شہ سرخیاں
Home / محمد فرحان عباسی / تکبر او ر انا کی جنگ

تکبر او ر انا کی جنگ

بھلے وقتوں کی بات ہے جب لوگ سچے ہوا کرتے تھے اور سچ کی خاطر اپنی جان تک دینے کو تیار ہو جاتے تھے ،وہ ظلم و ستم کو تو برداشت کرنا
جانتے تھے مگر جھوٹ کے آگے اپنی گردن جھکانا گوارا نہیں کرتے تھے ،وہ سر عام گردن کٹوانے کو تو تیار تھے مگر چند لکوڑیوں کی خاطر اپنا ایمان
اور اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا کرتے تھے ،
تو جناب یہ بات ان وقتوں کی بھی ہے جب وعدے پکے ہوا کرتے تھے ،وہ لوگ اپنی زبانو ں پر قائم رہنے والے تھے ،ان کی یہ خاصیت تھی کہ وہ جو بات اپنی زبان سے ادا کرتے تھے ان باتوں پر وہ تاحیات قائم و دائم رہتے تھے ،ان کے سچے وعدوں کے سبب دنیا کے ہر میدان میں اللہ کی مدد اور نصرت ان کے ساتھ رہتی تھی ،وہ اپنے وعدوں کو قرآن اور حدیث تو نہیں کہتے تھے مگر ان کا یہ ایمان تھا کہ وعدوں کی تکمیل ایمان کا جزو ہے ،اور وعدہ خلافی کرنے والا مسلمان نہیں منافق ہوتا ہے اگرچہ اس دور میں کچھ لوگوں کے وعدے قرآن اور حدیث نا ہونے کی وجہ سے پورے نہیں ہوتے ،یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کا تکبر جینے نہیں دیتا دن رات وہ اپنی ہی جیسے انسانوں کو شکست فاش دینے کے بارے میں ہی سوچتے رہتے ہیں ،وہ ہمہ وقت ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ جب وہ کسی غریب کی دنیا اجاڑ دیں،اور وہ دنیا کس طرح اجڑتی ہے یہ جاننے کے لئے آ پ کو کسی غریب دیہاڑی دار کے گھر کا اس وقت چکر لگانا پڑے گا جبب آپ زوروشور سے عید کی تیاریاں کر رہے ہوں،بچوں کے لئے نئے کپڑے ،جوتے اور طرح طرح کے کھلونے خرید رہے ہوں ،جب آپ کے گھر میں طرح طرح کے کھانے پک رہے ہوں اور آپ مزے سے کھا رہے ہوں ،اس وقت آپ کسی غریب دیہاڑی دار کے گھر کا چکر لگائیں آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ کس طرح کسی غریب کی دنیا اجڑتی ہے اور اجاڑنے والے عیاشیوں بدمعاشیوں میں مصروف ہیں ،یہ اس انا اور تکبر کا ہی صلہ ہے کہ دن دیہاڑے لوگ خودکشیاں کر نے پر مجبور ہیں ،اپنے بچوں کو غربت اور افلاس کی وجہ سے رات کی تاریکی میں موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں ،اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کے بچے بھی تکبر اور انا کی بھینٹ نہ چڑھ جائے ۔
یہ بات ہے ان لوگوں کی جو دولت کے پجاری ہیں اور اسی وجہ سے ان کے اندر کا شیطان جاگتا ہے اور وہ تکبر پر اترتے ہیں ،ایسے لوگ صرف ان لوگوں کے ہوتے ہیں جن کے پاس دولت ہو ،وہ اپنا رفیق صرف انہی لوگوں کو بناتے ہیں جو ان کے سٹیٹس کے ہوں ،
وہ ایسے رشتہ داروں کی رشتہ داری کا بھی انکار کر دیتے ہیں جو غریب ہوں ،وہ ایسے محلوں میں رہنا بھی پسند نہیں کرتے جن میں غریب بستے ہوں ایسے لوگ تکبر اور انا میں اپنی زندگیاں تو کاٹ دیتے ہیں مگر ان کو سکون نہیں حاصل ہوتا ان لوگوں کی بے حسی کی انتہا تب ہوتی ہے کہ جب وہ اپنے گھر میں بیٹھے پیٹ بھر کر کھارہے ہوتے ہیں اور اسی لمحے ان کے پڑوس میں کسی غریب کے بچے بھوکے پیٹ سو رہے ہوتے ہیں ،اور پھر جب بات ہو کسی اہم مسئلے کی تو یہی لوگ مفتی اور سکالر بن کر سامنے آجاتے ہیں ،کیا فائدہ ایسے سکالرز کے علم کا اور کیا فائدہ ایسے مفتیا ن کے راتوں کی عبادات کا ۔
ایک موقع پر حضرت عمرفاروق(رض) نے فرمایا تھا کہ عمر کے دور حکومت میں دریائے فرات کے کنارے کتا بھی بھوکا مر جائے تو مجھے ڈر ہے کہ اس کی ذمہ داری مجھ پر ہو گی ،مگر اس وقت تو حالات کچھ اور ہی پیشن گوئی کر رہے ہیں ،یہاں کے نظارے تو اس کے بلکل برعکس ہیں یہاں انسانوں کو بھوکا سونے پر مجبور کر دیا گیا ہے ،اور کتوں کو اپنی آغوش میں بٹھا کر ان کو پیار کیا جاتاہے دنیا کی نظروں کے سامنے ہے کہ لال مسجد میں معصوم بچوں کا کس طرح سے خون بہایا گیا ،ان کو بھوکا ،پیاسا رکھا گیا ،اور سفاکیت کی انتہا کر کہ ان کو مکے دکھا کر تکبر اور انا کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ِ
جی ہاں جناب یہ بات ان وقتوں کی تھی جب لو گ سچے اور وعدے پکے ہوا کرتے تھے ،مگراب بات ان وقتوں کی ہے جب پرندے بھی اس انسان نما درندے کی درندگی سے خوف زدہ ہیں اور وہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ انسان نہیں اس بات کا مشاہدہ اس وقت ہوا جب کسی انسان نے ایک اونچی اڑان اڑتے ہوئے پرندے سے پوچھا۔
تم اتنی اونچی پرواز کرتے ہو اور بلندیوں میں گم ہو جاتے ہو تو کیا تم کو ڈر نہیں لگتا ،،﴿گرنے کا﴾
تو پرندے نے کیا خوب جواب دیاکہ ،
میں انسان نہیں ہوں کہ مجھے گرنے کا ڈر ہو ،کیوں کہ میں تکبر نہیں کرتا
پرندے نے چندالفاظ میں اس دور کے انسان کی حقیقت کھول کر بیان کر دی ،اور مطلب صاف اور واضح کر دیا کہ اگر وہ بھی تکبر کرتا اور اگر اس میں بھی انا کا مادہ ہوتا تو وہ کبھی نا اڑ سکتا اور یہی وجہ ہے کہ آ ج کا مسلمان تباہی اور بربادی کا شکار ہو رہا ہے ۔

x

Check Also

لگی جو آگ تو ہر بار میرے گھر میں لگی

اپنے وطن سے دور اپنے ملک کی تعمیر اور ترقی کے لئے ...

Connect!