شہ سرخیاں
Home / محمد فرحان عباسی / اخباری اشتہارات اور معصوم شہری

اخباری اشتہارات اور معصوم شہری

روز مرہ کے مسائل اور نت نئے آنے والی مصیبتوں نے معصوم عوام کو وہم کے مرض میں مبتلا کر دیا ہے ،مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور وسائل کی عدم دستیابی نے اس سے جائز ناجائز کی تمیز کو چھین لیا ہے ،ہر سبز باغ دکھانے والا ان کو مسیحا اور مہربا ن دکھائی دینے لگا ہے ،دو میٹھے بول بولنے والے کو رفیق اور مددگار سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔
اور ہر اس شخص کے اشاروں پر ناچنا اور بھیڑ چال چلنا شروع کر دیتے ہیں،نظر آنے والا وہ مسیحا جس طرف اشارہ کرتا ہے معصوم عوام اس راستے پر چلنا فرض سمجھ لیتے ہیں ،جس طرح ہمارے ملک کے امیروں اور لٹیروں نے مغرب کی اندھی تقلید شروع کر دی ہے اور پھر سچ اور چھوٹ میں فرق کرنا بھول گئے ہیں بالکل اسی طرح اس معصوم عوام نے بھی ان مسیحائوں کی اندھی تقلد کا بازار گرم کر رکھا ہے ،اور اس بازار میں ہر لمحہ ان معصوم عوام کا لہو بک رہا ہے مگر ان معصوموں کی آنکھوں پر اندھی تقلید کی پٹیاں بندھی ہوئی ہیں جس کے باعث یہ لوگ حقیقت کو دیکھتے ہوئے بھی اس سے نا آشناہیں ۔
وہ قوم اور وہ ملک کیا خاک ترقی کریں گے جس قوم کے عوام کے خون کی بولی سر عام لگتی ہو،اور اس قوم کے حاکم خاموش تماشائی بنیں ،قوم کی بربادی اور تباہی کے نظارے کرتے رہیں ،
ایک مخصوص طبقہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہو اور اس قوم کے محافظ فائیوسٹارہوٹلوں میں عیاشیاں کر رہے ہوں ،
معصوم عوام کی بدقسمتی سمجھیں یا تقدیر ، کہ آج تک یہ عوام کسی مخلص ساتھی اور حکمران کی تلاش میں لگی ہوئی ہے ، مگر ہر ملنے والا نظریں ملا کر اور دل میں اتر کر ،نظریں چرا کر گزرنے والا ملا ،
یہ عوام آج ایک ایسے مسیحا کی منتظر ہے جس کے دل میں ان کے لئے خلوص،پیار اور محبت ہو ،
ایک ایسے درد مند کی منتظر جس کے دل میں عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کا جذبہ ہو،ایک ایسے داد رس کی منتظر ہے ج و اس یتیم اور معصوم عوام کے سر پر دست شفقت رکھ کر اس کی حفاظت کا بیڑا اٹھائے ، اس گری ہوئی عوام کو سہارا دے ،اور مظلوم کے ساتھ ہونے والے ظلم کا بدلہ لے ،
جس کا زور بازو محمد بن قاسم اور جس کا حوصلہ صلاح الدین ایوبی کے ساتھ مشابہت رکھتا ہواور اس کی
آنکھوں میں عقابی صفت ہو ،وہ ظالم کا ہاتھ توڑ کر اس کے ہی گلے میں سجا د ے اور یہ ثابت کرے
ک آج بھی اس ملک میں مخلص اور محب وطن لوگ زندہ ہیں اور وہ برے سے برے حالات میں بھی حالات کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،اور ظالموں کو یہ باور کرا دیں ،
سرفروشی کے جنم کو عام کر جائیں گے ،
موت بھی آئی تو اس راہ میں مر جائیں گے ،
مگر پھر وہی کہاوت ذہن و دل پے گردش کرتی ہے ،جب چگ گئی چڑیا کھیت تو مینہ برسا کس کام کا ۔
کب کوئی حقیقی اور محب وطن اٹھے گا …؟ اس وقت ک جب بھیڑے اس قوم کے گوشت کے بعد اس کی ہڈیاں بھی دانتوں تلے چبا چکے ہوں گے ،اور اس معصوم عوام کا بدن تک بھی صفہ ہنستی سے مٹا چکے ہوں گے ،
ہمارے ملک میں ینگرز کی ایک بہت بڑی تعداد اہے جس کے پاس تعلیم بھی ہے اور ہنر بھی مگر اس کے﴿ باوج ود ﴾ بیروز گار ہیں ،ان میں سے چند ایک تو حالات سے تنگ ہو کر اپنی زندگیوں کے چراغ ہمیشہ کے لئے گل کر دیتے ہیں کچھ روزگا ر کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں اور در در کی ٹھوکریں کھانت کے بعد تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں ،اور پھر ملک سے باہر جانے اور وہاں جا کر روزگار کی تلاش کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں ،اور اس دوران ان کی بربادی کا ایک اور باب کھل جاتا ہے ،یہ معصوم لوگ اپنے دل میں ملک سے باہر جانے کا خواب بسا چکے ہوتے ہیں ،
اس سلسلے میں ہمارے ملک میں﴿ موج ود﴾ مختلف ٹرئڈٹیسٹ سنٹرز میں ٹسٹ انٹر ویو دینے کے لئے جاتے ہیں ،جن کے بارے میں وہ آئے دن اخبارات میں اشتہارات پڑہتے رہتے ہیں ،ان اشتہارات کے سبب اور اخبارات میں پڑہنے کے بعد وہ ایک سے دوسرے اور دوسرت سے تیسرے ٹیسٹ سنٹر میں چکر لگاتے ہیں ۔
سنٹر والوں کے پاس ملک سے باہر کی کمپنیوں سے آنے والی ڈیمانڈ ۰۲ سے زیادہ سے زیادہ ۵۲ ہوتی ہے ۔اور اشتہار میں ۰۰۲ یا۰۰۳ لکھا ہوتا ہے ،
آنے والے ان ۰۰۳ سے فی کس ٹیسٹ فیس ۰۰۵روپے لی جاتی ہے ،اور ایک اعداد وشمار کے مطابق ان لوگوں سے لی جانے والی ایک دن کی یہ رقم تقریبا دو سے تین لاکھ ہوتی ہے ،
یہ بات صرف ایک دن پر محیط نہیں ہوتی بلکہ یہ سلسلہ دنوں اور مہینوں تک چلتا ہے ،اٹرویو کے لئے آنے والے معصوم لوگوں سے ایک دن میں لاکھوں روپے ہتھیا لئے جاتے ہیں ۔
ایک طرف ہماری قوم کے وہ لوگ جنہیں دو وقت کی روٹی کی پریشانی کھائے جاتی ہے ،اور دوسری طرف یہ لوگ اخبار میں صرف ایک اشتہار دے کر معصوم شہریوں کی جیبوں سے لاکھوں نکلوا لیتے ہیں
محمد فرحان عباسی

x

Check Also

لگی جو آگ تو ہر بار میرے گھر میں لگی

اپنے وطن سے دور اپنے ملک کی تعمیر اور ترقی کے لئے ...

Connect!