شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / سی پیک منصوبہ قابلِ تعریف ہے مگر ؟
loading...
سی پیک منصوبہ قابلِ تعریف ہے مگر ؟

سی پیک منصوبہ قابلِ تعریف ہے مگر ؟

azamالحمدُ اللہ ،بیشک آج ہمارا سی پیک منصوبہ حقیقت کا روپ دھار چکاہے، عنقریب اِس منصوبے کے ثمرات وفاق سمیت چاروںصوبوں کو بھی ملنے شروع ہوجائیں گے،مُلکی معیشت آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگے گی،ہمارا اقتصادی ڈھانچہ مستحکم ہوگا،اور اور اورپاکستان کے بیس کروڑ عوام کے دُکھ درد اور مسائل سب دور ہوں گے، شہرتو شہر گاو ¿ں میںبھی ترقیاتی کاموں اور منصوبوں کا ایک نہ رکنے والاسلسلہ شروع ہوجائے گا،ماہانہ اور سالانہ ہونے والی آمدنی سے قومی خزانہ لبالب بھرجائے گا،کل جہاں مُلک سے غربت ختم ہوگی تو وہیں مُلک سے امیری غریبی کا فرق بھی ختم ہوجائے گا، گویا کہ اپنے قیام سے لے کر آج تک پاکستانی قوم اپنے جن بنیادی حقوق سے محروم تھی اَب اِسے سارے حقوق میسر آجا ئیں گے، مُلک میں جہاں معاشی استحکام آئے گا تو وہیں برسوں سے بجلی ، گیس اور توانائی سمیت دیگر بحرانوں سے پریشان حال پاکستانیوں کو تمام مسائل اور بحرانوں سے بھی نجات نصیب ہوگی،یعنی یہ کہ بس ایک سی پیک منصوبے کی تکمیل سے صرف گوادر ہی کی نہیں بلکہ پورے مُلک کی قسمت چمک اُٹھی ہے، ہم اپنے مُلک کی اِس عظیم ترین کامیابی پراللہ کے حضور سربسجود ہیں اوردُعا کرتے ہیں کہ اَب اللہ بھارت اور افغانستان جیسے ہمارے نئے پرانے (دونوں اور تمام ) دُشمنوں کی نظرِبد اور حسد سے سی پیک منصوبے کو محفوظ رکھے اور ہمارے اِن دُشمنوں کو ایسی نکیل ڈال دے کہ یہ اپنے ہی اندرونی مسلے مسائل اور خانہ جنگی ہی میںگھیرے رہیں اَب اِنہیں ہمارے مُلک اور ہمارے سی پیک منصوبے کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی مہلت ہی نہ ملے اور ہمارا مُلک پاکستان ترقی اور خوشحالی کی اُوج ثریا کی بلندیوں سے بھی زیادہ اُونچا ہوجائے۔( آمین یار ب العا لمین)۔ آج اِس سے انکار نہیں ہے کہ ہمارا سی پیک منصوبہ مکمل ہوگیاہے جو جدیدتقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور پوری طرح فعال ہوکر آپریشنل ہے اِس کی تکمیل سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی سہولیات میسر آئیں گیں اور یہ بھی تجارتی حوالوںسے استفادہ حاصل کرسکیں گے اِس لحاظ سے یقیناہماراسی پیک منصوبہ قابلِ تعریف ہے مگراَب وزیراعظم نوازشریف وزیرپیٹرولیم شاہدخاقان عباسی اپنے جائز اور قانونی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اوگراکوبھی لگام دیں(جیسا کہ اَب حکومت نے اوگراکو لگام دے دی ہے تادم تحریرایک تازدہ ترین خبر کے مطابق اَب اوگرا 6 ما ہ تک گیس کی موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کی پابند ہوگی) کہ گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے میں اپنی من مانی کرنابند کرے اور جس قدر جلد ممکن ہوسکے اِسے یہ بھی بتائیں اور سمجھائیں کہ اِس کا کام صرف گورکھ دھنداکرکے گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اِس کا کام تو مُلک میں توانائی بحران کو قابو کرنے کے لئے بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانااور اقدامات کرناہے جو کہ اوگرانہیں کررہی ہے حالانکہ اِسے گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے ساتھ ساتھ اِن کی قیمتیں کم کرنے کے بھی اختیارات تقویض کئے گئے ہیں۔  مگرآج یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ یہ ایسا نہیں کرتی ہے سوائے اِس کے کہ یہ اکثر اپنی مرضی سے ہر پندرہواڑے پیٹرولیم مصنوعات تو کبھی گیس کی قیمتوں میںاضافے کی سمری بنا کر وزیراعظم نوازشریف اور وزیرپیٹرولیم کو روانہ کردیتی ہے اور انتظار کرتی ہے کہ جیسے ہی اِس کی منظوری کا سنگل ملے فوراََ ہی( راتوں رات )پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتیں بڑھانے کا نوٹیفیکشن جاری کرکے سُکھ کا سانس لے کر بیٹھ جاتی ہے اور مُلک کے غریب عوام توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے بم تلے دب کر بلبلا اُٹھتے ہیں ۔
تاہم ایک خبر کے مطابق یہ کتنی افسوس کی بات ہے کہ ” اوگرانے وزیرپیٹرولیم کے اعلان کے برعکس 15نومبرسے گیس قیمتوں میں 36فیصداضافے کا خودساختہ فیصلہ کرلیا تھا“گویا کہ وزیرپیٹرولم شاہدخاقان عباسی کے گیس مہنگی نہ کرنے کے اعلان کے برخلاف اوگرانے تو اپنی مرضی سے 15نومبرسے باقاعدہ طور پر گیس کی قیمتوں میں36فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کرکے پاکستانی قوم پر مہنگائی کا بم گرانے کاعندیہ دے دیاتھا جس کی ہر پاکستانی پُرزومذمت کرتاہے اور وزیراعظم نوازشریف اور وزیرپیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کو مخاطب کرکے کہتاہے کہ کیا اوگراکے پاس آپ سے بھی زیادہ اختیارات ہیں ؟؟ اور یہ کتنا بڑاادارہ ہے ؟؟ کہ جو وزیراعظم اور وفاقی وزیرپیٹرولیم کے احکامات کو بھی ہوامیں تحلیل کرکے اپنی مرضی چلارہاہے؟؟  خبرکی تفصیل کچھ یوں ہے کہ وزیرپیٹرولیم شاہدخاقان عباسی کے گیس مہنگی نہ کرنے کے اعلان کے برخلاف اوگرانے 15نومبرسے گیس کی قیمتوں میں یکمشت36فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کرلیا تھامزید یہ کہ عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے بڑی چالاکی اور ہوشیاری سے وزیراعظم، وزارت پیٹرولیم اور وزارتِ خزانہ کویہ خط بھی لکھ دیاتھا کہ گیس مہنگی ہونے کی صورت میں گھریلوصارفین بُری طرح سے متاثرہوں گے اور خط میں اوگرانے یہ بھی کہہ دیاتھاکہ ذرائع کے مطابق کمپنیوں کی مالی ضرورت پوری کرنے کے لئے گیس کے نرخوں میں اضافی کرناقانونی طور پر لازم ہوچکاہے اِس لئے اگر حکومت نے ایڈوائس نہی دی تو اوگراآرڈیننس کی روشنی میں 15نومبرکو نوٹیفیکیشن جا ری کردیاجا ئے گااور اگر پندرہ نومبر سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیاگیاتو یہ قانون کی خلاف ورزی ہوگی ایک طرف تو اوگرااپنے خط میں یہ لکھ رہی ہے تو دوسری جانب یہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ اِسی خبر میں اِسی گورکھ دھنداکی ماہر اوگراکے ترجمان کے حوالے سے یہ بھی کہاگیا تھا کہ ” وزیراعظم کی سفارش اور منظوری کے بغیر گیس قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا“۔
 ہاں البتہ اَب اِس سارے منظر نامے سے کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ ” پاناما لیکس کے اسکینڈل میں گھیرے وزیراعظم اور وفاقی وزیرپیٹرلیم کچھ بوکھلاہٹ کے شکارہیں؟ وہ یہ فیصلہ نہیں کرپارہے تھے کہ یہ گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے اوگراکی بھیجی گئیں سمریوں پر ہاںکریں یا نہ ..؟؟پھر اِنہوں نے یہ سوچا ہوگا کہ ایساکیوں نہ کیا جائے کہ چلو گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ خود ہی اوگراکرتی رہے مگر اِس جب اوگرایہ دیکھ رہی کہ حکومت پاناما لیکس اسکینڈل کی وجہ سے پریشان ہے تواوگرابھی ڈرامہ بازی سے کام لے رہی ہے،آخر کار وزیراعظم اور وزیرپیٹرولیم نے اوگرا کی عیاری اور مکاری کو
 سمجھ لیا اور اِسے سختی سے منع کرتے ہوئے لگام دے ہی دی کہ وہ اپنی حد میں ہی رہے اور اَب گیس کی موجودہ قیمتیں چھ ماہ تک برقرار رہیں گے اور اوگرا اِدھر اُدھر سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا جواز مت ڈھونڈے اورحکومت کو بیجا لکھ خط کر گیس اور پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمریاں ہرگز نہ بھیجے اِسی میں اوگرا اور حکومت کی بھلائی ہے ورنہ عوام میں حکومت کا رہاسہا گراف بھی زمین بوس ہوجا ئے گا
note
Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top