شہ سرخیاں
Home / پاکستان / جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے امیر پروفیسرحافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ آزادی کیلئے جہاد اور مذاکرات دونوں وقت کی ضرورت ہے

جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے امیر پروفیسرحافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ آزادی کیلئے جہاد اور مذاکرات دونوں وقت کی ضرورت ہے

کراچی (نامہ نگار )جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے امیر پروفیسرحافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ آزادی کیلئے جہاد اور مذاکرات دونوں وقت کی ضرورت ہے، بھارت کو راہ راست پر لانے کیلئے جہاد ضروری ہے، بھارت کو پسندیدہ تجارتی ملک قرار دینا پاکستان پر حملے کے مترادف ہے، امریکہ، اسرائیل، بھارت اور نیٹو کی وجہ سے ملکی سالمیت دائو پر لگی ہے، پوری قوم دفاع پاکستان کے حوالے سے متحد ہوجائے، ملک سلامت رہے گا تو پھر سیاست بھی ہوگی اور دیگر امور بھی طے پائیں گے، دفاع پاکستان کونسل کے قیام کا بنیادی مقصد ملکی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے، لاہور کے تاریخی اور کامیاب جلسے کے بعد 12 فروری کو کراچی میں بھی اپنی قوت کا مظاہرہ کریں گے، متحدہ قومی موومنٹ سمیت تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو دعوت دی جائے گی، دفاع پاکستان کونسل کا انتخابی سیاست سے کوئی تعلق نہیں، ہمارا مقصد صرف ملک کا دفاع ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو کراچی پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعۃ الدعوۃ کراچی کے امیر انجینئر نوید قمر اور جماعۃ الدعوۃ کے صوبائی رہنما شاہد محمود بھی موجود تھے۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ اس وقت ملک انتہائی شدید خطرات سے گزر رہا ہے، نائن الیون کے بعد ملک میں جو صورتحال پیدا ہوئی، اس کے نتیجے کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں، امریکہ اور نیٹو نے افغانستان پر غاصبانہ قبضہ کیا، بدقسمتی سے پاکستان اس نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اتحادی بنا اور اس کی وجہ سے ہماری فضائ، زمین،سمندر اور دیگر وسائل استعمال ہوئے۔ پاکستان کو یہ دوستی بہت مہنگی پڑی۔ ہم نے تو روز اول سے کہا تھا کہ یہ ہمارے اسلامی اور دو قومی نظریہ و ملکی مفادات کے خلاف ہے۔ مگر اس وقت کے حکمرانوں نے حالات اور مستقبل کے نتائج سے بے پرواہ ہو کر وقتی مفادات کی خاطر اس اتحاد کو جاری رکھا۔ اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ملک میں جمہوری حکومت آئی مگر اس نے بھی پالیسی کو نہیں بدلا، بلکہ عوامی خواہشات کے الٹ نہ صرف اس پالیسی کو جاری رکھا بلکہ ان کے دور میں نقصانات زیادہ ہوئے۔ ڈرون اور خودکش حملوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک منصوبہ بندی کے تحت ہورہا ہے۔ امریکہ ڈرون حملے خودکش حملوں کو بڑھانے کیلئے کرتا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا اصل مقصد پاکستان پر اپنے ایجنڈے کو مسلط کرنا اور پاکستانی ایٹمی صلاحیت پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ امریکہ اور بھارت ہمارے نظریاتی دشمن ہیں اور یہ پاکستان کو ہمیشہ جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کا نتیجہ خودکش حملوں کی صورت میں سامنے آتا ہے لیکن دونوں صورتوں میں معصوم پاکستانی نشانہ بنتے ہیں۔ جس طرح سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملہ دہشت گردی اور ملکی سلامتی پر حملہ ہے، اسی طرح ڈرون حملے اور قبائل پر حملے بھی ملکی سلامتی پر حملے ہیں۔ نیٹو سپلائی کی بندش ایک مثبت عمل ہے۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ امریکہ، نیٹو اور بھارت کا اصل ہدف پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے اور وہ قدم بقدم خطرناک پیش رفت کررہے ہیں۔ دفاع پاکستان کونسل یک نکاتی ایجنڈے پر قائم کی گئی ہے جس کا مقصد وطن عزیز کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں جنگ چاہتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اس نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے فوری طور پر الگ ہوجائے۔ اسی میں ہمارے ملک کی بقائ ہے۔ امیر جماعۃ الدعوۃ نے کہا کہ حالات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض عناصر قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کی آڑ میں نیٹو سپلائی بحال کرنے کی کوشیش کر رہے ہیں، اگر ایسا ہوا تو انتہائی غلط فیصلہ ہوگا۔ اس سے ملک مزید مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل کے ایجنڈے میں امریکہ اور بھارت کی اسلام اور پاکستان دشمن منصوبوں اور پروپیگنڈوں کو مدنظر رکھ کر عوام کو متحد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہمارے اتحاد کا انتخابات یا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ صرف ملکی سلامتی اور بقائ کیلئے ہے۔ اس اتحاد میں مختلف مذہبی وسیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ مزید سیاسی ومذہبی جماعتوں کو دعوت دینے کیلئے کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو متحدہ قومی موومنٹ سمیت تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں سے رابطے کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ملکی سلامتی کا ہے۔ اگر ملک کی سرحدیں محفوظ ہوں گی تو پھر سیاست بھی ہوگی، الیکشن بھی ہونگے اور حکومت بھی ہوگی۔ حافظ محمد سعید نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم عوامی دبائو کے ذریعے پاکستانی پالیسی کو اصل مقصد کی طرف گامزن کرانا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے تمام جماعتوں سے رابطے میں ہیں اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ حکومت ملکی دفاع میں اپنا فرض بھرپور طریقے سے ادا نہیں کر رہی ہے۔ یہ وقت تمام سیاسی، مذہبی جماعتوں اور حکومتی اداروں کو متحد ہو کر ملکی سلامتی پر غور کرنے کا ہے۔ بدقسمتی سے ان حالات میں حکومتی کردار مشکوک ہے۔ ایک سوال کے جواب میں جماعۃ الدعوۃ کے امیر نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ایران کے پڑوسی ممالک ہیں۔ ایران کو ان حالات میں اپنے پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ جماعۃ الدعوۃ کے امیر نے کہا کہ بھارت کو پسندیدہ تجارتی ملک قرار دینا دراصل پاکستان پر حملے سے کم نہیں۔ اس عمل سے بھارت کو فائدہ ملے گا اور پاکستان نقصان میں رہے گا۔ اگر اعداد و

شمار کو مدنظر رکھا جائے تو ساری صورتحال سامنے آجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ معاملات حل ہوں، بات چیت بھی ہو لیکن اس طرح کے کسی بھی عمل سے پہلے تنازعہ کشمیر، پانی کے مسائل اور دیگر تنازعات کو حل ہونا ضروری ہے۔ اگر یہ تنازعات حل ہوں تو پھر تجارت پر بھی بات ہوسکتی ہے۔ پاک بھارت پانی کے تنازعات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر حافظ محمد سعید نے کہا کہ انڈس واٹر کمیشن کے جماعت علی شاہ کے حوالے سے ہم نے روز اول سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا مگر اس وقت کسی نے اس کا نوٹس نہیں لیا۔ اب حقیقت قوم کے سامنے آچکی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس شخص کو واپس بلایا جائے او رسخت سے سخت سزا دی جائے اور اس کے دور میں پانی کے تنازعات کے حوالے سے بھارت کے ساتھ ہونے والے تمام معاملات کو ختم کردیا جائے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے جذبہ حریت اور جدوجہد کے حوالے سے بھارت کے سیاستدان اور ان کا میڈیا منفی پروپیگنڈہ کررہا ہے۔ کشمیریوں کا پاکستان سے تعلق آج بھی پہلے کی طرح قائم ودائم ہے۔ ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ سری نگر کے لال چوک پر ہزاروں افراد کے اجتماعات میں سید علی گیلانی اور دیگر رہنما ئوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کا تعلق پاکستان کے ساتھ ہے لیکن بھارت کا میڈیا اپنے جھوٹ کے ذریعے حقیقت کو چھپانا چاہتا ہے۔ ان حالات میں محب وطن پاکستانی میڈیا کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ڈرون حملے بند ہوئے جس کے بعد خودکش حملوں میں بھی کمی آئی لیکن جیسے ہی یہ حملے شروع ہوئے، خودکش حملوں کا بھی آغاز ہوا۔ دراصل یہ ایک ردعمل ہے اور ہمیں حقیقت کی نظر سے دیکھنا چاہئے۔ ہزاروں قبائل امریکی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ دوسری طرف عالمی اور مقامی میڈیا واضح طور پر کہتا ہے کہ ان حملوں میں پاکستانی حکومت کی مرضی ومنشائ شامل ہے جس کی وجہ سے لوگ مایوس ہوجاتے ہیں اور کسی بھی ردعمل کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی کیلئے ڈرون اور خودکش حملے دونوں کا بند ہونا ضروری ہے۔ ہمیں موجودہ حالات میں قبائلیوں کی آواز سننا ہوگی۔ حکومت کی پالیسیوں میں فوجی عمل دخل کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں حافظ محمد سعید نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ پالیسیاں صرف فوج بناتی ہے۔ یقینا حکومتی عمل دخل ہی ہوتا ہے تاہم تمام اداروں کو اپنی حدود وقیود میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔ جنگ صرف فوج نہیں لڑسکتی، عوام، حکومت اور فوج مل کر جنگ لڑتی ہیں اور وہ قومیں پھر کامیاب ہوتی ہیں۔ ہر ایک کو اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کی غلط پالیسیوں کی ہم روز اول سے مخالفت کرتے رہے جس کی پاداش میں ہمیں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ جماعۃ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید نے طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ اب تو امریکہ طالبان سے بھی مذاکرات کررہا ہے اور ملا عمر کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکال کر پرامن قرار دے رہا ہے۔ ملا عمر آج بھی اسی پالیسی پر گامزن ہے جس پر 2001ئ میں تھے۔ وہ نہیں بدلے، بلکہ امریکہ بدلا ہے۔ امریکہ کے اس تبدیل شدہ رویے کا یہ مقصد ہے کہ اس نے اپنی شکست اور جارحیت تسلیم کرلی ہے۔ امریکہ اور اتحادیوں نے جارحانہ طریقے سے طالبان کی جائز حکومت کا خاتمہ کیا۔ طالبان سے مذاکرات کرکے اب وہ اپنی غلطی کو تسلیم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی چاہئے کہ وہ کھلے دل سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے معاملات اور بات چیت اس حد تک بھی نہیں ہے جتنا مغربی میڈیا بیان کررہا ہے۔ دراصل وہ اس طرح کے پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی رسوائی کو چھپانے اور حقیقت کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈہ عدالت میں غلط ثابت ہوچکا ہے، ہم نے عدالتوں میں اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کیا ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سالمیت اور دفاع میں بلوچستان کا اہم کردار ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ چند سالوں کے دوران ہماری غلط پالیسیوں سے بھارت، اسرائیل، امریکہ اور دیگر پاکستان دشمن قوتوں نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل بلوچستان کے مسئلے پر انتہائی اہم توجہ دے رہی ہے۔ اس حوالے سے مختلف جماعتوں اور رہنمائوں سے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

x

Check Also

لاہور:اسپتال میں جگہ نہ ملنے پررکشے میں بچے کا جنم

لاہور(مانیٹرنگ سیل) پنجاب میں ایک اور ماں نے اسپتال کے باہر رکشے ...

Connect!