شہ سرخیاں
Home / محمد فرحان عباسی / گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب

گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب

شاعر نے نجانے کب یہ مصرعہ سوچا اور لکھ دیا شاید صدیاں گزر گئی ہوں ،الزام کس کے سر ٹھہرائیں اور کسے سزاوار کہیں ،کس کے ہاتھوں میں اہنے دیس کے بھوک سے مرنے والے بچوں کا لہو تلاش کریں اور کس کا سینہ چاک کر کے اس کی سنگدلی کا ثبوت پیش کریں ،ہر طرف ہی تو اندھیرا ہے چار سو کالی گھٹا چھا چکی ہے اور گھٹا بھی ایسی کہ جسے دعوت دے کر بلایا گیا ہے ،جس طرف کان جائیں آہوں اور سسکیوا کی آوازیں کانوں میں پڑتی ہیں اور ہر طرف سے آوازآ رہی ہوتی ہے بھوک بھوک اور بھوک،اور پھر جب اس طرف نظر پڑتی ہے تو یا تو کوڑے کے ڈھیر پر بچوں کا ہجوم نظر آتا ہے جن کے سر پرچادر نا ہی پائوں میں جوتی اور جسم پر پھٹے پرانے کپڑے ،ان کی حالت ایسی کہ جسم بھی کانپ اٹھتا ہے یہ بات سوچ کر کہ ہم کتنے بے حس اور سنگدل ہو چکے ہیں کہ خود تو پیٹ بھر کے کھاتے ہیں اور ہمارے ہی گلی ،محلوں میں چھوٹے ثھوٹے بچے کوڑا چنتے ہوئے بھوک سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں ،کیا یہ انسانیت ہے ؟شاید میرے اس سوال کا جواب سب کے پاس ہونے کے باوجود کوئی بھی اس ،کا جواب نہیں دے گا ،
جنگل میں بسنے والے جانوروں کے بھی کچھ قواعد وضوابط ہوتے ہیں ان میں بھی ایک دوسرے کے لئے ہمدردیاں ہوتی ہیں وہ ایک دوسرے کے کام بھی آتے ہیں مشکل وقت میں شیرنی بکری کے بچے کو دودھ بھی پلادیتی ہے سانپ مرغی کے بچے کو اپنے ساتھ رکھ لیتا ہے اور دیکھنے والوں سے یہ بھی سنا ہے کہ کتا اور سانپ ایک ہی جھاڑی میں سو جاتے ہیں ۔
بہت دور کی نہیں گزشتہ سیلاب میں پیش آنے والا واقعہ ہیکہ بلوچستان کے علاقہ روجہان میں امداد لے کر جانے والے کچھ دوستوں نے بتایا کہ حالات یہ تھے کہ پانی مٹی کے ساتھ ساتھ درخت اور جھاڑیاں بھی اکھاڑ کر ساتھ لے جا رہا تھا ،اور پھر دیکھا کہ ایک بڑی جھاڑی ا ٓ رہی ہے جس میں کتا اور سانپ ایک ہی جگہ اکٹھے بیٹھے ہیں دونوں مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنے ہوئے ہیں ،اور ہر ایک دوسرے کے سہارے موت کے سامنے جا رہا ہے ۔
مگر حیرت ہے مجھے انسانون پر کہ اپنے ہی کئے ہوئے وعدوں سے منحرف ہو جاتے ہیں ،اپنے ہی فرائض میں کوتاہی کر کے جنت اور بخشش کی امیدیں لگائے جاتے ہیں ،مجھے حیرت ہے ایسے مسلمانوں پر جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے آس پاس کسی جھونپڑی میں ،کسی کچے مکان میں کسی غریب کا بچہ بھوکا سو جاتا ہے ،مجھے حیرت ہوتی ہے ایسے حکمرانوں کے بارے میں سوچ کر بھی کہ جن کے ایک وقت کے کھانے کی قیمت پانچ پانچ لاکھ روپے ہوتی ہے ،اور اس حکمران کے ملک میں بسنے والے غریبوں کے پاس پانچ روپے نہیں ہوتے کہ وہ اپنے بچوں کے لئے کھانا لے جا سکیں ،میری آنکھیں آنسئوں سے بھر گئیں جب بس سٹاپ پر کھڑے ایک دیہاڑئ دار مزدور نے چپکے سے کان میں کہا کہ گھر جانے کو کرایہ نہیں ہے کچھ پیسے دے دو ،میرے پائوں کے نیچے سے زمین نکل گئی جب گاڑی میں کھڑا نوجوان کہنے لگا کہ میری ماا بیمار ہے خدا کا واسطہ اس کا علاج کروا دو ،اور اسی لمحہ مجھے یاد آئی ارفع کریم کی کہ وہ اڑھیاں رگڑتی رہی اس کا علاج نا ہو سکا اور دوسری طرف ایک مییت کو لندم لے جایا گیا کہ شاید لندن والے خدا بن جائیں
یہاں ہر ایک کے مزاج ہی جدا ہیں اور یہاں ہر کوئی نرالے انداز اپنائے ہوئے ہے ،مگر تمام باتوں کا ایک ہی جواب ہے کہ اگر اس ملک میں ہر ایک کو اس کا جائز حق دیا جاتا ،اس کو طبقات میں نہیں انسانیت کے پیمانے میں پرکھا جاتا تو نوبت آ یہاں تک نا پہنچتی اور شاعر بھی یہ کہنے پر مجبور نا ہوتا
گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب ،،،،بچی کسی مزدور کی فاقوں سے مر گئی

x

Check Also

لگی جو آگ تو ہر بار میرے گھر میں لگی

اپنے وطن سے دور اپنے ملک کی تعمیر اور ترقی کے لئے ...

مسئلہ فلسطین ،شاہ فیصل اور امریکہ

بلی نے کبوتر کا شکار کرنے کے لئے اس کا پیچھا کیا ...

طوائف کا جسم اور صحافی کا قلم

معاشرے کو جس ناسور سے بچانا چاہیے تھا اسی ناسور نے معاشرے ...

چھپے رستم ،تمہیں یاد ہو کہ نا یاد ہو

سرزمین شہداء کس علاقے کو کہتے ہیں میں نہیں جانتا اور نا ...

*آزادہے میرا وطن*

کس کا دل نہیں چاہتا کہ وہ ایک آزاد فضا میں سانس ...