شہ سرخیاں
Home / امتیاز علی شاکر / غدار کون۔ محب وطن کون؟

غدار کون۔ محب وطن کون؟

یہ بات حیران کن نہیں کہ شاہ محمود قریشی نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔مگر یہ بات بڑی حیران کن ہے کہ جب شاہ محمود قریشی جانتے تھے زردای کی موجودگی پاکستان کے اٹیمی پروگرام کے لیے خطرہ ہے تو پھر شاہ صاحب نے یہ بات اتنی د یر تک راز کیوں رکھی اگر شاہ محمود قریشی پیپلزپارٹی میں رہتے ہوے یہ بات کہتے جس طرح ذولفقار مرزابات کرتے ہیں تو شاید شاہ صاحب کی بات میں زیادہ وزن ہوتا۔پارٹی بدلنے کا علان کرتے وقت صدر آصف زرداری کے خلاف بات کرنااور شاہ محمودقریشی کا اپنے سابقہ باس کو فرعون کہنا تو صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ بیان بھی اسی سیاسی تحریک کا حصہ ہے جو آج کل ملک میں زور شور سے چل رہی ہے۔جی ہاں آج کل ملک میں گوزرداری گوکا موسم ہے۔بظاہرتومسلم لیگ ن اور تحریک انصاف ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھول چکی ہیں مگر دونوں کی تحریک کا نام اور نعرہ ایک ہی ہے یعنی گوزرداری گو۔لیکن عوام کی سمجھ میں یہ جملہ نہیں آرہا کہ گوزرداری گوکہنے کا مطلب کیا ہے۔کیونکہ گو لفظ کا تو کئی جگہ کئی طریقوں سے استعمال ہوتاہے ۔جیسے کے میں ہرروز اپنے بیٹے کو کہتا ہوں گوشاہ زیب گو آپ کی اسکول وین آگئی ہے۔ایسا ہی جملہ ڈاکٹر افضال نے مجھے پچھلے دنوں جب میری بڑی بھابی کو دوران اپریشن اونیگٹیو﴿o_﴾خون کی اشدضرورت تھی تب کہاتھا کہ گوامتیاز گوجلدی سے خون کا نتظام کرو۔اور جس طرح پرویز مشرف نے مارشل لا لگاتے وقت میاں نواز شریف سے کہا کہ اب آپ کے جیل جانے کا وقت آ گیا ہے ۔ گو نوازشریف گو۔ جب سابق صدر پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار چودھری کو ان کے عہدے سے برطرف کیا تب وکلائ تحریک نے یہی جملہ کہا تھا کہ گو مشرف گو اورپھر جب جناب صدر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف نے مل کرپرویز مشرف کو ایوان صدر سے نکالا تب بھی یہی جملہ دہرایا گیا تھااب اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ میاں نوازشریف اور عمران خان صدرآصف علی زردای کو گو کہہ کر اسکول جانے کے لیے گوکہہ رہے ہیں ۔یا ڈاکٹر افضال کی طرح خون کا انتظام کرنے کے لیے گوکہہ رہے ہیں۔یا جیسے پرویزمشرف نے میاں نوازشریف کووزیراعظم کے عہدے سے زبردستی برطرف کرکے انھیںجیل بھیجتے وقت کہا تھا کہ گونوازشریف گو۔یا جس طرح ماضی میںوکلائ نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی ان کے پرعہدے پر بحالی کے مطالبے کے ساتھ پرویزمشرف کو کہا تھا کہ گو مشرف گو۔یا پھر جس طرح موجودہ صدر آصف زاداری اور نوازشریف نے مل کرسابق صدر پرویزمشرف کو صدر کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کر کے اس کو پورے سرکاری عزاز کے ساتھ ایوان صدر سے رخصت کرتے وقت کہاتھا کہ گومشرف گو۔خیر اس جملے کا مطلب کچھ بھی ہوایک بات تو بہت واضع ہوچکی ہے جب سے پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت بنی مخالفین کی تنقید کا نشانہ صرف صدرآصف علی زرداری ہی ہیں۔جب کے وہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے وزیراعظم کے اختیارات واپس بھی کرچکے ہیں اس کے باوجودوزیراعظم جناب یوسف رضاگیلانی کو نہ میاں نوزشریف نے کبھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور نہ ہی عمران خان نے ۔پاکستان کے پہلے مطفقہ وزیراعظم منتخب ہونے والے یوسف رضاگیلانی ماضی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار کو غدار کہہ چکے ہیں اور اب اپوزیشن نے استعفے دے کر ان کی حکومت گرانے بات کی ہے تووزیراعظم یوسف رضاگیلانی کہتے ہیں کہ استعفوں کی باتیں نہیں ہونی چاہیے حکومت بھی اپوزیشن سے زیادہ محب وطن ہیں ۔قارئین اب اس بات کا فیصلہ اپ خود ہی کریں جووطن کے غدار ہیں حکمران بھی انھیں کے طرح محب وطن ہیں ۔اور اس پہ سونے پر سوہاگہ وزیراعظم کہتے ہیں اپوزیشن عوامی مسائل لائے ۔ان مسائل کا حل نکال کر ایوان سے اٹھیں گے ۔ذرہ سوچیے جو اپوزیشن غدار ہو وہ کس طرح ہموطنوں کے مسائل حل کرنے کا سوچیں گے ۔قربان جائوں اپنے وزیراعظم کی سادگی پر ملک میں بجلی نہیں ،گیس نہیں ،امن نہیں،روزگارنہیں،ملک میں مہنگائی اس قدر زیادہ ہوچکی ہے کے لوگ خودخوشیاںکررہے۔غریب کی بیٹی جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر بیٹھی بوڑی جاتی ہیں۔روزڈرون حملوں میں معصوم شہری مارے جاتے ہیں جناب کو چوتھا سال پورا ہونے کو ہے پاکستان کے وزیراعظم بنے اورآج تک ان کو عوامی مسائل کا کوئی پتہ ہی نہیں ہے ۔وزیراعظم فرماتے ہیں کہ جمہوریت کو بچانے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں جانے انھوں نے کس جمہوریت کی بات کی ہے اگر ان کی جمہوریت صرف سیاست دانوں کی گرفت میں حکومت رکھنے والی ہے پھرتو شائد وہ صرف سچ ہی کہہ رہے ہیں ۔ یہاں اگروہ سچ بولتے تو یقین وہ یہ کہتے کہ ہم اپنی کرسی کوبچانے کے لیے کسی بھی حد سے گزر سکتے ہیںکہیں ایسا تو نہیں کے وزیراعظم نے کرسی کا نام ہی جمہوریت رکھ لیا ہے اوروہ سچ ہی بول رہے ہیں ۔ایک طرف توان کا کہنا ہے کہ اب وہ ٹھیک ہونے کو بھی تیار ہیںاور دوسری طرف جن لوگوں کو وہ ماضی میں غدار کہہ چکے ہیں آج انھیں لوگوں کو یقین دلا رہے ہیں کہ وہ خود بھی ان کے جتنے ہی محب وطن ہیں ۔اور اگر پھر بھی جناب وزیراعظم کو واقعہ ہی عوامی مسائل کے حل کوئی دلچسپی ہے تو اپوزیشن سے عوامی مسائل کی نشان دہی کرانے کی کوئی ضرورت نہیں اور ہی ان کو پاکستان کے گلی کوچوں میں جانا پڑے گاحکومت نے چھوٹے ملازمین کی کم از کم سات ہزار روپے ماہانہ مقرر کررکھی ہے۔اسی سات ہزار میں پاکستا ن کی نصف سے زیادہ آبادی کاجینااور مرنا چلتا ہے۔جناب وزیراعظم آپ سات کی بجائے دس ہزارا لے کر بازار جائیں اور تیس دن کی بجائے ] ]>

x

Check Also

غلطی نہیں گہری سازش

سینٹ اورقومی اسمبلی سے منظورہونے والے الیکشن ایکٹ 2017ء کے اندرختم نبوت ...

Connect!