شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / غریب اگر ایک روٹی کا ٹکڑا بھی چوری کر لیے
loading...
غریب اگر ایک روٹی کا ٹکڑا بھی چوری کر لیے

غریب اگر ایک روٹی کا ٹکڑا بھی چوری کر لیے

mirza arifتنقید برائے اصلاح ہونا ضروی ہے تنقید میں کسی کی پگڑی اُچھلانا غلط ہے تمام سیاستدان جس طرح کی بیان بازی کر رہے ہیں جس طرح کے الزام ایک دوسر ے پر لگا رہے ہیں ایسی سیاست کرنا ٹھیک تو نہیں حکومت کو تنقید برداشت کرنا ہوگئی تمام تنقید کرپشن پر کی جا رہی ہے اقتدار میں کرپشن کرنے والوں کو بے نقاب کرنا بہت بڑا مسلہ بن گیا ہے کس طرح پیسہ ملک سے باہر گیا سٹرکوں سے اب عدالتوں میں بات پہنچ گئی ایک طرف درباری کرپشن کرنے والوں کو صادق اور امین کہتے ہیں دوسری طرف پورے ثبوتوں کے ساتھ عدالتوں میں صادق اور امین نااہل کروانا چاہتے ہیں اگر کرپشن بے نقاب ہو جاتی ہے تو اتنی بڑی رقم واپس آجائے گئی کیا ملک سے تمام کرپشن ختم ہو جائے گئی؟ جہاں تک بات ہے کرپشن کی تو تمام ادارے اس طرح کرپشن میں ڈوب چکے ہیں کہ کس ادارے کی بات کریں روشن مستقبل کرپشن کی نظر ہوتا جا رہا ہے ملک کو ترقی کی رہا پر ڈال دیا ہے افسوس کس ترقی کی بات کرتے ہیں تعلیم میں ہم ترقی تو نہیں کر سکے لیکن بھیک مانگنے والوں نے ملک میں ضرور ترقی کی ہے غریب آج بھی لمبی لین میں لگ کر اپنے پیٹ کی آگ ختم کر نے کے لیے کھانا حاصل کرتا ہے مزدور کی مزدوری آج بھی وہی ہے ملک کے تمام بڑے چھوٹے شہروں کے چوکوں پر صبح مزدوری کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے دوسری طرف حکومتوں نے کبھی سوچا آج گلی گلی میں برائی عام کیوں ہوتی جا رہی ہے کرائم سٹریٹ میں اضافہ بھی ترقی ہو گا غریب ماں کا بھوکا بچہ جب اپنی ماں سے فریاد کرتا ہے اور روتے ہوئے کھانا مانگتا ہے غریب ماں کے پاس اپنے بچے کو دلاسہ دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا وہ ماں فریاد کرے تو کس سے کرے ہم نے غریب کے لیے نو ہزار سے اضافہ کر کے چودہ ہزار تو کر دیا ہے لیکن وہ بھی اعلان تک ہی ہے بڑے بڑے دعوائے کرنے والوں نے اس ملک کو آج کہا لا کھڑ ا کیا ہے اربوں کی کرپشن کرنے والا پکڑا نہیں جاتا غریب اگر ایک روٹی کا ٹکڑا بھی چوری کر لیے تو اس کو چوری کے الزام میں جیل ہو جاتی ہے ترقی پر باتیں کر نے والوں کو اس بات کا علم اچھی طرح سے ہوگا ترقی کرنے والے ملکوں میں کھانا لائن میں لگ کر نہیں لیا جاتا اپنے ہی ملک میں لمبی لائن لگ کر روٹی لینے والے یا جن کے کتے بھی بسیکٹ کھاتے ہو وہ ملک ترقی کرتے ہیں اگر قوم کو کچھ دینا بھی تھا تو معیشت دیتے قوم کو کچھ دینا بھی تھا تو تعلیم سے آراستہ کرتے 2007کا خادم اعلی 2013کے الیکشن کے بعد بادشاہ کس طرح بن گے 2007کے خادم اعلی کو یاد ہو کے نہ یاد ہو عوام کا 34ارب سستی روٹی کی نظر ہو گیا اربوں روپے لگا کر بھول جانے والا بادشاہ کو اگر یاد ہو تو دانش سکول کا بھی کوئی پُرسان حال نہیں پنجاب کے بادشاہ سلامت کو یاد نہیں ہوگادانش سکولوں پر بھی اربوں کا خرچہ کیا گیا تھا کس کس ترقی کی بات کریں پورے ملک میں کمیشن مافیا سرگرم ہے ایک لاکھ پر ٹھیکدار سے کتنا کمیشن لیا جاتا ہے اس بات کا علم بادشاہ سلامت کو نہیں ہوگا کسی بھی محکمہ میں ٹینڈر لگتے ہیں 5فیصد الاٹمنٹ پہلے وصول کر لیا کیا جاتا ہے ٹینڈر کی مد میں بعد میں ٹینڈر ڈالے جاتے ہیں جس کمپنی کا ٹینڈر نکل آتا ہے اصل کام پھر شروع ہو جاتا ہے کچھ محکمے تو ایڈونس 20فیصد رقم ٹھیکدارکو آدا کر دیتے ہیں ایڈوانس آدائیگی کا کمیشن پہلے وصول کرلیا جاتا ہے کچھ محکمے ایسے بھی ہیں جو ٹھیکدار کے بل کی آدائیگی کرتے ہیں اور اپنا کمیشن بھی وصول کرتے ہیں کام شروع ہوجانے کے بعد کمیشن لیا جاتا ہے ہر ادارے کا سربراہ ترتیب سے اپنا کمیشن وصول کرتا ہے ایکسن 3فیصد ایس ڈی اُو 3فیصد سب انجینیر 5فیصد آکاونٹ برانچ 2فیصد ٹی ایم اے میں کمیشن زیادہ دینا پڑتا ہے ٹی ایم اُو 3فیصد آڈیٹ2فیصددفتری خرچہ2فیصد انکم ٹیکس 9سے 10فیصد ٹھیکدار سے 10فیصد سیکورٹی بھی کا ٹ لیجاتی ہے تمام کمیشن دے کر ٹھیکدار نے اپنا حصہ بھی رکھنا ہوتا ہے اگر 15فیصد ٹھیکدار بھی حصہ لیے تو کام پائیدار ہو گا 42فیصد صرف کام پر لگتا ہے اور آدھے سے زیادہ حصہ کمیشن کی نظر ہو جاتا ہے ایک لاکھ کے کام سے اگر 58 فیصد نکل جائے تو کام کس طرح کا ہو گا پورے ملک میں اربوں کھربوں کا کمیشن ہر سال کمیشن مافیا کی جیب میں جاتا ہے پورے ملک میں سرکاری فنڈ ز پر کمیشن دینا پڑتا ہے ایک روپیہ سے لیے کر ا یک کھرب کے کام پر کمیشن دینا پڑتا ہے ترقی ترقی پر باتیں کرنے والوں یہ ترقی نہیں شرمندگی ہے تمام ادارے کمیشن مافیا کی وجہ سے بدنام ہو رہے ہیں صوبائی محکمے ہو یا پھر وافاقی محکمے کرپشن سب میں کی جاتی ہے جب تک ادارے ٹھیک نہیں ہو گئے تب تک کچھ بھی نہیں ہو سکتا ملکی خوشحالی میں سب سے اہم کردار اداروں ہوتا ہے اربوں ڈالر کا بوج آج بھی قوم اآٹھا رہی ہے مہنگائی مسلہ کا حل نہیں اصل مسلہ کرپشن ختم کرنا

note

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top
web stats