شہ سرخیاں
Home / پاکستان / حکومت پنجاب اورہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے تفریحی ومطالعاتی دوروں پرضابطہ اخلاق اپنانے کی سختی سے ہدایت کردی

حکومت پنجاب اورہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے تفریحی ومطالعاتی دوروں پرضابطہ اخلاق اپنانے کی سختی سے ہدایت کردی

سرگودھا﴿ تحصیل رپورٹ﴾حکومت پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے حادثات اور دیگر خطرات سے نمٹنے کیلئے طلبا وطالبات کو تفریحی ومطالعاتی دوروں پر لے جانے کیلئے سرکاری ونجی تعلیمی اداروں کو ضابطہ اخلاق اپنانے کی سختی سے ہدایت کر دی ہے ۔ اس ضابطہ کے تحت تفریحی ومطالعاتی دورو ں کیلئے محکمہ تعلیم سے اجازت لینا ضروری قرار دیاگیاہے جبکہ دیگر اقدامات میں ادارہ کے سینئر ٹیچر کو دورے کا انچارج مقرر کرنا‘ والدین سے تحریری اجازت نامہ لینا ‘ طلبا وطالبات کانام پتہ سکول ‘ کلاس ‘ موبائل نمبر ‘ رول نمبر ورابطہ نمبر ‘ مطالعاتی وتفریحی مقامات کی تفصیلات ‘ روانگی وآمد کے اوقات ‘ دورے کا دورانیہ کے ریکارڈ دفتر وانچار ج دورہ کو فراہم کرنا شامل ہے جبکہ انچارج دورہ کے پاس فرسٹ ایڈ کٹس کا ہونا بھی لازمی قرار دیاگیاہے ۔ڈی پی آئی کالج کی طرف سے بھجوائے گئے مراسلہ میں یہ کہا گیاہے کہ نجی ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہوئے ڈرائیور اور گاڑی کے مکمل کوائف ‘ فٹنس سرٹیفکیٹ ‘ روٹ پرمٹ ‘ ڈرائیونگ لائسنس ‘ شناختی کارڈ کی کاپیاں بھی متعلقہ ادارے میں موجود ہونا ضروری ہیں۔ سوات ‘ کاغان ‘ ناران وغیرہ کے تفریحی دورہ کیلئے ہوم ڈیپارٹمنٹ سے اجازت لینا لازمی کر دیاگیاہے ۔ ڈرائیور ز کارستوں سے آگاہ ہونا ‘نشے کا عادی نہ ہونا اور دوران سفر اس کی صحت وآرام کا خیال رکھنا انچارج کی ذمہ داری قرار دیاگیاہے ۔ طلبا وطالبات کے لئے گلے میں نام ‘ پتہ ‘ رابطہ نمبر ‘ کلاس ‘ تصاویر والے ٹیگ کا لٹکانا لازمی قرار دیاگیاہے ۔ مطالعاتی دورے کا انچارج ڈرائیور کی طر ف سے تیز رفتاری ‘ لاپرواہی ‘ طلبا وطالبات کے چھت یا پائیدان سے لٹک کر سفر کرنے کے فعل کو روکنے کا ذمہ دار ہو گا ۔ مطالعاتی دورہ سے قبل طلبائ وطالبات اور دورہ کی تفصیلات ڈی سی او اور ڈی پی او کو بھجوانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی حادثہ کی صورت میں وہ ان کی مدد کو پہنچ سکیں ۔ ضابطہ اخلاق میں گاڑیوں میں اوورلوڈنگ سے منع کیاگیاہے جبکہ مطالعاتی دورہ کے انچارج پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ گاڑی کے ایندھن ‘ بریکوں و اس کی دیگر ظاہری حالت کا تعین کرتا رہے ۔ اپنے پاس مطالعاتی دورہ کے رستے میں آنے والے اضلاع کے ڈی سی اوز او رڈی پی اوز ‘ ایمر جنسی خدمات کے مراکز ‘ ہسپتال وغیرہ کے رابطہ نمبر رکھے ۔ دورہ کو ایک یوم تک محدود رکھا جائے تاہم اہمیت کے پیش نظر زائد ایام کی باقاعدہ اجازت حاصل کی جائے ۔ ہر بیس طلبا وطالبات پر ایک نگران ٹیچر مقرر کیاجائے اور طالبات کے ساتھ سیکورٹی گارڈ کا ہونا لازمی قرار دیاگیاہے ۔

About admin

Scroll To Top