شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / فیض انٹرنیشنل فیسٹیول!
loading...
فیض انٹرنیشنل فیسٹیول!

فیض انٹرنیشنل فیسٹیول!

subha-sadiqفیض احمد فیض ایک ترقی پسند شاعر کی حیثیت سے تو کسی تعارف کے مختاج نہیں، انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے انسان دوستی اور حیات آفریں قدروں کی جس طرح آبیاری کی اور دنیا کو ایک خوبصورت جگہ بنانے کے جو خواب دیکھے اس کے حوالے سے اور ان کی انقلابی سوچ اور جادو اثر نغمگی پربہت کچھ لکھا جاسکتا ہے،فیض احمد فیض کی شخصیت کئی معنی خیز پہلوؤں کی حیثیت سے جانی جاتی ہے ،ان پہلوؤں کے علاوہ فیض احمد فیض کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو ایک ایسے سماجی دانشور کا ہے جو گردو بیش کے مسائل پر سنجید گی سے سوچتا اور ان کے حل تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس سلسلے میں جہاں انھوں نے زندگی کے دیگر میدانوں میں نمایاں خدمات سرانجام دی وہاں پاکستانی ادب وثقافت کے فروغ کی رائیں تلاش کرنے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی،وہ ملک کے کئی ادبی وثقافتی اداروں کے بنانے میں متحرک رہے، ان تمام عملی سرگرمیوں کے ساتھ سے ساتھ انہوں نے علمی سطح پر قومی تشحض اور پاکستانی ثقافت کے موضوع پر تقر یباََ تسلسل کے ساتھ لکھا اوراظہار خیال کیا۔ ان کے خیال میں مذہب کا رواداری ،ہمددری و موانست اور عدل کا پیغام ہر زمانے کے لئے معاشرہ سازی اور ایک منصفانہ نظام عدل کی تشکیل میں کار آمد ہوسکتا ہے ان کے انہی خیالات کو آج کی نوجوان نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،جس نسبت سے ہر سال الحمراء آرٹس کونسل لاہورمیں فیض انٹر نیشنل فیسٹیول کا انعقاد کیا جاتا ہے جو رواں برس بھی 18تا 20نومبر 2016ء کو منعقد ہو رہاہے جس کا افتتاح چیئرمین بورڈ آف گورنزر لاہورآرٹس کونسل کا مران لاشاری کریں گے،اس حوالے سے منعقد ہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ،ایگزیکٹوڈائر یکٹرلاہورآرٹس کونسل کیپٹن (ر)عطاء محمد خان ، سلیمہ ہاشمی، منیز ہ ہاشمی ،عدیل ہاشمی اور ذوالفقار علی زلفی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہورآرٹس کونسل ایک ایسا ادبی و ثقافتی ادارہ ہے جس کی ہما جہت کا وشوں کا مرکز ہمیشہ ادبی وثقافتی سر گرمیوں کا فروغ رہا ہے، یہاں آرٹ ،کلچر کے مفہوم ،نوعیت اور فنکشن کے بارے میں فکر ی مباحث، عملی مقاصد کے حصول کی خاطر عملی لائحہ عمل پہنایا جاتا ہے۔
نومبر کا مہینہ ناصرف فیض احمد فیض کی برسی منانے بلکہ فیض انٹرنیشنل فیسٹیول کے ذریعے ان کی شاعری اور پیغام کو عالمگیر بنانے کے لئے بھی اہم ہے ۔فیض فاؤنڈ یشن ٹرسٹ کے زیراہتمام اور لاہورآرٹس کونسل کے تعاون سے یہ فیسٹیول منایا جارہا ہے۔ فیسٹیول آرٹ، کلچر ،سیاست ،معاشرتی ایشوز اور فہم کا مرکب ہے جو سیاسی جدوجہد ،معاشرتی انصاف،امن اور محبت،جس کے لئے فیض ہمیشہ تگ ودوکرتے رہے، پھیلا نے کا ایک مکمل ذریعہ ہے۔
اس فیسٹیول میں پینل مباحثے،موسیقی،تھیٹر، کتابوں کی رونمائی ،لیکچر ز،شاعری،فوٹو گرافی اور آرٹ کی نمائش ،آرٹ اور کہانی لکھنے کے مقابلے ،ہمارے ثقافتی ورثے کے علم برداروں کی یاد آوری،ڈانس ،تھیٹر اور فلم سازی کی ورکشاپس منعقد ہو نگی۔ بہت سے مندوبین اور فنکار پاکستان اور بیرونی ممالک سے فیسٹیول میں شرکت کے لئے آرہے ہیں، جن میں نمایاں سیاست دان،موسیقار فلم ساز ادا کا ر، ڈرامہ نگار،ڈانسر ،لکھاری ،شاعر، دانشور ،صحافی، انسانی حقوق کے علمبرادر اورتجزیہ نگار شامل ہیں۔
فیسٹیول میں منو بھائی ،کشورناہید،مستنصر حسین تارڑ، ڈاکٹر آصف فرخی ،امجداسلام امجد، افتخار عارف ،انور مسعو د اور اصغر ندیم سید جیسی قد آورادبی شخصیتوں کے سیشن شامل ہیں۔ فلم سازی میں ساؤتھ افریقہ سے فروزبلبلا، مہرین جبار ،سرمد کھوسٹ ،نبیل قریشی، جامی ،اداکاروں میں فواد خان ،مائر ہ خان ،ثمینہ پیرزادہ ،سمعیہ ممتاز، سیمی راحیل اور نادیہ جمیل ،موسیقاروں اور نغمہ نگاروں میں نیر انور ،ٹینا ثانی ،ثریا ملتانیکر، جواد احمد ،ارشد محمود اور علی نور اور نگہت چورہدی کی ڈانس ورکشاپ شامل ہے۔
بلا ٹکٹ پروگراموں میں اجوکاء تھیٹر کا ڈرامہ، طرز آرکسٹر کی کلا سیکل ایسٹرن موسیقی،سنگت تھیٹر کا کھیل ہیر، زنبیل کی ڈرائی کہانی، موسیقی اور پیانو پر مغربی کلاسیقل موسیقی کے ساتھ عد یل ہاشمی کی شاعری کی ریڈنگ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عابدہ پروین اور ٹینا ثانی کو بھی کنسرٹ میں سنا جاسکتا ہے۔
اور آخر میں ،میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کلچر، اقدار،رسوم و رواج اور ادبی روایات معاشرے کی اپنی قدر،اپنی منز ل اور اپنے خوابوں سے آگاہی کی ایک اہم صورت ہے اور یہ آگہی اس فیسٹیول کی مرہون منت ممکن ہو سکے گی،جس سے ادب و ثقافی سے قومی ترقی کے نئے دروا ہوگئے نیئر عوام کے ذہنوں میں آرٹ کی اصل نوعیت اور قومی زندگی میں اس کے صحیح کردار کی وضاحت بھی ہوگئی۔

note

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top