شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پروفیسر رفعت مظہر / جہاں بھی گئے ، داستاں چھوڑ آئے

جہاں بھی گئے ، داستاں چھوڑ آئے

حکومت ختم کرنے کا ایک تو آئینی طریقہ ہے ،جیسے بلوچستان میں وزیرِاعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے ساتھ ہوا۔ اُن کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش ہوئی لیکن اُنہوں نے رائے شماری سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا۔ پاکستان میں حکومتیں ختم کرنے کا ایک اور طریقہ بھی رائج ہے جسے زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ احتجاج، جلاؤ گھیراؤ اور دھرنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر دو ،چار لاشیں بھی مل جائیں تو گویا آپ کی لاٹری نکل آئی۔ جس نے کبھی پارلیمنٹ کا مُنہ تک نہیں دیکھا ہوتا، وہ بھی ہزار ،بارہ سو بندے لے کر دھرنا دینے پہنچ جاتا ہے اور حکومت کو انتہائی شرمناک طریقے سے معاہدہ کرکے جان چھڑانی پڑتی ہے۔
مولانا طاہرالقادری تو دھرنوں کے بادشاہ بلکہ شہنشاہ ہیں۔ اُن کا جب جی چاہتا ہے اپنے دیس (کینیڈا) سے آکر دھرنا دے دیتے ہیں لیکن آتے وہ صرف اُسی وقت ہی ہیں جب حکومت مشکل میں ہو تاکہ بہتر ’’سودے بازی‘‘ کی جا سکے۔ آجکل وہ پاکستان میں تشریف فرما ہیں۔ آصف زرداری نے تو اُنہیں بانس پر چڑھاتے ہوئے موجودہ دور کا نواب زادہ نصراللہ خاں ہی قرار دے دیا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن تو محض ایک بہانہ ہے ،آتے وہ سودے بازی کے لیے ہی ہیں۔ اب وہ 17 جنوری سے تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا ’’اب استعفے مانگیں گے نہیں لیں گے، بات استعفوں سے آگے چلی گئی۔ جہاں کہیں بھی مسلم لیگ نون ہے ،اُس کا خاتمہ ہوگا‘‘۔
اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ مولانا کے ساتھیوں نے بھی بہت کہا کہ سردی شدید ہے، یخ بستہ ہوائیں چل رہی ہیں لیکن جادو وہ جو سَر چڑھ کر بولے۔ لال حویلی والے کا کہا حرفِ آخر ٹھہرااور اب مولانا 17 جنوری سے گرماگرم کنٹینر میں تشریف فرما ہو جائیں گے ۔ مریدین شدید ترین سردی میں ٹھٹھر کر جان دے دیں تو پھر بھی مولانا کا فائدہ کی مزید ’’شہید‘‘ مل جائیں گے اور ’’دَیت‘‘ کی رقم بھی بڑھ جائے گی۔ دروغ بَر گردنِ راوی مولانا یہ بھی کہتے پائے گئے ’’مبارک ہو ،مبارک ہو ! نون لیگ کی ایک صوبائی حکومت ہم نے اپنے کشف وکرامات کے زور پر گھر بھیج دی، باقی ڈنڈے کے زور پر بھیج کر ہم اپنے وطن لوٹ جائیں گے‘‘۔ یوں تو تحریکِ انصاف مولانا کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے لیکن اِس معاملے میں سونامیوں کی رائے یہ ہے کہ بلوچستان کی حکومت کو اُن کی ’’روحانی پیرنی‘‘ نے توڑا اور باقی حکومتوں کا خاتمہ بھی وہی کریں گی۔ گویا کپتان صاحب کی اپنی روحانی رہنماء سے ’’خفیہ شادی‘‘ کا مقصد یہ ٹھہرا کہ وہ روحانیت کے زور پرمسندِ اقتدار تک پہنچنا چاہتے ہیں۔
ہمارے کپتان صاحب بڑے ضدی ہیں۔ وہ جب وہ کسی کام کا ارادہ باندھ لیتے ہیں تواُسے کرکے ہی چھوڑتے ہیں۔ پہلے 92ء کا ورلڈ جیتا جو آج تک قوم کی جان نہیں چھوڑ رہا۔ آجکل سوشل میڈیا پر ایک لطیفہ گردش کر رہا ہے ’’ایک تحقیق کے مطابق دنیا کا سب سے مہنگا شیشے کا مرتبان 1992ء ورلڈکپ ٹرافی کا تھا ۔ اِس کی قیمت ایک قوم آج تک چکا چکا کر تھک بلکہ ’’ہَپھ‘‘ چکی ہے‘‘۔ واقعی دنیا کا کوئی ورلڈ کپ ایسا نہیں ہو گا جس کی قیمت وزارتِ عظمیٰ ہو لیکن کپتان کا دعویٰ ہے کہ چونکہ اُنہوں نے ورلڈ کپ جیتا اِس لیے وزارتِ عظمیٰ بھی اُنہی کی۔ ویسے کپتان میڈیا میں ’’اِن ‘‘ کا فن خوب جانتے ہیں ۔پُراسراریت اُن کے خمیر میں رَچ بَس چکی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ’’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘‘۔ شاید اِسی لیے وہ اپنی ذاتی زندگی میں بھی پُراسراریت لے آئے ہیں۔ شادی کرناہر کسی کا حق ہے ۔ اسلام چار شادیوں تک کی اجازت دیتا ہے ، اِس لیے اگر کپتان یکے بعد دیگرے شادیاں کر تے چلے جا رہے ہیں تو کسی کے پیٹ میں مروڑ نہیں اُٹھنے چاہییں لیکن مئلہ تو وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کپتان ’’پُراسرار‘‘ ہو جاتے ہیں۔ ریحام خاں بنی گالہ میں اُن کا انٹرویو کرنے آئی اور کچھ عرصے بعد خبر آئی کہ کپتان نے اُس سے شادی کر لی۔ جب میڈیا پر یہ خبر گردش کرنے لگی تو نہ صرف سونامیے چیں بچیں ہوئے بلکہ کپتان نے بھی بُرا منایالیکن بالآخر سچ اُگلنا پڑا اور وہ بھی لگ بھگ دو ماہ بعد۔ یہ شادی صرف دَس ماہ تک چلی ۔ ریحام خاں کہتی ہے ’’میں نے عمران خاں سے کہا کہ وہ شادی کی سالگرہ پر مجھے کیا تحفہ دینے والے ہیں ،اُنہوں نے طلاق نامہ بھیج دیا‘‘۔ شاہ زیب خانزادہ کہتے ہیں کہ ریحام خاں کو طلاق دینے کا مشورہ بھی اُن کی روحانی رہنماء نے ہی دیا تھا۔
کپتان نے لگ بھگ تین سال پہلے روحانی شخصیت ’’بشریٰ مانیکا‘‘ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اُس کے بعد وہ روحانی مشوروں کے لیے متواتر بشریٰ بی بی کے پاس جاتے رہے۔ لگ بھگ ڈیڑھ سال پہلے بھی کپتان کا مانیکا فیملی میں شادی کا شور اٹھالیکن پھر یہ معاملہ دَب گیا ۔دراصل کپتان کے ہاتھ میں انگوٹھی دیکھ کر میڈیا کو شک ہوا ۔ بعد میں پتہ چلا کہ اُن کی روحانی رہنماء نے وہ انگوٹھی پہننے کا حکم دیا تھا۔ شنید ہے کہ انگوٹھی پہننے کے بعد کپتان کے معاملات ٹھیک ہوتے چلے گئے اور اُن کا بشریٰ مانیکا پر اعتماد پختہ۔ پھر اچانک عمر چیمہ نے یہ خبر بریک کرکے دھماکا کر دیا کہ کپتان نے یکم جنوری کو بشریٰ مانیکا سے شادی کر لی۔ کپتان تو خاموش رہے لیکن اکابرینِ تحریکِ انصاف نے کہا کہ یہ خبر جھوٹی ،لغو اور بے بنیاد ہے۔ دوسرے دِن تحریکِ انصاف نے یہ بیان جاری کیا کہ بشریٰ بی بی سے شادی تو نہیں ہوئی البتہ پرپوزل بھیجی گئی ہے۔ تیسرے دِن کپتان نے بھیخاموشی توڑ دی اور کہا ’’شادی کی خواہش کرکے ایسا لگتا ہے جیسے میں نے کوئی بہت بڑا جرم کیا ہو۔ ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے بینک ڈکیتی کی ،قوم کے اربوں روپے بیرونِ ملک منتقل کیے یا ملک کے خفیہ راز بھارت کو دیئے۔ ایسی خبروں سے کوئی پریشانی نہیں‘‘۔ عمران خاں نے جو کچھ کہا ،وہ بالکل بجا لیکن اُنہیں یہ ادراک واحساس ہونا چاہیے تھا کہ ایک بڑے رہنماء کی ذاتی زندگی بھی ذاتی نہیں رہتی۔ یورپ اور امریکہ میں ایسی شادیاں بڑے دھوم دھڑکے سے ہوتی ہیں ۔ اگر وہ پہلے ہی اعلان کر دیتے تو نشانۂ تضحیک وتنقید سے بچ رہتے۔ اب جتنے مُنہ ،اُتنی باتیں۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ روحانیت والی جگہ پر عمران خاں کا عشق لڑانا مناسب نہیں تھا۔ شاہی سید نے کہا کہ شادی عمران خاں کا حق ہے لیکن روحانی شخصیت پر ایسی نظر رکھنا بہتر نہیں۔ رانا ثناء اللہ بولے کہ عمران خاں دعا لینے گئے تھے ،آنکھیں نیچی کرکے بیٹھتے، ذرا دیکھیں کیسا صادق وامین ہے جو وزیرِاعظم بننا چاہتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے عاجز دھامرہ دور کی کوڑی لائے ’’شادی کرنا عمران کا شرعی حق لیکن اِسے چھپا کر وہ صادق وامین نہیں رہے‘‘۔ عابد شیر علی نے کہا ’’یہ اللہ کے کام ہیں، کسی کو تین بار وزیرِاعظم بنا دیا اور کسی کو تین بار دُلہا‘‘۔ اِس کے علاوہ بھی جس کے مُنہ میں جو آتا ہے ،کہے چلاجاتا ہے۔ اگر خاں صاحب اپنے بہی خواہوں کواعتماد میں لے لیتے تو کم از کم یہ نوبت تو نہ آتی۔

error: Content is Protected!!