شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / کرکٹ جیت گئی دہشت گردی کو شکست

کرکٹ جیت گئی دہشت گردی کو شکست

پاکستان میں ورلڈ الیون کی آمد کے بعد کرکٹ کے دیوانوں کی عجب صورتحال اوربے حدخوشی مقام تھا کہ پاکستان میں انٹر نیشنل کھلاڑیوں کی آمد کا آغاز ہو گیا اور اس سیریز میں پاکستانی ٹیم کی جیت نے خوشیوں کو مزید چار چاند لگا دیئے ،قذافی سٹیڈیم عالمی ستاروں سے جگمگا اٹھاتی آخری میچ سے قبل سابق کپتان مصباح الحق اور شاہد آفریدی کو سٹیڈیم میں زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا انہیں رنگ برنگے رکشے میں بٹھا کر گراؤنڈ کا چکر لگوایا گیا شائقین نے شاندار استقبال کیا جبکہ یونس خان نے فیر ویل ایوارڈ کا مکمل بائیکاٹ جاری رکھا،ورلڈ الیون اور پاکستان ٹیم کے مابین تیسرا اور آخریT20جو فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا تھاپاکستان نے احمد شہزاد کی شاندر بیٹنگ اور باؤلرز کی عمدہ کارکردگی کی بدولت اپنے نام کیا،ْ کپتان فاف ڈیو پلیسی نے جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی ،پاکستانی اننگز کا آغاز انتہائی پر اعتماد تھا مگر بد قسمتی سے فخر زمان غیر متوقع طورپر رن آؤٹ ہو گئے انہوں نے25گیندوں پر ایک چھکے اور دو چوکوں کی مدد سے27رنز بنائے تھے،احمد شہزادنے بابر اعظم کے ساتھ کھیل کو آگے بڑھایا اور کریز سنبھالی وہ 17اوور میں89رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے شہزاد نے55گیندوں پر 8چوکوں اور3چھکوں کی مدد سے یہ رنز بنائے شہزاد نے جارحانہ انداز میں پین کٹنگ کو لگا تار تین چھکے لگائے،بابر اعظم 48کے انفرادی سکور پر کیچ آؤٹ ہو گئے،عماد وسیم بغیر کسی رن کے پویلین واپس لوٹ گئے، شعیب ملک نے شاندار ناٹ آؤٹ17رنز بنائے،پاکستان نے مقررہ اوورز میں183/4سکور کر کے ورلڈ الیون کو184کا ٹارگٹ دیا،ورلڈ الیون کے اپونر تمیم اقبال نے عماد وسیم کو پہلے ہی اوور میں تین لگا تار چوکے لگا کر جارحانہ اننگز کا آغاز کیا مگرالگے ہی اوور میں عثمان شنواری نے ان کی وکٹیں بکھیر دیں،حسن علی نے کٹنگ کو محض پانچ رنز پر بولڈ کر دیااس سے اگلی ہی گیند پر ہاشم آملہ رن آؤٹ ہو گئے،کپتان فاف ڈیو فلپیسی 13رنز بنا کر کریز چھوڑنے پر مجبور ہو گئے انہیں شاداب خان نے آؤٹ کیا ،جارج بیلے کی وکٹ عماد وسیم نے حاصل کی ،پریرا نے شاداب خان کو مسلسل تین گیندوں پر چھکے اور چوتھی گیند پر چوکا لگاکر پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن تیز کر دی مگر وہ اگلے ہی اورر کی آخری بال پر رومان رئیس کی گیند پر بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے ان کے بلے نے صرف12گیندوں پر32 رنز اگلے،دیوڈ ملر بھی32رنز پر حسن علی کو چھکا لگانے کی کوشش میں باؤنڈری پر کیچ آؤٹ ہوئے ،ڈرین سیمی کا ساتھ دینے مورنی مورکل آئے تاہم انہیں دوسری ہی گیند پر بابر اعظم نے رن آؤٹ کر دیا،ڈیرن سیمی نے بغیر آؤٹ ہوئے 24رنز بنائے احمد شہزاد کو شاندار کارکردگی پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا،سیریز میں سب سے زیادہ رنز179 بنانے پر با بر اعظم مین آف دی سیریز(انہوں نے کسی بھی سیریز میں شہزاد احمد کا سب سے زیادہ انفرادی رنز کا ریکارڈ توڑ دیا)،ڈیرن سیمی کوسمارٹ باؤلر کے ایوارڈ سے نوازا گیا، پاکستان نے ایک سنسی خیز مقابلے کے بعدآخری اوور کی پانچویں گیند پر شکست دے کر آزادی کپ 33رنز سے جیت لیافائنل میچ میں صرف ایک ففٹی بنی جبکہ دونوں ٹیموں کے دو دو کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے،اس سیریز کے ہر میچ میں جیتنے والی ٹیم کے ایک ایک کھلاڑی نے نصف سینچری سکور کی ،ورلڈ الیون کے 13کھلاڑی 11ستمبر کی شب لاہور ائیر پورٹ پہنچے جبکہ سیموئل بدر نے شام کو ٹیم کو جوائن کیا،ائیر پورٹ پر چیر مین پی سی سی نجم سیٹھی ،صوبائی وزیر کھیل جہانگیر خانزادہ سمیت بورڈز کے دیگر حکام نے استقبال کیا ائیر پورٹ سے کھلاڑیوں کو سخت سیکیورٹی میں ہوٹل پہنچایا گیا،ان کی پاکستان آمد پر پوری قوم کا جوش و خروش دیدنی تھا سوشل میڈیا پر بھی ان عالمی اسٹارز کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا،وسیم اکرم کے مطابق قوم کے محبوب ترین کھیل کا دوسرا جنم ہے،خالی میدان پھر آباد ہوں گے جنید خان،اس موقع پر ہر کوئی پر جوش ہے، عمر اکمل۔چیر مین نجم سیٹھی نے آئی سی سی کے ڈائریکٹر کرکٹ جائلز کلارک کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا یہ ٹی ٹونٹی سیریز نہیں بلکہ ایک تاریخی لمحہ ہے،جائلز کلارک نے کہا یہ پاکستان میں بین الالقوامی کرکٹ کی بحالی کا پہلا قدم ہے پاکستانی قوم مبارک باد کی مستحق ہے،کپتان فاف ڈیوپلیسی نے کہا وہ پاکستان صرف کرکٹ کھیلنے کے لئے نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر کچھ کرنے کے لئے آئے ہیں،قذافی سٹیڈیم میں مہمان ٹیم کا پرتپاک استقبال کیا گیا روایتی سواری رنگ برنگے رکشوں پر مہمانوں کو گراؤنڈ کا چکر لگوایا گیا،پہلے میچ میں ورلڈ الیون کے کپتان فاف ڈیوپلیسی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی ،فخر زمان نے جارحانہ انداز میں کھیل کا آغاز کیا مگر ناکام رہے انہیں مورنے مورکل نے پویلین بھیج دیا،احمد شہزار اور بابر اعظم نے 122رنز کی عمدہ شراکت قائم کی احمد شہزاد کو39کے انفرادی سکور پر بین کٹنگ نے آؤٹ کیا ،با بر اعظم نے 86رنز کے ساتھ اپنےT20کیرئیر کا شاندار آغاز کیا،انہیں عمران طاہر نے شکار کیا،شعیب ملک اور عماد وسیم کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے 5وکٹ پر197 رنز کا مجموعہ کھڑا کیا شعیب ملک38اورعماد وسیم نے15رنز بنائے،تھسارا پریرا نے دو وکٹ حاصل کئے،ورلڈ الیون نے اپنی ٹیم کو43رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا تمام باؤلرز کی ناکامی بعد سرفراز نے رومان رئیس کو آزمایا جنہوں نے تمیم اقبال کو آؤٹ کر کے مخالف ٹیم کا پہلا شکار کیا،کپتان فاف ڈیوپلیسی شاداب خان کے ہاتھوں پویلین گئے ان کے فوری بعد ٹم بین بھی کریز چھوڑ گئے جو سہیل خان کی گیند پر رومان کو کیچ دے بیٹھے، ان فارم بیٹسمین ہاشم آملہ کو بھی رومان رئیس نے ہی آؤٹ کیا،اس میچ میں ورلڈ الیون 177رنز بنا سکی یوں پاکستان نے یہ میچ20رنز سے اپنے نام کر لیا،ہاشم آملہ26 ،ٹم بین25اور سیمی نے29رنز بنائے،بابر اعظم اپنے پہلے ہی میچ میں مین آف دی میچ کا اعزاز حاصل کر گئے،دوسرے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کو ہی ترجیح دی اس میچ میں حسن علی اور فہیم اشرف کی جگہ عثمان شنواری اور محمد نواز کو شامل کیا گیا ،احمد شہزاد اور فخر زمان نے41رنز کی اوپننگ پارٹنر شپ فراہم کی اس موقع پر فخر زمان21سکور کے بعد آؤٹ ہوگئے،احمدشہزاد نے بابر اعظم کے ساتھ مل کر ٹیم سکور کی سینچری مکمل ہوتے ہی احمد شہزاد آؤٹ ہو گئے،بابر اعظم 45،عماد وسیم 15،سرفراز احمد پہلی ہی گیند پر آؤٹ جبکہ شعیب ملک نے23گیندوں 39رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی پاکستان نے6وکٹوں پر174سکور بنا کرورلڈ الیون کو جیت کے لئے175رنز کا ہدف دیا،ورلڈ الیون نے بیٹنگ کا آغازکیا تو شعیب ملک نے تمیم اقبال انتہائی مشکل کیچ کر کے اسے واپس بھیج دیا،ٹم بین کو عماد وسیم نے آؤٹ کیا تو کپتان میدان میں اترے جو 35رنز کی شراکت کے بعد محمد نوازکو وکٹ دے گئے ان کے بعد پریرا اور ہاشم آملہ نے شاندار شراکت قائم کر کے پاکستان سے فتح چھین لی،پریرا کو 19گیندوں پر 5چھکوں کی مدد سے 47رنز اور دو وکٹ لینے پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ ملا،ہاشم آملہ نے74رنز بنائے تھے،سیریزکے پہلے میچ میں علیم ڈار اور حسن رضانے ایمپائرنگ کے فرائضٖ انجام دئے جبکہ تھرڈ ایمپائرشوزاب رضا تھے،دوسرے میچ میں احمد شہاب اور شوزاب رضا گراؤنڈ ایمپائر اور حسن رضا تھرڈ ایمپائر تھے،آئی سی سی نے ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان اور آئی سی سی کے ایلیٹ ریفری پینل کے رکن رچی رچرڈ سن کو میچ ریفری مقرر کیا اس سیریز میں ایلیٹ پینل کا کوئی غیرملکی ایمپائر نہیں تھا،علیم ڈار صرف ایک میچ میں ایمپائرنگ کرکے آئی سی سی آفیشلز کی سالانہ ورکشاپ کی وجہ سے بیرون ملک چلے گئے،ورلڈ الیون کے کوچ اینڈی فلاور ہیں حسن اتفاق ہے کہ ان کے بھائی گرانٹ فلاور پاکستانی ٹیم کے بیٹنگ کوچ ہیں،8مارچ2009میں لبرٹی چوک میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملہ کے بعد پاکستان پر انٹرنیشنل کھیلوں کے دروازے بند ہو گئے تھے،پھرسوائے زمبابوے کے عالمی ٹیم نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا، گراؤنڈ ویران رہے،پاکستان کو اپنے تمام میچ ہوم گراؤنڈ کی بجائے نیوٹرل مقام پر کھیلنا پڑے،ورلڈ الیون کی14رکنی ٹیم کے10کھلاڑی پہلی مرتبہ کوئی میچ کھیلنے پاکستان آئے ہیں صرف چار کھلاڑی پال کالنگ ووڈ،ہاشم آملہ ،تمیم اقبال اور ڈیرن سیمی رواں سال صرف پی ایس ایل کا فائنل کھیلنے پاکستان آئے تھے، ورلڈ الیون میں نو کھلاڑی فاف ڈیوپلیسی،ہاشم آملہ،مورنے مورکل،ڈیوڈ ملر،عمران طاہر،تمیم اقبال،تھسارا پریرا،سیمؤل بدری اور ٹم پین اس وقت بھی انٹر نیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں،ورلڈ الیون میں پاکستانی نژاد کھلاڑی عمران طاہرجو T20میں عالمی رینکنگ میں دوسرے نمبر پر ہیں لاہور میں پیدا ہوئے اور انہیں پہلی مرتبہ لاہور میں انٹرنیشنل میچ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے عمران2011سے جنوبی افریقہ کی جانب سے کھیل رہے ہیں عمران طاہر نے فرسٹ کلاس کرکٹ، انڈر19اور پاکستان اے ٹیم کی نمائندگی کی لیکن سینئر ٹیم میں منتخب نہ ہونے پر کاؤنٹی کرکٹ کا رخ کیا اور وہیں سے جنوبی افریقہ منتقل ہو گئے،آئی سی سی نے اس سیریزکو انٹرنیشنل میچوں کا درجہ دے دیا ہے البتہ سیریز کی کامیابی یا ناکامی قومی ٹیم کی رینکنگ پر اثر انداز نہیں ہو گی ،عالمی رینکنگ میں پاکستانی ٹیم کے عماد وسیم واحد کھلاڑی ہیں جو 5ویں نمبر پر ہیں اور کوئی پاکستان کھلاڑی ٹاپ ٹین میں نہیں ہے ،ورلڈ الیون کے بلے باز کپتان فاف ڈیو پلیسی واحد کھلاڑی ہیں جو 8ویں پوزیشن پر ہیں ،دونوں ٹیموں کا کوئی اور بیٹسمین ٹاپ ٹین فہرست میں نہیں ہے، شعیب ملک T20میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ سکور بنانے والے بیٹسمین بن گئے ہیں وہ 88میچوں میں نصف سینچریوں کی مدد سے 17ہزار سے زائد رنز بنا چکے ہیں ، 27ہزار گنجائش کا حامل قذافی سٹیڈیم پاکستان کا سب سے بہترین سٹیڈیم ہے جو1959میں بنایا گیاپہلے اس کا نام لاہور سٹیڈیم بعد میں 1971میں نیوکلیر بم کے حوالے سے عالمی سطح پر معمر قذافی نے پاکستان کی بھرپور حمایت کی تواس کا نام قذافی سٹیڈیم رکھا گیا،اب اس سٹیڈیم کا نام عظیم عبدالستار ایدھی مرحوم کے نام پر رکھنے کی تجویز زیر غور ہے قوم بھی یہی چاہتی ہے کہ اس سٹیڈیم کا نام عبدالستار ایدھی کے نام پر ہی رکھا جائے ،14ستمبر کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے مصباح الحق کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ،شاداب خان اور حسن علی کوایمرجنگ پلیئر آف دی ائیر،ون ڈے پلیئر آف دی ائیربابر اعظم،ٹیسٹ پلیئر آف دی ائیریاسر شاہ ،آؤٹ سٹینڈنگ آف دی ائیر عماد وسیم نے ایوارڈزحاصل کئے جبکہ یونس خان اور بوم بوم آفریدی نے اس تقریب کا بائیکاٹ کیاتھا، یو بی ایل آزادی کپ کا انعقادانتہائی سخت سیکیورٹی میں کیا گیا ٹیموں کی سٹیڈیم آمد سے قبل ہی فوج،رینجرز اور پولیس اپنی پوزیشنیں سنبھال لیتیں،10ہزار سے زائد صرف پولیس اہلکار تعینات تھے جن میں 24ایس پیز،52ڈی ایس پیز،114ایس ایچ اوز،880ایلیٹ ٹیمیں،پولیس کوئیک رسپانس کی55گاڑیاں،100سے زائد ڈولفن سکواڈ کی بائیکس،جبکہ سٹیڈیم کی مکمل طور پر فضائی نگرانی کی جاتی رہی،سٹیڈیم میں شائقین کی کمی کا اعتراف کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہاکہ ان میچوں کی ٹکٹوں کی قیمتیں زیادہ رکھ دی گئیں اسی وجہ سے گراؤنڈ مکمل طور پر بھر نہ سکا جبکہ دوسری جان عوام نے ٹکٹوں کی عدم دستیابی کی شکایت کی ہے،اس سیریز کے لئے ٹکٹوں کی قیمت،500،2500،4اور8ہزار تھی، بلاشہ کرکٹ جیت گئی اور دہشت گردی ہار گئی

x

Check Also

ڈانس پارٹی پرچھاپہ،اسٹیج اداکارہ سمیت7رقاصائیں گرفتار

خانیوال (مانیٹرنگ سیل) خانیوال میں پولیس کی بڑی کارروائی کرتے ہوئے ڈانس ...

Connect!