شہ سرخیاں
Home / پاکستان / دو نومبر کو دن 2 بجے اسلام آباد بند کرنا شروع کریں گے: عمران خان
loading...
دو نومبر کو دن 2 بجے اسلام آباد بند کرنا شروع کریں گے: عمران خان

دو نومبر کو دن 2 بجے اسلام آباد بند کرنا شروع کریں گے: عمران خان

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ دو تاریخ کو دن دو بجے اسلام آباد بند کرنا شروع کریں گے۔ چھ مہینے سے پوری کوشش کرتے رہے کہ انصاف کے ادارے رنگے ہاتھ پکڑے گئے وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کرے لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسلام آباد کو بند کرنے کی تاریخ کا فائنل اعلان کیا۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ دو تاریخ کو دن دو بجے اسلام آباد بند کرنا شروع کرینگے۔ وکلاء کے الیکشن کے باعث دو تاریخ فائنل کی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر آپ گرفتاریاں کرنا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں لیکن ہم پُر امن رہیں گے ہمیں پُر امن رہنے دیں یہ ہمارا حق ہے۔ پارلیمنٹ، ٹی او آر کمیٹی، اسپیکر، الیکشن کمیشن سب کا رویہ دیکھ لیا۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کمزور اور طاقتور کے لیے الگ قوانین ہیں۔ ایک مجرم پاکستان کا وزیر اعظم بنا ہوا ہے اور ہم احتساب کی بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں جمہوریت سی پیک اور ترقی کو روک رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت کو وارننگ دیتا ہوں کہ اگر آپ نے مزاحمت کی تو ہم تیار ہیں یہ دو ہزار چودہ والی پارٹی نہیں ہے۔ ابھی استعفیٰ چاہتے ہیں ردعمل ہوا تو حکومت جا سکتی ہے۔ ہمیں کہتے ہیں سولو فلائٹ لی ہے لیکن ہم نے پوری کوشش کی سب کو ساتھ ملائیں احتجاج میں۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری اور نواز شریف ایک ہیں لیکن میں انکی جماعت کے کارکنوں کو دعوت دے رہا ہوں کسانوں کو اور بے روزگاروں کو بھی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام آباد کے لوگوں کو کہتا ہوں مجھے معلوم ہے آپکو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن آپکی چھوٹی قربانی ملک کو نجات دلائے گی۔ یہ ہمارا آخری آپشن ہے ہم ہر حد تک جائیں گے۔ کیا ہم اسی طرح شریف خاندان اور کرپٹ مافیا کی غلامی کرتے رہیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف استعفیٰ دیں یا احتساب کے لیے خود کو پیش کریں، اگر چوری نہیں کی تو تلاشی دینے میں کیا حرج ہے۔ بلاول کا نواز شریف کو ستائیس دسمبر کا وقت دینا مک مکا کی مثال ہے۔

Share Button
loading...
loading...

About admin

loading...
Scroll To Top