شہ سرخیاں
Home / محمد فرحان عباسی / شہر قائد کی گل روشنیاں

شہر قائد کی گل روشنیاں

کراچی جیساترترقی پذیر شہر جو پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ،ملکی معیشت کا اکثر حصہ کراچی سے وابستہ ہے ،بڑے بڑے کاروبار ،تجارتی مراکزاور مارکیٹیں کراچی کی پہچان بن چکی ہیں۔
ملک کے بیشتر حصوں سے لوگ ہجرت کر کے کراچی جاتے اور وہاں کاروبار اور محنت مزدوری کرتے ہیں ،شہرقائد کی فضائوں میں ہر رنگ اور ہر نسل کے لوگ نظر آتے ہیں جو دن بھر اپنے کاموں میں مصروف نظر آتے ہیں پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح کراچی میں بھی مختلف طبقے رہائش پذیر ہیں ،ایک ریڑہی بان سے لے کر ملوں اور فیکٹریوں کے ملکان تک کا تعلق کراچی سے ہے،دن بھر سڑکوں پر دوڑ تی نظرآنے والی مختلف بڑی بڑی گاڑیوں سے لے کر رکشہ،ٹانگہ ،ریڑھی اور سائیکلیں اس شہر کی مصروفیت کا احساس دلاتی ہیں ،
بڑے لوگ تو بڑے ہوتے ہیں ،وہ ائرکنڈیشن کمروں سے نکلتے اور ائرکنڈیشن والی گاڑیوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور اس گاڑی سے اترتے ہی ائرکنڈیشن دفتروں میں داخل ہو جاتے ہیں ،سرمایہ اتنا کہ کسی چیز کی کمی کا احساس نہیں ،ٹھنڈک کا احساس نا گرمی کا ، تمام آسائشیں ہونے ہونے کی وجہ سے یہ لوگ غموں کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
اگر مسئلہ ہوتا بھی ہے تو ان کے لئے جو پورا پورا دن شہر قائد کی سڑکوں پیدل ،ہاتھوں سے ریڑھیاں گھوماتے اور ہاتھوں سے مزدوری کرتے ہیں ،آندھیوں کا پتہ نا کڑکتی دھوپ کا خیال بھوک و پیاس سے بے خبر یہ لوگ اپنے کام میں اس قدر مگن رہتے ہیں کہ اپنے ماتھے سے ٹپکنے والا پسینہ بھی صاف کرنا ان کے لئے مشکل ہوتا ہے ،ان کے دل میں ہر وقت اپنی اولاد کا مستقبل ہوتا ہے ، جو بظاہر ان کو تاریک نظر آ رہا ہوتا ہے ان کے پاس آنے والی رقم اتنی ہی ہوتی ہے کہ اس سے وہ اگلے دن کا راشن ہی خرید سکتے ہیں وہ ہر لمحے اس بارے میں فکر مند رہتے ہیں ۔
دن بھر کی تھکن لے کر سے چور اور ٹوٹے ہوئے جسم کے ساتھ لوٹنے والے یہ مزدور گھر آتے ہی ہر قسم کی تھکن اور پریشانی بھول جاتے ہیں ،ان کا سرمایہ ان کے والدین اور بیوی بچے ہوتے ہیں جن کو دیکھتے ہی ان کے چہرے مہک اٹھتے ہیں ۔
یہ بات ہو رہی ہے شہر قائد کی ،جہاں رات کے شروع پہر لے کر آخری پہر تک سمندر کی لہریں لوگوں کی نظروں کا محور و مرکز بنابنی ہوتی ہیں ،امیر ہو یا غریب ،ائرکنڈیشن میں بیٹھنے والا ہو یا دن بھر دھوپ میں مزدوری کرتے ہوئے جلنے والا ہر شخص وہ جس طبقے سے تعلق رکھتا ہو سمندر کی ہوائوں کی لپیٹ میں آکر بلا کسی تفریق و تمیز ایک ہو جاتے ہیں ،رات کے وقت ساحل سمندر پر نظر آتا ہے ،سمند ر کی اچھلتی کودتی لہروں بے ہنگم لہرون کو دیکھ کر اور ان کو محسوس کر ساحل سمندر پر آنے والا ہر شخص دن بھر کی تھکن بھول جاتا ہے ،اور جن کو کوئی پریشانی ہو وہ بھی سمند ر کی اپس میں ٹکراتی لہروں کا رخ کرتے ہیں ، اور ان لہرون کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں اور بھر اس لطف کو چار چاند اس وقت لگ جاتے ہیں جب اس مزدور،صاحب ،امیر و غریب کے ساتھ ان کے والدین ہوں اور ان بوڑھے والدین کو سہارا دینے کے لئے اس کی بیوی اور بچے ہوں ،﴿اور خوش قسمت ہے وہ شخص کہ جس کو اس طرح کی نیک سیرت بیوی مل جائے جس کی تربیت ایسی ہو کہ ان کی اولاد اپنے دادا،دادی کا بھی سہارا بنیں اور ان کو اپنی ہر خوشی میں شریک کریں ،﴾ اس وقت ہر طرف خوش حالی ہی خوش حالی نظر آ تی ہے اور کسی بھی شخص کے چہرے پر دیکھ کر اس بات کا ان دازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ کسی کو کوئی پریشانی ہے ،ہر طرف ہنستے مسکراتے ،کھلکھلاتے چہرے ،قہقہوں کی آوازیں اور بچوں کی چرارتیں ہی دکھا ئی دیتی ہیں ،کیوں کہ ساحل کی جگ مگ روشنیوں میں لوگ آتے ہی دن بھر کی تھکن دور کرنے کے ہیں ،وہ اپنے دلوں کو بھلانے اور غموں کو چھپانے اور ان ہر پردہ ڈالنے کے لئے ہیں ،اور یہی وجہ ہے کہ جب وہ لوگ واپس اپنے گھروں کا رخ کرتے ہیں تو اس وقت وہ ہر غم اور پریشانی سے آزادہوتے ہیں اور شہر قائد کی روشن گلیوں سے گزرتے ہوئے پنے گھروں میں آرام کی نیت سے داخل ہو جاتے ہیں ۔
مگر یہی شہر چند ہی لمحوں میں ماتم کدہ بن جاتا ہے ،فضائ سوگوار ہو جاتی ہے اور ہر طرف مایوسی کے بادل گردش کر نے لگتے ہیں ،جو گھر چند لمحے پہلے قہقہوں سے گونجھ رہے تھے انہی گھروں سے رونے اور آہ وزاری کی آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں ،شہر قائد کی چمکتی روشنیوں کو یکے بعد دیگرے بجھا دیا جاتا ہے ،
گلی کوچے ،بازار اوسڑکوں کو خون میں نہلا دیا گیا ہوتا ہے ،اور ہر طرف سے خون کی بدبو آنے لگتی ہے ،وہاں کی فضائیں بغداد و کربلاکا منظر نامہ پیش کر رہی ہوتی ہیں مائوں کی آنکھوں کے سامنے ان کے لخت جگر خو ں میں نہلا دئیے جاتے ہیں ،عورتوں سے ان کے انچل چھین لئے جاتے ہیں ،معصوم بچوں سے ا کے سر کا سایہ چھین لیا جاتا ہے ،اور دیکھتے ہی دیکھتے کتنی ہی بے گناہ زندگیوں کے چراغ گل کر دئیے جاتے ہیں ہنستے مسکراتے چہروں سے تبسم چھیں لیا جاتا ہے ،اور کتنے ہی معصوم لوگوں کے مستقبل تاریک کر دئیے جاتے ہیں ۔
آج کراچی کو ایک بار پھر خون میں نہلا دیا گیا ہے ، اور اس صورت حا ل سے امیر بچ سکا نا ہی غریب ،ہر طبقے کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے ،ہر روز بیسیوں لاشیں اٹھائی جاتی ہیں ،اور ان لاشوں کو دیکھ کر شہر قائد چیخ چیخ کر یہ کہتا ہے اور اہل اقتدار کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتا ہے کہ میں تو قائد کا شہر ہوں مجھے کس کی نظر لگ گئی ،مجھے تو روشنیوں کے شہر کے نام سے پکارا جاتا تھا ،مگر آج میری ہی روشنیاں گل کی جارہی ہیں ،مجھے ہی خون میں نہلایا جا رہا ہے ،آخر یہ خونی کھیل کب ختم ہو گا اور کون کراچی کو اس غلامی سے آزادی دلوا ئے گا ،کون ظالموں کا ہاتھ روکنے والا ہے یا یہ سب اس کا مقدر بنا دیا گیا ہے ۔کون کراچی کو اس کی رونقیں لوٹائے گا اور شہر قائد کی گل ہوتی روشنیوں کو دوبارہ زندگی بخشنے میں مدد کریگا

x

Check Also

لگی جو آگ تو ہر بار میرے گھر میں لگی

اپنے وطن سے دور اپنے ملک کی تعمیر اور ترقی کے لئے ...

مسئلہ فلسطین ،شاہ فیصل اور امریکہ

بلی نے کبوتر کا شکار کرنے کے لئے اس کا پیچھا کیا ...

طوائف کا جسم اور صحافی کا قلم

معاشرے کو جس ناسور سے بچانا چاہیے تھا اسی ناسور نے معاشرے ...

چھپے رستم ،تمہیں یاد ہو کہ نا یاد ہو

سرزمین شہداء کس علاقے کو کہتے ہیں میں نہیں جانتا اور نا ...

*آزادہے میرا وطن*

کس کا دل نہیں چاہتا کہ وہ ایک آزاد فضا میں سانس ...