شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / جھو ٹ
loading...
جھو ٹ

جھو ٹ

sohail warsiچھو ٹے بڑے ہو تے ہیں ، معا شر ے ایسے پڑوان چڑھتے ہیں ، خرابیاں بہت ، کیا ایسے چلے گا یا کبھی اقبال کی یہ بات سمجھیں گے ،،،
خو د کو خودی میں جھا نک کہ دیکھ تجھے میں رکھا کیا ہے
خر ابیاں بہت ،انہی سے مسا ئل بنتے ہیں ، معا شر ے میں تبا ہی ایک دم نہیں آ تی اور بہتر ی کے لیے بھی اچھے بیج بو ئے جا تے ہیں ، بہت سنا خا می چھو ٹی سے چھو ٹی ہو اس کو نظر اندا ز نہیں کیا جا سکتا ، مگر ہم کبھی کبھا ر نظرانداز تو کیا خو د ایسی غلطیوں کے مر تکب ہو رہے ہو تے ہیں ، اس خو ش فہمی میں ، یا غلط فہمی میں ، کہ وقتی تو نقصان سے بچ گے ، آ گے کی خیر ، یا دیکھ لیں گے ، جھو ٹ ، بڑی خرا بی ، چھو ٹی مو ٹی با توں سے لے کر نیشنل لیو ل سے انٹر نیشنل لیو ل تک بھی بو لتے ہیں ، جھو ٹ کی عا د ت کیسے بنتی اور آ گے بڑ ھتی جا تی ہے ، جھو ٹ بو لنے کی وجو ہات تو بہت سی ہیں ،سزا ء ملنے کا ڈر ، یا حقیقت بتا دیں گے تو کو ئی قبو ل نہیں کر ئے گا ،عزت ، نام ، لیول میں فر ق پڑ نے کا خد شہ ہو تا ہے ، جھو ٹ بو لنا �آ سان ہے ،وقتی طو ر پر ، اور وقتی فا ئد ہ بھی مل رہا ہو تا ہے ،لیکن پھر اس کو سا تھ لے کے چلنا مشکل ہو تا ہے ، اس طر ح کی مثا لیں ہمیں ملتی رہتی ہیں ، آ ج کل ایسی ہی مثا لیں مل رہی ہیں سیاست میں ہی دیکھ لیں جن کو ہم رول ما ڈل سمجھتے ہیں ، جھو ٹ اس لیے بھی بو لا جا تا ہے کہ میر ے اندر یہ خو بیا ں بھی ہیں ، جو ہو تی تو نہیں ہیں پھر ان کو ثا بت کر نے کے لیے جتن کیے جا تے ہیں ، کیسے جتنا ہم عوام بہتر سے جا نتے ہیں ، جو خو بیا ں نہیں بھی ہو تیں ان کو بھی اپنے اندر شامل کیا جا تا ہے ، دوسر وں کو پیغام دیا جا تا ، یہ بھی ایک طر یقہ جھو ٹ بو لنے کا ، کو ئی ایو نٹ نہ بھی دیکھا گیا ہو تب بھی اپنا دبا ؤ بڑ ھا نے کے لیے سہا را لیا جا تا ہے ، بز نس میں جھو ٹ تو روایت یا خا ص خو بی کے طو ر پر استعمال کیا جا تا ہے ، بز نس میں کو الٹی نہیں دے رہے لیکن بتا یا جا رہا ہو تا ہے ، گھروں میں بھی وہ کو الٹی نہیں دی جا رہی ہو تی جیسے بڑے گھر پر ہو تے ہیں تو کہا جا تا کہ بتا دینا گھر پر مو جو د نہیں ہیں ، گھر میں ، سکو ل میں ، کالج ، یو نی ورسٹی ، کسی آ فس ، تنظیم میں ، جب کسی با ت کو آ سا نی سے قبول نہیں کیا جا تا تب خرا بی بنتی جا تی ہے، اس سے نجا ت کیسے ممکن ، کہ خرا بی اور زیا دہ نہ بنے ، نر م رویہ ، یہ درس تو ہما را مذ ہب بھی دیتا ہے ، ایک سبق ، خو د سے سچ بو لنا شروع کر دیا جا ئے ، یہ بڑ ا کا م ہو جا ئے گا ، پھر بطو ر قوم ہمارا ایک مقام بن جا ئے گا ،ابھی ہما رے بڑ ے خیال یہی کہ جھو ٹ کی بنیا د پر سب کیا جا رہا ، یہ ایک کڑواسچ مگر انکا ر ممکن نہیں ہے ، جب سچ بو لیں گے تو بہت تبد یلی رو نما ہو نی ہے ، دنیا میں ہما را مقام بنے گا ،مگر یہ ممکن کیسے ، نجا ت کیسے پا سکتے ہیں ، ایک دوسرے کو دیکھ کر ، تو پیغا م ہمیں یہی ملتا ہے کہ وہ اس راستے پر تو ہم بھی اسی پر چلتے ہیں ، وقتی فا ئد ے کو مد نظر رکھتے ہیں ۔
تر بیت کی بات تو نسلیں جو کر تی ہیں وہ ہما رے بیج بو ئے ہو تے ہیں ، تر بیت میں صرف ماں کی گو د ، سکول ، کا لج ، یو نی ورسٹی نہیں بلکے وہ لو گ ، وہ رول ما ڈل بھی ہو تے ہیں جن سے ہم ،ہما ری بچے ، ہما ری نسل متا ثر ہو تی ہے، یہاں سوال ، جو رول ما ڈل ، ہیرو ، کیا وہ یہ سو چ رکھتے ہیں کہ ان کا طر ز زند گی ہما ری نسل کے لیے تر بیت کے دے رہا ، رول ما ڈل کا مطلب یہاں یہ بھی لیا جا ئے ، جو ملک کی بھا گ دوڑ سنبھا لتے ہیں ، کیو ں ملک کی بھا گ دوڑ بڑے لیول پر جو سنبھا لتے ہیں ان کے با رے ہمارا ابھی تک خیال یہی ہے کہ وہ اپنی قا بلیت کے بل بو تے پر اس مقام تک آ تے ہیں ، گو کہ ہما رے ہاں اس فلسفہ کو کسی حد تک بدل کر رکھ دیا گیا ہے ، مگر دنیا کے فلسفے کے مطا بق جو ملک کی بھاگ دوڑ انٹر نیشنل لیول پر سنبھا لتے ہیں وہ بہت قا بلیت والے ، ذہین ،اور اکسٹرا خو بیوں کے ما لک ہو تے ہیں ، اس لیے نئی نسل ان سے متا ثر ہو تی ہے ، جب ،ملک کا کو ئی بڑا سیا سی رہنما ء کو ئی بڑا سرکا ری آ فیسر ، بڑا پروفیسر ، بڑا وکیل ، بڑا خد مت گا ر جھو ٹ بو لے گا ،صر ف بو لے گا نہیں بلکے اس کو سچ ثا بت کر نے کے لیے بہت سے جتن کر ئے گا ، وہ جتن شروع کہاں سے ہو تے ہیں ، رشو ت سے ، کر پشن عر وج پر جا تی ہے ، حق ما را جا تا ہے ، خرا بی بڑ تی جا تی ہے ، آ ج کل ہما را ملک بہت سے مسا ئل کا شکا ر ہے ، جس کا رونا عام عوام سے لے کر تما فکرمند طبقہ رو رہا ہے ،
یک عجیب سو چ ، جب کسی کی کسی کے جھو ٹ پر نظر پڑ جا تی ہے تو اس کو ثا بت کر نے کے لیے کو ئی لا ئحہ عمل تر تیب دے جاتا ہے تو دو سری جا نب سے دفا ع میں اس کا کو ئی جھو ٹ با ہر لے آ تے ہیں تا کہ حسا ب برا بر ہو ، اور ہما ر لیول نیچے نہ �آ سکے ، غلطی ماننے کی رو ایت پڑھی نہیں ہے ، کیو نکہ یہ بہتر سے جا نتے ہیں کہ عوام کچھ وقت کے بعد بھو ل جا ئے گئی تو ذا تی انا کو بر قرار رکھنا چا ہیے ، تا ریخ میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں ، یہاں ایک اور خامی جب کو ئی بڑ ی طا قت والا اپنے جھو ٹ کے دفا ع کا سو چتا ہے تو اس کی مد د کے لیے ذا تی مفا د والے بہت تیا ر ملتے ہیں جو اس کے لیے زیا دہ آ سا نیا ں پیدا کر تے ہیں ،
جو اچھا ئی کا رونا روتے ہیں ، وہ ٹھیک بھی روتے ہو ں گے ، وہ چاہتے ہیں ، ہما را معا شرہ تر قی کر ئے ،با قی دنیا میں ہم ذلیل خوار نہ ہو ں ، ہما ر ا عزت کے ساتھ ایک اچھا مقام ہو ، تو ان کے لیے کہا گیا ہے کہ جو بات دوسرں میں بر ی سمجھتے ہیں اس کو اپنے اندر سے بھی ختم کر دینا چا ہے ، آ ج کل جو سیا ست کی جا رہی ہے ، اس میں کا میا بی سے نا کا می کی طر ف آ نے کو تیا ر نہیں اور اتنا ظر ف نہیں رکھتے کہ سچ بول کر جھو ٹ کو لا ت مار کر سچا ئی کے را ستے پر چلیں بے شک وہ نام شہر ت با قی نہ رہے ، مگر وہ امر ہو جا ئیں گے ، قدرت نے جتنی شہر ت ان کے حصے میں لکھی ہے وہ مل کے رہے گی ، رزق ، ما ل دولت کے لیے جو کچھ کیا جا تا ہے کہ اس ذا ت پا ک پر سے یقین اٹھ گیا ہے جو اپنے سیا سی کیر ئیر کے بڑ ے کی تعر یف سنے کے لیے کیا کچھ بول جا تے ہیں بلکے یہاں تک کہ بد تمیزی ، گر بیاں چاک ہو تے ہیں آ ج کل ٹاک شا ک میں ، کیا ہما ری قوم کا یہی نصیب ،
چھو ٹے بڑے ہو تے ہیں ، معا شر ے ایسے پڑوان چڑھتے ہیں ، خرابیاں بہت ، کیا ایسے چلے گا یا کبھی اقبال کی یہ بات سمجھیں گے ،،،
خو د کو خودی میں جھا نک کہ دیکھ تجھے میں رکھا کیا ہے

note

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top