۔ چائلڈ لیبر بچوں کے مسائل میں اہم ترین مسئلہ ہے۔ عالمی سطح پر چائلڈ لیبر کے اعداد و شمار بہت تشویشناک ہیں۔ایک اندازے کے مطابق چوبیس کروڑ ساٹھ لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ پھر ان بچوں میں سے تقریبا تین چوتھائی (سترہ کروڑ دس لاکھ) سخت مشقت والے کام کرتے ہیں جیسے کہ کانوں میں کام کرنا، کیمیکلز کے ساتھ کام کرنا اور کھیتی باڑی نیز خطرناک قسم کی مشینری کے ساتھ کام کرنا۔
چائلڈ لیبر کے بہت سے اسباب ہیں جن کے وجہ سے والدین اپنی کم سن اولاد کو کام کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں عام طور وہ والدین جو بچوں کی تعلیم کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے یا کسی وجہ سے خود کمانے کے قابل نہیں رہتے یا ان کی کمائی کم ہوتی ہے مگر زیادہ افراد کی کفالت ذمہ ہوتی ہے تو ایسے میں یہ والدین اپنے بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی کام پر لگا دیتے ہیں۔ بعض اوقات والدین کی تعلیم اور شعور میں کمی بھی اس مسئلے کا سبب بنتی ہے۔ بعض لوگوں کا نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ تعلیم کا مقصد رزق کمانا ہوتا ہے۔ پس یہ والدین بچوں کو بچپن سے ہی کسی فیکٹری، کسی موٹر مکینک یا کسی اور ہنرمند کے پاس بطور شاگرد چھوڑ دیتے ہیں تاکہ بچہ جلد روزگار کمانے کے قابل ہو سکے۔
آج کل سبزی فروٹ منڈیاں ،چھپر ہوٹل، ورکشاپس سے لیکر مختلف انڈسٹریز تک چائلڈ لیبر کا گڑھ ہیں۔ سڑکوں پر گشت کرتے بچے جو حالات گردش کی بنیاد پر مارے مارے پھرنے پر مجبور ہیں۔وہ معصوم بچے جن کے ہاتھوں میں کتابوں کا بوچھ اٹھانے کی طاقت ہوتی ہے ان کے ہاتھوں میں یہ معاشرہ ورکشاپس کی صورت میں اوزار تھما دیتا ہے۔
ملک بھر میں قانونی پابندی کے باوجود چائلڈ لیبر کا خاتمہ نہیں ہوا۔ چودہ سال سے کم عمر بچوں سے نہ صرف غیر قانونی مشقت لی جاتی ہے بلکہ ان سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتاہے۔ جبکہ یہ معصوم پھول تو صرف شفقت کے حقدار ہوتے ہیں۔ جوبچے زمانے کی کڑی دھوپ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتے وہ معاشرے کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی نمائندہ تنظیم گلوبل فاؤنڈیشن کے مطابق چائلڈ لیبر کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کی سزا 20ہزارروپے جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا کے باوجود بچوں سے غیر قانونی مشقت لی جاتی ہے۔
پاکستان میں 33%بچے چائلڈلیبر کاشکار ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پنجاب میں 2500سے زائد بھٹوں پر پانچ سے بارہ سال عمر تک کے ایک لاکھ سے زائد بچے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ شہروں میں گھر کی صفائی اور چھوٹے موٹے کاموں کے لیے تقریباًتیس ہزار بچے مصروف ہیں۔ بس اڈوں ، سبزی ،فروٹ منڈیوں ، ہوٹلوں،ورکشاپوں اور دیگر صنعتیں تو چائلڈ لیبر کی خلاف ورزی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
چائلڈ لیبر میں کام کرنے والے زیادہ بچے سکولوں سے بھاگے ہوئے ہیں۔ کوئی تعلیم کے ڈر سے تو کوئی مارپیٹ اور بے رحمی کے خوف ۔ کچھ ایسے بھی بچے ہیں جو والدین کے دباؤ سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ بچے اچھی زندگی اور تعلیم کے ساتھ ساتھ نفسیاتی طور پر جھگڑالو اور جرائم پیشہ بن جاتے ہیں۔ یہ منفی طرز عمل معاشرے کے لیے ناسور بن جاتا ہے۔ جو معاشرے کی تمام برائیوں کی ابتداء ہوتی ہے۔معاشرے میں ڈکیتی اور چوری جیسے ناسور جرائم جنم لیتے ہیں۔
چائلڈ لیبر کے خاتمے کے اقدامات کئے جائیں تو ان سے چھٹکارا حاصل ہوسکتا ہے۔ معاشرے کی سطح پر اگر ہر آدمی اپنے پڑوسی اور رشتہ داروں میں سے غریب افراد کی امداد کرے تو بھی بچوں کی مشقت کا خاتمہ ہو سکتا ہے کیونکہ ہر غریب فرد کسی نہ کسی کا پڑوسی یا رشتہ دار ضرور ہوگا۔ حکومت کے فرائض میں سے ہے کہ بے سہارا لوگوں کی کفالت کرے۔ اگر حکمران اپنے فرائض سرانجام دیں اور بیت المال اور سرکاری خزانے سے ایسے بے سہارہ خاندانوں کی مدد کریں جن کا کمانے والا کوئی نہ ہو تو چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی تنظیمات غریب ممالک پر چائلڈ لیبر کے باعث پابندیاں لگا کر ان کو مزید مشکلات سے دو چار کرنے کی بجائے ان ممالک کے غریب و مفلس افراد کی مدد کر کے ان کے مسائل کو حل کیا جائے۔ اگر معاشرہ، ملک اور بین الاقوامی برادری اپنے فرائض ادا کرے تو اضطراری حالات میں چائلڈ لیبر کے معاملہ کو بھی مستقل طور پر حل کر سکتی ہیں
افسوس حکومت چائلڈ لیبر کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ پاکستان میں سرعا م چائلڈ لیبر کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ اشد ضروری ہے کہ اس سلسلے پر خاص توجہ دی جائے۔ ہمارا مستقبل ان بچوں میں پوشیدہ ہے اگر یہی تاریکی میں ڈوب گئے تو اس خیال سے کوئی انکارنہیں کرسکتاکہ پاکستان کا مستقبل تاریک ہوگا۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ چائلڈ لیبر کو کنٹرول کرنے کے لیے جلدازجلد اقدامات کرے تاکہ کوئی روشنی کی کرن نظرآئے۔نہ صرف حکومت بلکہ معاشرے کے ہر فرد کواس مہم میں حصہ دار بننا ہوگا۔ہمیں بچوں سے صرف تعلیم کاکام لینا چاہیے اگر کوئی مجبوری ہوتو جہاں تک ہوسکے ان کی مدد کردے تاکہ وہ بھی خود کو اس معاشرے کاحصہ سمجھ کر مثبت ردعمل ظاہر کریں۔

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top