شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / بے تکی باتیں ہیں تو نہیں مگر ہما رے ہاں ہیں
loading...
بے تکی باتیں ہیں تو نہیں مگر ہما رے ہاں ہیں

بے تکی باتیں ہیں تو نہیں مگر ہما رے ہاں ہیں

sohail warsiبہت بار ، بار ہا کہا جا تا ہے ملک کو با قی دنیا کے برابر کھڑا کر یں گے ، مگر پو ری دنیا کہ چند مما لک کو دیکھتے ہیں تو سو چتا ہو ں سبزبا غ ہر بار دیکھا ئے جا تے ہیں اور طاقت رکھنے والے خا مو ش مگر اقبال کی اس بات کو سمجھے بغیر صرف با غ ہی نظر آ ئیں گے ،،
ہزارخو ف ہو لیکن زبان ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلند روں کا طر یق
مو جو د حکومت وا لے صرف نہیں بلکے سا بق سے سا بق والے کہتے رہے ہیں اور آ ئے دن کہتے آ ئے ہیں کہ ملک تر قی کی راہ پر گا مز ن ہے اور اپنے دور قتدار میں ملک کوبا قی دنیا کی قو موں کے ساتھ کھڑا کر یں گے ، یو رپ میں آ نے سے پہلے راقم جب پا کستان تھا تو کسی منسٹر کے منہ سے ایسی باتیں سنتے تھے تو خو ش فہمی کہہ لیں یا اور کو ئی چا رہ نہیں تھا تو یقین کر لیتے تھے کہ ہما رے خد مت گا ر ٹھیک کہہ رہے ہیں زیا دہ نہیں تو کچھ فیصد تو ان کی با تیں سچی ہو ں گئیں ، پھر پر دہ ا ٹھا تو راز فا ش ہو تے گے کہ اصل میں عوام کو بے وقو ف بنا یا جا تا ہے ، اب تک بنا یا جا رہا ہے ، اور آ گے کب تک بنا یا جا ئے گا یہ ہم عوام پر ہی ہے ، کیوں کہ جب زبا ن حقا ئق کے مطا بق نہیں بو لے گئی ، ذا تی مفا د یا کسی اور وجہ سے خا مو شی ہو گی توسبز با غ دیکھا نے والوں کو اور ہمت ملتی اور وہ ٹھیک سے سمجھ جا تے ہیں ، کہ ہم کو کو ئی روک ٹو ک نہیں ، نا ہی کو ئی ہم سے کراس سوال کر نے کی اخلا قی جرا ت کر تا ہے ، لہذا جیسے چل رہا ہے چلنے دیں ، اپو زیشن والے جو رول ادا کر تے ہیں وہ عوامی مطا لبے تو ہیں مگر زیا د مفا د ان کے ہو تے ہیں ، اصل معنوں میں ہما را ملک باقی تر قی یا فتہ مما لک کے برابر کیسے کھڑا ہوسکتا ان با توں کی طر ف اقدامات نہیں ہو تے، مجھے تو آ ج کل کے یو نین کو نسل کے سیا ست دانوں سے لے کر منسٹر تک ذہین مر یض لگتے ہیں جو کسی سڑک کا افتتا ح کر کے سمجھتے کہ جس عوام نے ووٹ دی اس کا حق ادا کر دیا ، سڑ کیں ضر وری ہیں ، بلکے بہت ضر وری ہیں ، ذرا ایک نظر ان تر قی یا فتہ مما لک کی طر ف ، جن کے بارے ہما رے سیا ست کہتے ہے کہ ہما رے معا شرے کو ویسے بنا ئیں گے ،وہ تر قی یا فتہ ممالک اپنی عوام کے ساتھ کیسے ، یہ سیا ست دان آ ئے دن ان ممالک کے دوروں پر ہو تے ہیں کیا ان کی نظر اس طر ف نہیں پڑ تی ، اور عوام کے تر جما ن اپو زیشن والے کیا کبھی اس طر ح کا بل لے کے گے اسمبلی میں ، ایک نظر ، فیصلہ قا رئین پر ، بات بر طا نیہ کی کر تے ہیں ، یہاں ہما رے سیا ست دانوں کا آ نا جا نا بھی بہت ہے ، ہما رے ہاں کہا جا تا ملک تر قی کی راہ پر گا مزن جلد قوم کو ان کے ممالک کے برابر کھڑا کر یں گے ،بر طا نیہ میں ہر فر د رجسٹرڈ ہے ایک سر کا ری کلینک میں ، کچھ علا قے نہیں ، ہر فر د ، ان کو جب کو ئی بیما ر ی ہو تی ہے تو ٹا ئم لے کے اس پا س کی کلینک میں جا تے ہیں وہاں اس کا جو ڈاکٹر چیک کر تا ہے بڑی بیما ری ہو تو بڑے نز دیک کے ہسپتال رابطہ کیا جا تا ہے با قی علا ج وہاں ہو تا ہے ، اور ٹو ٹل فر ی، اور کو ئی بھی فر د جس ڈاکٹر یا کلینک میں رجسٹر ڈ ہو تا ہے پہلے اسی کے پا س جا ئے ، ورنہ اس ملک کا کو ئی ڈاکٹر اس کی نہیں سنے گا ،ایمر جنسی کی صورت میں وقتی علاج کیا جا تا ہے ، جیسے کسی کی جان کو خطرہ ہو ، کیا ہما رے ہا ں یہ سیاست اس طر ح کی قا نو ن سا زی کر رہے ہیں ، چلیں پو رے ملک میں نہیں ، چند بڑے شہروں میں بھی ایسا ہے کیا ؟ اوکے ، اب ایک اور طر ف غو ر کرتے ہیں ، یو رپ ، بر طا نیہ میں کو ئی بھی کا م شروع کیا جائے وہ بز نس ہو ، زمین خر ید نی ہو ، قانونی نو ٹس ہو ، وکیل کی مد د سے ہر کا م کیا جا تا ہے اور وکیل سر کا ری دفا تر میں جا کر کام کر تے ہیں جو پرابلم ہو حل کر تے ہیں ، اس طر ح ایک تو عام شہر ی کو قانونی علم نہیں ہو تو وکیل کے پا س جا تا اس کا ٹا ئم بچ جا تا اور نقصان سے بھی ، ہما رے ہاں وکیل کس طر ح روزگا ر یا کیس کی تلا ش میں ہو تے ہیں کہ سیا ست دانوں کی نظر نہیں پڑ تی ، ڈا کٹر ، وکیل بر طا نیہ جیسے ملک میں عز ت کی روز ی اس وجہ سے کما تے ہیں ، یہاں ان کو نہ ہی اپنی کلینک بنا نی پڑتی ہے اور نہ ایک کر سی میز کا آ فس بنا نا پڑتا ہے ، ہما رے ہاں ایسا ہے ؟ نہیں ۔ اوکے ، ایک طر ف اور غور کر تے ہیں ، یہاں جہاں بھی جا ئیں سر کاری یا سر کا ر کی طر ف سے کمپنی کی ٹرانسپوٹ ہے ، ہر طر ف بسیں چلتی ہیں ٹر ینوں کا لکھ نہیں رہا کہ ٹر ین ہما رے ہاں کبھی اس طرح کی شروع ہو نہیں سکتی ، بسیں مقررہ ٹا ئم پر ہر سٹا پ پر آ تی ہیں ، لو گ گھر بیٹھے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ گھر سے کب نکلیں تو کس ٹا ئم کی بس آ گے ہو گی ، وقت کا ضا ئع نہیں ، کوئی آ وازیں نہیں لگا تا ، کپڑوں سے پکڑ کر گا ڑی کی طر ف زور نہیں دیتا ، صا ف ستھر ی ٹرانسپو ٹ ، اور عوام کے ٹیکس سے بز رگ شہر یوں کو فری پا س دیے جا تے ہیں ، ہما رے ہاں پا س تو دور کی بات کیا ایسی ٹرا نسپو ٹ ایک شہر میں بھی دے سکے ، جہاں جا ئیں آ واز آ رہی ہو تی ہیں کرایہ کیا اس پر بحث ہو تی ، ہما رے سیا ست دان چا ہتے بھی یہی کہ ہم اس طر ح کی بحث میں الجھے رہیں ، ہما رے ہاں ایک شہر بھی اس طرح کی ٹرانسپو ٹ چلا رہا ؟ نہیں ، اوکے ، اب ایک اور بات ، بر طا نیہ پو رے یو رپ میں پر سنل ، پر ائیوٹ سکول کالج یو نی ورسٹی نہیں جو نیم ہیں وہ قا نون کے مطا بق طا لب علموں کو ڈیل کر تے ہیں ، ہما رے ہاں آ ج کل سب سے بڑا بز نس ہی یہی بنا ہوا ہے ، جس سے عوام میں تفر یق پڑ رہی ہے ، معا شرہ اس بیما ری میں مبتلا تو کیا تر قی ہو گی جب سی وی دیکھ کے ڈیل کیا جا تا کہ کسی مہنگے ادارے سے آ یا تو اس کی جا ب پکی ، سر کا ری اداروں والوں کو حقا رت کی نگاہ سے دیکھا جا تا ہے ، کیا ایسا نہیں ؟ ایسا ہی ہے ، صحت ، تعلیم ، ٹر انسپو ٹ بنتا دی ضر ورتیں ہیں ، ان میں سے ایک کے بارے ایسے اقداما ت کیے جا رہے ہیں جیسے ان ممالک میں جن کے بارے ارشادات فر ما ئے جا تے ہیں کہ ہم اپنی قو م کو ان کے برابر کھڑا کر یں گے ،تسلی دی جا تی کہ تر قیا تی کا م ہو تو رہے ہیں ، اوکے ہو رہے ہیں کیا سرکاری ٹر انسپو ٹ، ہر فر د ڈاکٹر کے پا س رجسٹر ڈ ہو ، وکیلوں کے ذریعے حل ، یہاں تو کچھ اور ہی سب ، تو پھر یہ سب کسی ایک بڑے شہر میں ایسا کچھ نہیں تو کس منہ سے کہہ دیا جا تا ہے کہ ہم تر قی کی راہ پر گا مزن ہیں ، اور ہما ری قوم با قی قوموں کے برابر ، اور تو اور ہما رے سوال اٹھا نے والے وہ بھی یو رپ جا تے کبھی کسی نے ان تین بنیا دی سہو لتوں کے با رے سوال کیا کہ یو رپ کی طر ح ہما ری عوام کو ایسی سہو لتیں کب میسر آ ئیں گئیں، دیکھتے سب ہیں ، پھر خا مو شی ہی کیوں ، اگر خا مو شی ہی رکھنی ہے تو ہر با ر صرف سنا جا ئے گا کہ ہم تر قی کر رہے ہیں ۔ بہت بار ، بار ہا کہا جا تا ہے ملک کو با قی دنیا کے برابر کھڑا کر یں گے ، مگر پو ری دنیا کہ چند مما لک کو دیکھتے ہیں تو سو چتا ہو ں سبزبا غ ہر بار دیکھا ئے جا تے ہیں اور طاقت رکھنے والے خا مو ش مگر اقبال کی اس بات کو سمجھے بغیر صرف با غ ہی نظر آ ئیں گے ،،
ہزارخو ف ہو لیکن زبان ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلند روں کا طر یق

note

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top