شہ سرخیاں
Home / کالم / کالم

کالم

IRFAN AJAZ COLUMN MONOGRAM
Share Button

About admin

  • kia site hy sir?

  • ch.asif

    ap ka artical psand aya jnb

  • محمد جاوید اقبال صدیقی

     میں نے ایک آرٹیکل پہلی مرتبہ آپ کی خوبصورت ترین ویب سائٹس پر بھیجا ہے مگر تاحال شائع نہیں ہوا ہے۔
     آپ کے کالم نگاروں میں جگہ کا طالب ہوں۔ امید ہے جلد کالم نگاروں کی صف میں میرا نام بھی ایڈ کر دیا جائے گا۔
    ایک بار پھر شکریہ 

  • Bashir Ahmed Mir

    Sir,SALLAM,
    mien ny web site ko acha paya,inshallah web k future bright hy,mien ny web wo face book py b advertise kiya hy ,i any where adverise this web all the world.
    Thanks

  • hamza butt

    Good mir bhai Bohat Achay

  • Waseem Mir

    aoa,best web hy,current afairs ko speedly attached karein taky world mien aik naam ban jahy,ham sy jo ho saka tahwan karen gy,

  • Good  sir ap bhot achy hn ap moje b apni tiem me shaml frma len  Thanks!

  • Dear sir,
      mugay bay had khoshi hoi hay kay ap nay mugay apni beauti web site mian me shaml frmaya .i love ur web site ,mian omeed karta on kay next bhi mugay isi tarha nawaza jay ga,
    ap kay v v thnx
    From 
    Abdul mateen
     

  • janab editor saheb may nay ak column sent ki hay omaid hay k miray taswir k sath jaga dingay. Ensha allah miray digar columns b sent kartay rahingay. Thanks

  • nadeem shahzad

    http://www.sapulse.com/new_comments.php?id=6263_0_1_0_

    my artical publish, plz open the links

  • nadeem shahzad

    Nadeem Shahzad NNI

  • Mian Naseer Ahmad

    تعلیم سب کے لیے یکساں کیوں نہیں
    تحریر میاں نصیر احمد
    ہمارے پیارے نبی ﷺنے فرمایا علم حاصل کرنا ہر مرد عورت پر فرض ہے یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں عورتوں کی تعلیم پر اتنی توجہ نہیں دی جاتی اور یہ بات کہہ کر انہیں تعلیم سے دور ‘ کر دیا جاتا ہے کہ انہوں نے کون سی نوکری کرنی ہے اور ان کے مقابلے میں مردوں کو زیادہ تعلیم دلانے کے لیے اہمیت دی جاتی ہے عورت جب ایک بیٹی سے ماں بنتی ہے تو بچوں کی پرورش کا سارا ذمہ عورت کے سر پر ڈ ال دیا جاتا ہے اور ایک ان پڑھ عورت اپنے بچوں کی اچھی پرورش نہیں کر سکتی انہیں اچھے اور بر‘ے کی تمیز نہیں سیکھا سکتی تو پھر ہر شخص یہی کہتا ہے اس بچے کی ماں نے اس کی تربیت اچھی نہیں کی اسے اچھے اور بر‘ے کی تمیز نہیں سیکھائی اور جب اس کا شوہر کسی بیماری میں مبتلا ہوکر بستر پر لیٹ جاتا تو اس بچاری عورتوں کے پاس تعلیم کا خزانہ ناہونے کی وجہ سے اسے کوئی نوکری نہیں ملتی اور لوگوں کے برتن دھو کر پیسے کمانے پڑتے ہیں اور ان پیسوں سے اس کی شوہر کی دوائی بچوں کے تعلیمی اخراجات اور گھر کا راشن نہیں آتا اور اسے دولت کمانے کے لیے غیر قانونی اور غیر اخلاقی طریقے استعمال کرنے پڑتے ہیں اور تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ بچوں کو گھر پر بھی زیورتعلیم سے آراستہ نہیں کر سکتی اور ہزاروں روپے ان کی تعلیم اور ٹیوشن پر خرچ کرنے پڑھتے ہیں اور اگر ایک عورت حیا کی چادر او‘ڑ کر جب تعلیم کے حصول کے لیے گھر سے نکلتی بھی ہے تو یہ بے رحم معاشرہ اسے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا اسے وہ مقام وہ مرتبہ نہیں دیا جاتا جس کی وہ حق دار ہے جب ماں باپ اپنی بیٹی کو تعلیم کے حصول کے لیے گھر سے بھیجتے ہیں تو لوگوں کی طرح طرح کی باتیں سن کر اسے زبر دستی حصول تعلیم سے روک دیتے ہیں میاں اور بیوی زندگی کی گاڑی کے دو پہیہے ہیں ان میں اگر یک پہیہ بھی ٹھیک کام نا کرے تو زندگی کی گاڑی نہیں چل سکتی اکثر گھروں میں لوگ کہتے ہیں کہ لڑکی کو اتنا زیادہ نہ پڑھاؤ اس نے کون سی نوکری کرنی ہے لیکن جب اس کا شوہر اپنے مہینے بھر کی کمائی لاکر اپنی بیوی کے ہاتھ پر رکھتا ہے تو ان پڑھ ہونے کی وجہ سے وہ ان پیسوں کا اچھے سے استعمال نہیں کر سکتی اور گھر کا سارا بچٹ خراب کر لیتی ہے جس سے گھر میں کبھی کبھی نوبت فاقوں تک آجاتی ہے اور آج کل مہنگائی کے دور میں گھر کے سارے افراد کام کریں تو گھر کا اچھے سے گزر بسر ہوتا ہے لیکن عورت تعلیم کازیور نہ ہونے کی وجہ سے اپنے شوہر کی بھی مدد نہیں کر پاتی کیونکہ اگر عورت پڑھی لکھی ہو گی تو وہ اپنے گھر میں بھی کوئی کاروبار شروع کر سکتی ہے اور آج کے اس ترقی والے دو‘ر میں زیادہ تر کام کمپوٹر کے ذریعے ہی ہورہے ہیں تو وہ گھر بیٹھے ہی بہت سے کام کر سکتی ہے بچوں کو ٹیوشن پڑھا سکتی ہے عورتوں کے فیشن اوربوتیک کا کاروبار بھی شروع کر سکتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین کو بچوں کی تعلیم میںیکسانیت برتنی چاہے خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی اورلڑکیوں کو بھی حیا کی چادر کے اندر رہتے ہوئے تعلیم کا حصول کرنا چاہیے تاکہ وہ معاشرے میں اپنا مقام بنا سکیں اور ان کی وجہ سے ان کے والدین کی عزت پر کوئی انگلی نہ ا‘ٹھا سکے اور آنے والے وقت میں وہ ایک مثال بن جائیں کہ عورت کے لیے تعلیم کا حصول بہت ضروری ہے اور والدین بھی جہاں اپنے لڑکوں کو توتعلیم دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے وہاں لڑکیوں کی تعلیم پر بھی کوئی کسر نہ چھوڑیں
    تعلیم سب کے لیے یکساں کیوں نہیں
    تحریر میاں نصیر احمد
    ہمارے پیارے نبی ﷺنے فرمایا علم حاصل کرنا ہر مرد عورت پر فرض ہے یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں عورتوں کی تعلیم پر اتنی توجہ نہیں دی جاتی اور یہ بات کہہ کر انہیں تعلیم سے دور ‘ کر دیا جاتا ہے کہ انہوں نے کون سی نوکری کرنی ہے اور ان کے مقابلے میں مردوں کو زیادہ تعلیم دلانے کے لیے اہمیت دی جاتی ہے عورت جب ایک بیٹی سے ماں بنتی ہے تو بچوں کی پرورش کا سارا ذمہ عورت کے سر پر ڈ ال دیا جاتا ہے اور ایک ان پڑھ عورت اپنے بچوں کی اچھی پرورش نہیں کر سکتی انہیں اچھے اور بر‘ے کی تمیز نہیں سیکھا سکتی تو پھر ہر شخص یہی کہتا ہے اس بچے کی ماں نے اس کی تربیت اچھی نہیں کی اسے اچھے اور بر‘ے کی تمیز نہیں سیکھائی اور جب اس کا شوہر کسی بیماری میں مبتلا ہوکر بستر پر لیٹ جاتا تو اس بچاری عورتوں کے پاس تعلیم کا خزانہ ناہونے کی وجہ سے اسے کوئی نوکری نہیں ملتی اور لوگوں کے برتن دھو کر پیسے کمانے پڑتے ہیں اور ان پیسوں سے اس کی شوہر کی دوائی بچوں کے تعلیمی اخراجات اور گھر کا راشن نہیں آتا اور اسے دولت کمانے کے لیے غیر قانونی اور غیر اخلاقی طریقے استعمال کرنے پڑتے ہیں اور تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ بچوں کو گھر پر بھی زیورتعلیم سے آراستہ نہیں کر سکتی اور ہزاروں روپے ان کی تعلیم اور ٹیوشن پر خرچ کرنے پڑھتے ہیں اور اگر ایک عورت حیا کی چادر او‘ڑ کر جب تعلیم کے حصول کے لیے گھر سے نکلتی بھی ہے تو یہ بے رحم معاشرہ اسے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا اسے وہ مقام وہ مرتبہ نہیں دیا جاتا جس کی وہ حق دار ہے جب ماں باپ اپنی بیٹی کو تعلیم کے حصول کے لیے گھر سے بھیجتے ہیں تو لوگوں کی طرح طرح کی باتیں سن کر اسے زبر دستی حصول تعلیم سے روک دیتے ہیں میاں اور بیوی زندگی کی گاڑی کے دو پہیہے ہیں ان میں اگر یک پہیہ بھی ٹھیک کام نا کرے تو زندگی کی گاڑی نہیں چل سکتی اکثر گھروں میں لوگ کہتے ہیں کہ لڑکی کو اتنا زیادہ نہ پڑھاؤ اس نے کون سی نوکری کرنی ہے لیکن جب اس کا شوہر اپنے مہینے بھر کی کمائی لاکر اپنی بیوی کے ہاتھ پر رکھتا ہے تو ان پڑھ ہونے کی وجہ سے وہ ان پیسوں کا اچھے سے استعمال نہیں کر سکتی اور گھر کا سارا بچٹ خراب کر لیتی ہے جس سے گھر میں کبھی کبھی نوبت فاقوں تک آجاتی ہے اور آج کل مہنگائی کے دور میں گھر کے سارے افراد کام کریں تو گھر کا اچھے سے گزر بسر ہوتا ہے لیکن عورت تعلیم کازیور نہ ہونے کی وجہ سے اپنے شوہر کی بھی مدد نہیں کر پاتی کیونکہ اگر عورت پڑھی لکھی ہو گی تو وہ اپنے گھر میں بھی کوئی کاروبار شروع کر سکتی ہے اور آج کے اس ترقی والے دو‘ر میں زیادہ تر کام کمپوٹر کے ذریعے ہی ہورہے ہیں تو وہ گھر بیٹھے ہی بہت سے کام کر سکتی ہے بچوں کو ٹیوشن پڑھا سکتی ہے عورتوں کے فیشن اوربوتیک کا کاروبار بھی شروع کر سکتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین کو بچوں کی تعلیم میںیکسانیت برتنی چاہے خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی اورلڑکیوں کو بھی حیا کی چادر کے اندر رہتے ہوئے تعلیم کا حصول کرنا چاہیے تاکہ وہ معاشرے میں اپنا مقام بنا سکیں اور ان کی وجہ سے ان کے والدین کی عزت پر کوئی انگلی نہ ا‘ٹھا سکے اور آنے والے وقت میں وہ ایک مثال بن جائیں کہ عورت کے لیے تعلیم کا حصول بہت ضروری ہے اور والدین بھی جہاں اپنے لڑکوں کو توتعلیم دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے وہاں لڑکیوں کی تعلیم پر بھی کوئی کسر نہ چھوڑیں

  • شوکت اعوان

    پوٹھوار ایک مردم خیز خطہ
    تحریر علامہ محمد یوسف جبریل
    پوٹھوار کی حدود کےمتعلق گذشتہ اور حالیہ رائےمیں اختلاف ہی۔ گذشتہ رائےیہ تھی کہ پوٹھوار وہ علاقہ ہےجو سہالہ اور بکڑالہ کی درمیانی پہاڑی سےلےکر مشرق میں دریائےجہلم کےساتھ ساتھ اور اس سےآگےشمال میں پھیلےہوئےپہاڑوں کےدامن میں مارگلہ تک چلا گیا ہی۔ مغرب کی طرف اس کی حدود تحصیل راولپنڈی اور گوجر خان تک ہیں۔ مغل بادشاہ جہانگیر نےبھی پوٹھوار کےعلاقہ کو ہتھیہ سےمارگلہ تک ہی قرار دیا ہی۔ دوسرےعلاقےمثلاََ سون، کہون، ونہار، دھنی پکھڑ اور چھچھ کو پوٹھوار میں شمار نہیں کیا جاتا تھا۔ موجودہ رحجان یہ ہےکہ یہ سب متذکرہ بالا علاقےپوٹھوار کا حصہ ہیں۔ اگر نظرغائر سےدیکھا جائےتو ان سب علاقوں کی بنیادی قدریں مشترک ہیں۔ یہ سارا علاقہ بارانی ہےاور ان سب علاقوں کی زبان میںبنیادی یگانگت پائی جاتی ہی۔ جغرافیائی لحاظ سےبھی اس علاقےکو ایک یونٹ قرار دیا جا سکتا ہی۔ اس سارےعلاقےکےلوگوں کی جسمانی ساخت ، رسم و رواج، اخلاق و ضوابط، چال چلن، انداز فکر اور تاریخی روایات میں بھی بہت کم تفاوت ہےاور دیکھا جائےتو یہ ادغام وطن عزیز کےلئےایک مثالی حیثیت کا حامل ہےاور ایک نیک فال ہی۔ جب کہ پاکستان کےمختلف صوبوںاور علاقوں میں لسانی اور صوبائی تعصب کی بنا پرافتراق اور انتشار کی باتیں سنی جاتی ہیں۔ ایک خصوصی امتیاز اس علاقےکا یہ ہےکہ اس میں ملک کا صدر مقام موجود ہی۔ اسلام آباد کےمبارک نام اور خوبصورت مقام پر اس صدر مقام کےظہور پذیر ہونےسےاس علاقےکےبزرگ حضرت بری شاہ لطیف کی وہ پیشین گوئی پوری ہو گئی ہےجو انہوں نےصدیوں پہلےفرمائی تھی۔ انہوں نےفرمایا تھا کہ کبھی ہمارےپڑوس میں ایک بڑا اسلامی شہر بسایا جائےگا۔

    ( ادارہ افکار جبریل نواب آباد واہ کینٹ ضلع راولپنڈی )

Scroll To Top