شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / جنت ارضی پہ ابلیس جہاں کا تسلط ، آخر کب تک ؟
loading...
جنت ارضی پہ ابلیس جہاں کا تسلط ، آخر کب تک ؟

جنت ارضی پہ ابلیس جہاں کا تسلط ، آخر کب تک ؟

m h babarخطہء کشمیر جسے اہل جہاں نے فردوس بریں سے تشبیہ دی ہے اب ایک عرصہ سے وادیء گلرنگ سے وادیء خوں رنگ کا منظر پیش کر رہی ہے اس جنت میں اولاد ابلیس ایک مدت سے دندناتی پھرتی ہے ۔ عالمی امن کے داعی ابھی تلک اس مسئلے کا حل نکالنے میں ناکام ہیں کیونکہ یہاں جوان مارے جارہے ہیں تو مسلمانوں کے، عصمتیں تاراج ہو رہی ہیں تو مسلمانوں کیں ،یہاں یہود و ہنود کو اپنا کوئی فائدہ بھی نظر نہیں آرہا بلکہ جنت نظیر اس وادی کا آزاد ہو جانا اقوام مغرب کی کاروباری طور پر تنزلی کا سبب بن سکتا ہے ۔ کیونکہ ماسوائے اس ایشو کے پاک و ہند کا کوئی اتنا بڑا بیر بھی آپس میں کوئی نہیں آج مسئلہ کشمیر حل ہو جائے آج خطے میں امن قائم ہو جائے گا اگر اس خطے میں امن قائم ہو گیا تو امریکہ اور برطانیہ وغیرہ اپنا اسلحہ و بارود کیسے بیچیں گے کیونکہ محض اسی مسئلے کو لیکر تو اقوام مغرب کمائی کر رہی ہیں ورنہ اور تو کوئی خاص مسئلہ نہیں جنگی حالات کے پیدا ہونے کا سبب ۔چھ لاکھ سے زائد فوج نہتے مسلمانوں پر مظالم کے لیئے ہندوستان نے مسلط کر رکھی ہے اس وادی میں اس سے آپ پسر ابلیس کی بزدلی کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں ۔اور اب بھی جو سرحدوں پر بھارتی بھیڑیئے بلا اشتعال بمباری کر رہے ہیں وہ صرف کشمیر کی آزادی کی تحریک سے توجہ ہٹانے کے لیئے ہی ہو رہی ہے یہ کہاں کی بہادری ہے کہ شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جائے اور جب پاک فوج جوابی کارروائی کرے تو پیٹھ دکھا کر بھاگ جائے ۔اب کے برہان وانی کی شہادت کے بعد جو تحریک آزادیء کشمیر نے تقویت پکڑی انشاء اللہ ضرور کسی منطقی انجام تک پہنچے گی المیہ یہ ہے کہ آج تک کسی پاکستانی حکمران نے کشمیر کا مقدمہ بہتر طریقے سے پیش ہی نہیں کیا اگر کیا ہوتا تو کب کا آزدی کا سورج اس وادی میں بھی طلوع ہو چکا ہوتا محض دعائیں کر لینے سے آزادی نہیں ملا کرتی بلکہ عملی طور پر بھی کچھ کرنا پڑتا ہے پر ہوتا کیسے اور کیونکر ہوتا ؟کیونکہ ہمارا ملک تو بیس کروڑ کی آبادی میں سے ایسا کوئی ممبر ہی نہیں چن سکا جو خارجہ امور کی وزارت کو تھامنے کا اہل ہوتا چارو ناچار بیچارے وزیر اعظم ہی کو ذمہ داری بھی نبھانا پڑ رہی ہے دییکھیں جناب اگر کوئی ملتا تو ہم اسے ضرور یہ قلمدان بھی تھما دیتے بیچارے وزیر اعظم اپنی گتھیوں کو سلجھائیں یا مسئلہ کشمیر میں الجھیں ؟ مگر میرے اللہ کے فضل سے عنقریب یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا ۔آپ نے دیکھا ہے کہ آف شور کا شور جب وزیر اعظم موصوف کے گھر تک پہنچا تو کہاں کہاں سے ثبوت ڈھونڈھ کر عدالت میں پیش کر دیئے گئے کبھی قطر کے شہزادے کا خط تو کبھی اور بہت کچھ جتنی دلجمعی سے اپنی عزت کی خاطر دن رات ایک کیئے جا رہے ہیں کاش اتنی ہی دلچسپی لے کر انڈیا کے غاصبانہ قبضہ کے ثبوت اقوام متحدہ اور کے سامنے رکھے جاتے دیگرے یہ کہ بلا تعطل تمام اسلمی ملکوں کو متحد کیا جاتا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے وادیء جنت نظیر کا مسئلہ ہند و پاک مسئلہ نہیں ہے بلکہ کفر و اسلام کا مسئلہ ہے اس مسئلے کے حل کے لیئے یہود و ہنود نہیں بلکہ عالم اسلام کا ایک ہونا ضروری ہے ۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سا وزیر خارجہ برق رفتار دورے کر کے تمام اسلامی ممالک کو اس ایجنڈے پر اکٹھا کرے جو صرف وزیر خارجہ ہو وزیر اعظم نا ہو ۔ وزیر اعظم کو اور بھی امور سلطنت انجام دینے ہوتے ہیں خدا کے لیئے خطہ کے امن کی خاطر سنجیدہ ہو جائیں تو اب کشمیر کا مسئلہ اتنا پچیدہ بھی نہیں رہا جو حل نہ ہو سکے وگرنہ جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے وہ کسی بھی غیرت مند فرزند اسلام کو گوارا نہیں ۔ وادیء کشمیر کے تناظر میں اور ہندو بھیڑیوں کی بر بریت مشتاق شاد کی اس نظم میں خود ہی محسوس کر لیں۔
طوفان کے آنے کی خبر سچی ہے لوگو
دیوار بچاؤ کی بہت کچی ہے لوگو
کل رات جسے نوچ لیا فوج عدو نے
دس بارہ برس کی یہ وہی بچی ہے لوگو

بچپن تھا ابھی اس کو جوانی نہ ملی تھی
سر کے لیئے چنری کوئی دھانی نہ ملی تھی
آنکھوں نے کوئی خواب نہ دیکھا تھا ابھی تک
جذبات کو دریا کی روانی نہ ملی تھی

چھوٹی سی کلی، پھول بنا دی گئی پل میں
بھولی تھی ،مگر بھول بنا دی گئی پل میں
دیتے تھے ستارے جسے کرنوں کی سلامی
وہ چاند جبیں ،دھول بنا دی گئی پل میں

رو رو کے بہت چیخی بھی چلائی بھی ہوگی
بازوں میں گھری فاختہ گھبرائی بھی ہوگی
ابلیس نما چہرے جھکے ہونگے جو اس پر
ہر سمت اسے موت نظر آئی بھی ہو گی

ہر روز ہیں لٹتی ہوئی عصمت کے تماشے
گلیوں میں یہاں ناچتے پھرتے ہیں مہاشے
ہوتا ہے یہاں رقص دریدہ بدنی کا
سڑکوں پہ پڑے رہتے ہیں تقدیس کے لاشے

ہر گاؤں میں،ہر شہر میں،ہر گھر میں لہو ہے
کشمیر کے ہر پھول میں ،پتھر میں لہو ہے
کیا خون ہی بہنا ہے یہاں تابہ قیامت
کیا جھیل کے پانی کے مقدر میں لہو ہے

نرگس نہیں ملتی ، کہیں شہلا نہیں لوگو
ظالم کا مگر دل ابھی بہلا نہیں لوگو
یہ وادیء گلرنگ میں ہے روز کا معمول
کشمیر میں یہ حادثہ پہلا نہیں لوگو

بربادیاں ہر سمت ہیں ،ہر سو ہے تباہی
کشمیر میں صد عیب ہے ناکردہ گناہی
روتی ہے جہاں وادیء گلگشت اکیلی
دشمن کے وہاں ہنستے ہیں چھ لاکھ سپاہی

باطل کی یہ قوت کبھی برباد بھی ہو گی
یہ موج صبا ، قاتل صیاد بھی ہو گی
لے آج تجھے فتح مبیں کی ہے بشارت
اے وادیء کشمیر ، تو آزاد بھی ہو گی
یہ بربریت ،یہ تباہی، یہ جنازوں پہ بھی گولیوں کی بوچھاڑ ،یہ خواتین پر ظلم و جبر کی ایسی انتہا کہ یزید و شمر جیسے ظالموں کی بھی روحیں تک کانپ جائیں یہ مظالم اقوام عالم کی نظروں میں آنے کے باوجود ان کی مجرمانہ خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ انسانیت کا جھوٹا پر چار کرنے والے کبھی بھی مسلمانوں کے غم سے مضطرب نہیں ہوتے بلکہ وہ تو ان مظالم کو دیکھ کر تسکین پاتے ہیں غور طلب بات یہ ہے کہ اگر اقوام عالم اس بات کو انسانیت پر ظلم سمجھتیں تو بھارت کیا اتنا ہی بڑا غنڈہ ہے جس پر تمام سپر پاوریں ہاتھ ڈالنے سے ہچکچا رہی ہیں کہیں وہ اندر کھاتے مسلمانوں پر ظلم کرنے والے ظالم کی ہمنوا تو نہیں ؟ یقینی طور پر وہ ساری اولاد ابلیس ایک ہی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور وہ ایجنڈہ ہے مسلم کشی
تو پھر دیر کس بات کی اگر تمام صیہونی طاقتیں مسلم کشی کے مشترکہ ایجنڈے پر کام کررہی ہیں تو امت مسلمہ کو بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر عالم کفر کے سامنے کھڑا ہونا پڑے گا اور امت مسلمہ کو مکمل تباہی سے بچانا پڑے گا ۔

note

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top