شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / دعوے زیب نہیں دیتے ہیں
loading...
دعوے زیب نہیں دیتے ہیں

دعوے زیب نہیں دیتے ہیں

sohail warsiجو ہو رہا ہے کیا اس سے کبھی بہتری آ نے کی عقل تو قع کر سکتی ہے ، وجہ انداز ، تر کیب ،تر بیت بد لیے ، یہ سمجھ لیجیے،،،،
رہ گئی رسم اذاں ، روح بلا ل نہ رہی
فلسفہ رہ گیا ، تلقین غزالی نہ رہی
ملک پا کستان میں بہت سے مسا ئل ایسے ہیں ، جن کے خا تمے یا ان کو کنڑول کر نے کے لیے جو کو ئی بھی جس پو زیشن میں ، اس اختیا ر کا دلی لگا ؤ کے ساتھ استعمال کر ئے تو با قی اس کو فر صت نہیں ملتی کہ اپنے لیے اور عوام کے لیے سز با غ دیکھے اور دکھا ئے ، جب سیا ست دانوں کے سامنے سوال آ تا ہے کہ فلاں مسا ئل تو بہت سر چڑ ھ رہا ، اور تو ، بنیا دی ضر ورتوں میں سے ہے تو ، جو اب ملتا کہ ہم کو مکمل وقت نہیں دیا جا رہا اور ہم کو شش کر رہے ہیں کہ مسا ئل کا حل تلا ش کیا جا ئے ، ایسا جواب وفا ق والے دیتے ہیں ، پھر بات صو با ئی لیو ل کی ، کی جا ئے تو وہاں دو جگہ اپو زیشن والے ہیں ، ان کا رونا کہہ لیں یا حقیقت ، کہ وفا ق ہم کو اتنے اختیارات ہی نہیں دے رہی یہ تو ہم اپنا پیٹ کا ٹ کر اتنی تر قی کر رہے ہیں ، کچھ دن پہلے وز یر اعظم پا کستان ، خاں صا حب کے صوبے گئے ، نیوز پر سنا ، کہ میاں صا حب نے ارشا د فر مایا کہ تحر یک ا نصا ف کی حکومت میں صو بے کی خد مت کی نہیں صرف ٹا ئم پا س کیا اور مانگ رہے بڑی سیٹ ، اوکے ، مان لیتے ہیں ، وہاں تحر یک انصا ف نے کام نہیں کیا اور صرف وفا ق پر دبا ؤ ڈا لتی رہی ہے، عر ض اتنی سی ، وفا ق کے انڈر تمام صو بے ، وزیر اعظم نے کیا ایکشن لیا جیسے خو د ارشا د فر ما یا کہ تحر یک انصا ف نے کا م نہیں کیا ، کیا قا نونی کا روا ئی کی گئی ، کسی کو کہٹر ے میں کھڑا کیا گیا ، کو ن سا اسپشل اجلا س بلو ایا گیا جس میں اس صو بے کے بڑے کو بتا یا جا ئے کہ آ پ کو یہ اختیا ر دیے گے مگر رپور ٹیں اس کے بر عکس ہیں ، وز یر اعظم صا حب ، کیا ایسی روایت اپنا ئی گئی ، دوسری جما عتوں پر الزام صرف اس مقصد کے لیے لگا ئے جا تے کہ سیا سی پو ز یشن مضبو ط رہے ، ہو نا تو یہ چا ہیے کہ تر قی کے کام میں جو رکا وٹ اس کو قا نو نی طر یقہ سے حل کیا جائے ، جلسے جلسوں میں تووہ با تیں کر تے ہیں جن کی کہیں سنا ئی نہیں ہو تی ، یا اختیا رات نہیں ہو تے ہیں ، اس کے بر عکس تحر یک انصا ف ٹھیک مو اقف اپنا تی ہے کہ ہم ہر معا ملے میں عدالت کا دروازہ کھٹکا تے رہے ہیں ، مگر اس طر ح سے انصا ف نہیں ملا ، انصا ف نہیں ملا تو با توں میں تضا د کیو ں ، ایک طر ف کہا جا تا ہم کو عدالتوں پر یقین ، دوسری جا نب کہا جا تا انصا ف نہیں ملا ، ایک اور پا رٹی جو بہت کو شش کر تی کی پو زیشن کا رول کسی نہ کسی طر یقہ سے ادا کر تے رہیں تا کہ عوا م کہیں ہمیں یا د رکھے، ایک دن جو ش میں مو جو دہ حکو مت پر الزامات کی بار ش کر تے اخلا قیا ت بھی بھول جا تے ہیں ، پھر ڈیل ہی کہیں ، کیونکہ اظہا ر ایسے کیا جاتا ہے کہ وہ وز یرا عظم پر بہت اعتماد کر تے ہیں ، پھر کچھ دن بعد ایسے خیا لا ت کہ بند ہ بو ل ہی پڑ ھتا ہے کہ کیسی حما قت دیکھا ئی جا رہی ہے ، کیا عوام اتنی جہا ئل تب ایسے کیا جا رہا ہے ، دو نو مبر کو جو ہو نے جا رہا تھا اس با رے دعو ے بھی کیے گئے اور سیا ست کو کیش کر نے کی اچھی خا صی کو شش کی گئی ، دھر نے کا اختتام کہاں ہو نا تھا اور کیا پو زیشن بنی تھی اور اب آ گے کیا ہو گا کچھ دن پہلے کالم میں لکھ چکا ہو ں کہ جن با ت چلے گئی کہ حکو مت کو بہت دبا ؤ محسو س ہو گا تو کہہ دیا جائے گا کہ ہم عدالت میں حا ضر ہو نے کو تیا ر ہیں جو کا رو ئی ہو گی اس میں تعا ون کر یں گے ، یکم نو مبر کا بڑی عدالت جب نو ٹس جا ری کیے اور جو اب طلب کیے تو خاں صا ب نے دھر نا ختم کیا ، آ گے کیا ہو نا ، یا اگر کسی صحا فی نے سوال کیا کہ خاں صا حب معاملہ عدالت میں تو آ پ کی آ گے کی حکمت عملی کیا تو ضرور یہ فر مایا جائے گا کہ دیکھیں جی معا ملہ سپر یم کو رٹ میں ہم عدالتوں پر یقین رکھتے ہیں لہذا ہم چا ہ رہے تو معا ملہ کو ٹ میں چلے ، سا منے سوال تو یہ رکھنا چا ہیے کہ آ پ ٹھیک کہہ رہے ، سپر یم کو ر ٹ میں تو بیس اکتو بر سے کیس کے بارے سب سا منے �آ گیا تھا پھر بیس اکتو بر سے لے کر یکم نو مبر کی صبح تک کیو ں ارشا د فر ما جا تے رہے ہیں کہ حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے ، شا ہد ، یہ کہا جا ئے یا کہا جا رہا ہے کہ ہم یکم نو مبر کو کور ٹ کی جا نب سے فیصلے کے آ نے کا انتظا ر کر رہے تھے ، یکم نو مبر سپر یم کو رٹ کیا میاں صاحب کو ایک دم سزا ء سنا دیتی نہیں ، نہیں بلکل ایسے نہیں ، سپر یم کو رٹ کی طر ف یہی فیصلہ آ نا تھا کہ میاں صا ب عدالت میں ثبو ت فراہم کر یں ، جن صو رت حال یہی تھی ، پھر پرویز خٹک کے سا تھ عوام کو وہاں ذلیل کیو ں کر وا گیا اس لیے کہ عوام �آ پ کو پسند کر تی ہے۔
پر ویز خٹک جب اسلا م آ با د آ نے سے رو کا گیا تو عجیب منطق سا منے آ تی رہی کہ ، ایک چیف منسٹر کو کیپٹل میں جا نے کے لیے ویز ہ لینا پڑ ھے گا ، چیف منسٹر کسی سر کا ری میٹنگ میں جانے کے لیے اسلا م آ با د کی طر ف جا رہے تھے یا پلا ن تھا کہ وہاں دھرنا دیا جا ئے گا تو جو اپوزیشن میں اب با تیں کی جا رہی ہیں ما ضی میں وہ جب اقتدار میں تھے تب کیا تر کیبیں استعمال ہو تی تھیں ، چلیں ما ضی کوبھول جا تے ہیں ، حال کی با ت کر تے ہیں، اگر حکومت ایسی کا روا ئی نہ کر تی ، عوام گھر وں میں نہ رہتی تو خاں صا حب کا ریکشن ہو ئی ہو تا جو یکم نو مبر کو گیا رہ بجے سپر یم کو رٹ کی جا نب سے کہا گیا ، ہر گز نہیں ، اختلا ف اپنی جگہ ، مگر حکومت نے جو چند پہلے تحر یک انصا ف کے کا رکنوں کو روکنا شر وع کیا اس سے واضع ہو گیا تھا کہ پنجا ب سے اس پا رٹی کے کارکن اسلا م آ با د دھر نے میں شامل نہیں ہو ں گے ، اس لیے پر ویز خٹک صا حب کو تکلیف دی گئی تھی ، دس لا گھ کا جو دعو ہ تھا ، اس کی جھلک شیخ صا حب کے جلسے میں دیکھی جا چکی تھی ، جس کے با رے کہا جا رہا تھا کہ جتنی مر ضی رکا وٹیں لگا لیں لو گوں کا سمند ر آ ئے گا ، آ یا ؟
سپر یم کو رٹ کے فیصلے کے آ نے کے بعد جس میں تلا شی کا عمل شر وع ہو گا اس کا احترام کیا گیا اور خاں صا حب اس کو کا میا بی سمجھ رہے ہیں ، اچھی روایت بنے گی کہ وزیراعظم صاحب بھی عدالت میں خو د کو پیش کر یں گے ،مگر دو ہفتے پہلے جب اسی عدالت کی جا نب سے کہا گیا تھا کہ کسی کو اسلا م آ با د بند کر نے کی اجا زت نہیں دی جا ئے اور سکول کالج بند نہیں ہو نے چا ہیے ، تب مو قف اپنا یا گیا جو ہے بھی حقیقت کہ اسلام آ با د کے کچھ بچے سکول سے رو کے جا ئیں اور ان لا کھوں بچوں کا کیا قصو ر جو سکول تک نہیں جا پا رہے ، شا ہد ان دنوں مان تھا کہ کا رکنوں لا کھوں میں با ہر آ ئیں گے ، جب پردہ ہٹا تو حکمت عملی بد لی گئی ، دھر نا ختم ہو ا ، اس میں یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ خاں صا حب کی کا وش رائیگا ں گئی ، مگر عوام کا جو نقصان ہو ا ،جا نیں ضا ئع ہو ئیں ان کا ہمددر کون، اظہا ر تشکر کے ساتھ ایک دن سو گ کا منا یا جا تا تو حقیقی معنوں میں عوام کے سا تھ کہلا ئے جا تے ۔
رویا ت جو بنا ئی جا رہی ہیں اس کے اثرات خاں صا حب دیکھ رہے ہیں چا ہیے وہ اعتراف نہ کر یں ، اس کے سو تھ (ن) لیگ بھی سبق لے گی کہ اب کی بار ے صر ف دعو ے کا م نہیں آ ئیں گے ،
جو ہو رہا ہے کیا اس سے کبھی بہتری آ نے کی عقل تو قع کر سکتی ہے ، وجہ انداز ، تر کیب ،تر بیت بد لیے ، یہ سمجھ لیجیے،،،،
رہ گئی رسم اذاں ، روح بلا ل نہ رہی
فلسفہ رہ گیا ، تلقین غزالی نہ رہی

note

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top