شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ’’ہالینڈ !گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اعلان اور مسلمانوں کی خاموشی‘‘

’’ہالینڈ !گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اعلان اور مسلمانوں کی خاموشی‘‘

نبی مکرم،ختم الرسل ،امام الانبیا،احمد مجتبیٰ،رحمت کائنات،قائد انسانیت،شہنشاہ امن ،محبوب سبحانی جناب محمد ﷺکی شان میں گستاخیوں کا سلسلہ کوئی نیا نہیں بلکہ نبوت سے پہلے ہی شروع ہوچکا تھا ۔یہود ونصاریٰ کے ان رکیک حملوں ،سازشوں اورذہنیت کو سمجھنے کے لئے ہمیں تاریخ کے ان واقعات کا ازسر نو مطالعہ کرنا ہوگا جو قرون اولیٰ سے لیکر اب تک سلسلہ وار رونما ہوتے رہے ہیں ۔اس سے یہودیوں کی عیسائیت سے دشمنی کی تاریخ کی جھلک بھی دکھائی دے سکتی ہے اور مسلمانوں سے عناد کے اسباب بھی سمجھ میں آسکتے ہیں۔یہود حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت سارہ کے بیٹے حضرت اسحاقؑ کی اولاد سے تھے جبکہ قریش حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت ہاجرہ ؑ کی اولا میں تھے ۔یہود کے ذہن میں اپنی برتری کا خناس چونکہ موجود تھا اور ہمیشہ رہے گا اس کا اظہار ،انہوں نے حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کوتو حضرت اسحاق ؑ سے منسوب کرلیا لیکن تعمیر بیت اللہ جو حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کے ہاتھوں انجام پائی تھی اس کا انکار انکے لیے ممکن نہ ہوسکا اس لئے انہوں نے اس کا احترام نہ کرنے کی ٹھان لی ۔اور حضرت اسماعیل کی والدہ حضرت ہاجرہ ؑ کی شان میں یہ گستاخی کی اور داستان گھڑی کہ حضرت ہاجرہ ؑ ،حضرت ابراہیم ؑ کی بیوی نہیں بلکہ لونڈی تھیں ،جنہیں حضرت ابراہیم ؑ اپنی بیوی حضرت سارہؑ کے حکم یا خوشی کے لیے حضرت ہاجرہ ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کو بے آب وگیارہ تپتے ہوئے ریگستان میں مرنے کے لیے چھوڑ گئے تھے ۔یہ ان جعلی روایات کا حصہ ہے جو یہودیوں نے اپنی مخصوص ذہنیت کے تحت اپنی الہامی کتابوں میں اضافہ کے ذریعے شامل کی تھیں ۔حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں ان کتابوں میں اور بھی جو کچھ درج ہے وہ اتنا شرمناک ہے کہ اس کا تصور بھی اس برگزیدہ نبی ؑ کے ساتھ نہیں لیا جاسکتا ۔قرآن پاک میں انہیں تہمتوں سے پاک کیا اور مینار نور قرار ہے۔اصل بات یہ تھی کہ یہود تورات کی ان آیات کی رو سے جو انہوں نے مخصوص مقصد کے تحت حذف کردی تھیں ،جانتے تھے کہ نبی آخرالزمانؐ کا اولاد اسماعیل ؑ سے ظہور ہوگا ،جس کی پیش بندی کے لئے انہوں نے حضرت حاجرہ ؑ پر بہتان باندھے اور حضرت اسحاقؑ کی حضرت اسماعیل ؑ پر فضیلت و برتری قائم کرنے کی کوشش ۔مگر وہ قریش کو حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد ماننے اور حضرت اسماعیل ؑ کو حضرت ابراہیم ؑ کا بیٹا ہونے سے انکاری نہ تھے۔یہودیوں کے ستارہ شناس ،کاہن ،نجومی شہنشاہ امن جناب محمدؐ کی ولادت کے زمانے میں بالخصوص منتظر تھے کہ اس ذات اطہر پیغمبر آخرالزمان کا ظہور ہونے والا ہے ۔جنکی تورات اور انجیل میں واضح نشانیاں آچکی تھیں ،نسلی تفاخرکی بنا پراسرائیل کی ہٹ دھرمی اور ضدکی انتہا یہ تھی کہ جس آخری پیغمبرکا انہیں صدیوں سے انتظار تھا وہ پیغمبر آخرالزمان جب تشریف لائے تو انکی حقانیت وصداقت کی نشانیوں اور علامتوں کو واضح طور پر پہچان لینے کے باوجود وہ صرف اس لیے ان کے ہاں ناقابل قبول ٹھہرے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں تھے بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے چچا زاد بھائیوں بنی اسماعیل ؑ میں پیدا فرمادیا تھا۔دوسرا اسلام اور نبیؐ سے دشمنی کا سب سے بڑا سبب یہ بھی تھا کہ انہوں نے اسلام کوابتداء میں ایک نئے مذہب کے طور پر سمجھا ہی نہیں ۔بلکہ وہ اسے اپنے انبیاء اور الہامی کتابوں کی روشنی میں اسی دین کی کڑی سمجھتے رہے جسے حضرت ابراہیم ؑ ،حضرت اسحاق ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ لیکر آئے تھے ۔مدینہ منورہ میں تشریف آوری کے سترہ ماہ تک چونکہ مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے رہے تو یہودیوں نے برملا یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ رسولؐ بالآخر ہمارا دین ہی اختیار کریں گے ۔لیکن جب تحویل قبلہ کی آیت نازل ہوگئی ۔تو اس وقت یہودیوں کو اندازہ ہوا کہ اسلام وہ مذہب نہیں جو وہ سمجھ رہے تھے بلکہ جدا دین ہے ۔یہاں یہودیوں نے آپ ؐکے خلاف پروپیگنڈا کرنا شروع کر دیا کہ آپؐ نے (نعوذباللہ)تمام انبیاء کا قبلہ چھوڑ کر اللہ تعالیٰ سے بغاوت کی ہے ۔یہود یوں کی نبی رحمتؐاور اسلام دشمنی سے تاریخ بھری پڑی ہے ۔آپ ؐ نے ہر ممکن کوشش کی یہ لوگ ایمان لے آئیں مگر یہ وہ بدبخت قوم تھی جو اپنے پیغمبروں کو ایذائیں دیکر
قتل کردیتے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک سو(رۃ المائدہ 51-5)اے ایمان والو!تم یہود ونصاریٰ کو دوست مت بناؤ یہ لوگ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے گا وہ بے شک انہی میں سے ہے،ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا‘‘بنی اسرائیل اپنے دور کی معزز ترین اور مقتدر ترین قوم تھی جسے اللہ تعالیٰ نے نبوت ،حکومت عزت اور اقتدار کی دولت سے نوازا تھا ۔اسی بنا پر یہودی آج تک خود کو دنیا کی آقا قوم سمجھتے ہیں اور کسی بھی مذہب کو تسلیم نہیں کیا ہے اور دوسری اقوام پر دھونس جمانے کا ذریعہ بنا لیا اور آسمانی تعلیمات میں من مانی تحریفات کر کے انہیں اپنی خواہشات کے سانچے میں ڈھالنے کا سلسلہ شروع کردیا تو اللہ تعالیٰ کے قانون فطرت کے مطابق وہ بالآخر گمراہی اور ضلالت کا راستہ اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کے مورد غضب قرار پائے ۔یہودیوں کی نبی کریم ؐاور اسلام سے عناد کی وجہ تو سمجھ میں آگئی ہو گی۔یہ یہودی اتنی بدترین اور بدبخت قوم ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تائب ہونے اور نبی امن ؐ پر ایمان لانے کی بجائے پیغمبر آخرالزمان ؐکوجان سے مارنے اور آپ ؐکی ذات پر دشنام طرازیوں کا سلسلہ جاری رکھا ۔یہودی عورت زینب بنت حریث نے نبی رحمت ؐ کودعوت کے ذریعے( دھوکے)سے گوشت کے اندر سریع الاثر زہر ملاکر آپؐکو ہلاک کرنے کی کوشش کی وہ تو اللہ رب العزت نے اپنے نبیؐکو محفوظ رکھا ۔غرض ان یہودیوں نے نبیؐ کی شان میں گستاخیوں اور ایذائیں پہنچانے میں کوئی کسرنہ چھوڑی ۔صلیبی جنگوں کے دور میں یہودیوں نے ایک اور مکروہ سازش کی جو یہ تھی کہ رحمت امنؐکے جسم اطہر کو روضہ مبارک سے نکال کر کہیں پہنچادیا جائے،یاکوئی اور ایسی حرکت کرنا چاہتے تھے جس سے مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچ سکتی ہو۔یہ نورالدین زنگی کا دور حکومت تھا ،مسلمان فوج جرمنی کے شہنشاہ کانرڈکی نو لاکھ افراد پر مشتمل فوج کے خلاف یروشلم میں نبرد آزما تھی کہ دومسکین صورت باریش یہودی مدینہ منورہ کے نواح میں وارد ہوئے۔انکی وضع قطع دیکھ کر کسی کو شبہ تک نہیں ہوسکتا کہ عبادت وریاضت کے سوا بھی کوئی اور مقصد ہوسکتا ہے۔دن بھر یہ لوگ اللہ اللہ کرتے اور راتوں کو اپنے حجرے میں سرنگ کھودتے تاکہ روضہ اطہر تک پہنچ سکیں ۔یہاں تک کہ انکی سرنگ روضہ اطہر کے بالکل قریب جا پہنچی ،ایک رات نور دین زنگی کو خواب میں آنحضرتؐنے اطلاع دی تین دن تک یہی خواب آتا رہا آپؐ نے خواب میں ان یہودیوں کی شکلیں بھی ذہن نشین کرادیں ۔نور دین زنگی نے مدینہ کے باشندوں کی دعوت طعام کا انتظام کیا اور حکم دیا کہ ہر شخص دعوت میں شریک ہو جب دعوت میں وہ دوشیطان صفت نظر نہ آئے تو آپ بہت پریشان ہوئے آپ نے منتظمیں دعوت سے دریافت کیا کہ کوئی شخص شرکت سے رہ تو نہیں گیا تو معلوم ہوا کہ دوزاہد وعابد افراد شامل نہیں ہوسکے ۔وہ ہر وقت اللہ کی ذکر میں مشغول رہتے ہیں ۔آپ خود وہاں پہنچے جہاں وہ عبادت کرتے تھے آپ نے دیکھاشکلیں وہی تھیں جو خواب میں دکھائی گئی تھیں ۔تلاشی لی گئی ان کا مصلیٰ اٹھاکر دیکھا گیا تو اس کے نیچے سرنگ کا دروازہ تھا ۔انکے پاس اقرار جرم کے سوا کوئی راستہ نہ تھا ۔سلطان نوردین زنگی نے سیسہ پگھواکر ان کے حلق میں انڈیلنے کا حکم دیا ۔آئندہ ایسی صورت حال کی پیش بندی کے لیے روضہ اقدس کے گرد سات دھاتوں کی دیوار تعمیر کرادی ،جو آج تک ویسی کی ویسی ہے۔آج چودہ سوسال گزر جانے کے بعد یہودی ایک بار پھر منظم اور مسلح ہوکر مسلمانوں سامنے کھڑے ہیں ۔انسانی تاریخ کا ایک سیاہ اور المناک باب ہے اور اس سے کہیں زیادہ الم و کرب کا پہلو یہ ہے کہ یہودیوں کی گذشتہ ایک صدی کی چیرہ دستیوں اور مظالم کو سند جواز عطا کرنے کے لیے نہ صرف عالمی سطح پر مہم جاری ہے بلکہ خود مسلمان ملکوں میں یہ بات دانشور وں کے ہاں موضوع بحث اور یہ مشورے دئیے جارہے ہیں کہ جو کچھ ہو چکا اس پر مٹی ڈالیں اور ماضی کی یادوں کو دفن کر تے ہوئے آج کے معروضی حالات کی بنیاد پر اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے ۔ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے یہودی چودہ سوسال پہلے کے ماضی کو فراموش کرنے کے لیے تیار نہیں مگر مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ ماضی قریب کی اس صدی کو فراموش کردیں جس کے بہت سے کردار ابھی زندہ ہیں ،جس کی چیرہ دستی کا نشانہ بننے والوں کے زخم ابھی تازہ ہیں اور جس کی درندگی میں کمی کی بجائے بدستور اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔یہود ونصاریٰ مسلسل نبی رحمت پیغمبر امن جناب محمد ﷺ کی شان میں گستاخیاں کررہے ہیں ۔ڈنمارک ،ناروے سمیت دیگر یہودی وعیسائی ممالک میں آئے دن نبی رحمتؐ کی شان میں(مختلف صورتوں میں ) گستاخیوں کا سلسلہ جاری وساری ہے ۔اور اب ہالینڈکی اسلام دشمن سیاسی جماعت ’’فریڈم پارٹی‘‘کے سربراہ ملعون گیرٹ ولڈرز نے ایک بار پھر گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اعلان کیا ہے ۔یہ مقابلہ بھی ہالینڈ حکومت کے تعاون سے ہالینڈ کی ڈچ پارلیمینٹ کی عمارت میں منعقد کروانے کا اعلان کیا گیا ہے ۔جس میں شہریوں سے آن لائن گستاخانہ خاکے جمع کروانے کی درخواست کے ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ یہ مقابلہ برائے راست سوشل میڈیا پر بھی دکھایا جائے گا اور یہ خاکے پوری دنیا میں نشر کرنے کا اعلان کیا ہے اور بہترین خاکے بنانے والوں کو انعامات دیکر مسلمانوں کے ایمان کو آزمائے گا ۔معلون گیرٹ کا کہنا ہے کہ وہ یہ نمائش ملک میں آنے والے شامی پناہ گزین مسلمانوں کو روکنے کے لیے کر رہا ہے تاکہ ہالینڈ کے شہری مسلمانوں سے نفرت کریں ۔
امن کے ان علمبرداروں ،ٹھکیداروں ،انسانی حقوق کے رکھوالوں سے سوال ہے ۔کہ کیا یہ دہشت گردی نہیں ؟ورلڈٹریڈ سنٹر ،پینٹا گون دہشت گردی کا واقعہ جس نے دنیا بدل کررکھ دی گیارہ ستمبر کی ایسی دہشت گردی کا ذمہ دار ’’مسلمانوں‘‘کو ٹھہرایا گیا مذہب کے نام پر ہونے والی اس دہشت گردی کی کاروائی پر ساری دنیا میں بالخصوص اسلامی دنیا میں شدید مذمت کا اظہار کیا اور اس جانی مالی نقصان پر امریکی عوام ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ۔اس افسوس ناک واقعے نے ’’تہذیبوں کے ٹکراؤ ‘‘کے نظریہ کو درست قرار دیدیا ۔اس سانحہ کے بعد امریکہ کی عوام اور حکومت کی طرف سے فوری ردعمل اسلام کے خلاف تھا ۔جس پر دنیا بھر میں مسلمانوں کا قتل عام مذہبی فریضہ سمجھ کر کیا گیا ۔لیکن وقت کے ساتھ یہ بات واضح ہوگئی کہ اسلام کے نام ہونے والی اس کاروائی میں اسلام اور اس کے ماننے والوں کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔اب ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم مسلمان اکثریت میں ہونے کے باوجود بھی محکومانہ ،غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ہم توکفار کی ذیاتیوں پر احتجاج بھی نہیں کرسکتے اس کی وجہ ہم نے اسلامی طرز زندگی کو فراموش کر کے یہود ونصاریٰ کی طرززندگی کو بخوشی اپنا لیا ہوا ہے، آج ہمارامعاشی،معاشرتی ،سیاسی ،اقتصادی نظام انکی مرہون منت ہے ،ہم یہود ونصاریٰ کی دوستی کواللہ اور اسکے رسول ؐکی دوستی پر فوقیت دے چکے ہیں۔کیا پاکستان اور دنیا بھر میں 57آزاد اسلامی ممالک ملکر نبی رحمتؐ کی شان میں ہونے والی گستاخیوں کے سلسلہ کو روک پائیں گے؟کیا مسلمان ایک بار پھر فاتح ہوگا ؟کیا پاکستان ہالینڈ کے سفیر کو پاکستان سے نکال دے گا؟کیاپاکستان کے علماء اپنے ذاتی مفادات ،ترجیحات کو فراموش کرتے ہوئے تحفظ ختم نبوت ؐکے لیے ایک جھنڈے تلے اکھٹے ہوپائیں گے ؟کیا ہم یہود ونصاریٰ کی غلامی سے نکل پائیں گے؟کیا شامی مسلمانوں کی مددکو مسلمان پہنچے گا؟ان سوالوں کے جوابات اگلے حصہ میں ۔انشاء اللہ ۔
فضائے بدر پیدا کر ،فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندرقطار اب بھی

error: Content is Protected!!