شہ سرخیاں
Home / فن فنکار / آغا حشر کی’نیک پروین‘ کراچی میں

آغا حشر کی’نیک پروین‘ کراچی میں

آغا حشر کا ’نیک پروین‘ ایک سو انتیس سال پہلے لکھے جانے والے ہنری آرتھر جونز اور ہنری ہرمن کے ڈرامے ’سلور کنگ‘ سے ماخوذ ہے۔ انہوں نے یہ ڈرامہ اب سے ایک سو ایک سال پہلے حیدرآباد دکن میں لکھا اور وہیں اسے پہلی بار کیا بھی گیا۔

اصل اور ماخوذ ڈرامے میں ایک اور مشترک بات یہ ہے کہ جونز اور حشر کو ڈرامے سے اتنی غیر معمولی آمدنی ہوئی کہ جونز مستقل ڈرامہ نگار بن گئے جب کہ حشر نے اپنی ’نیو انڈین شکسپیئر کمپنی‘ پھر سے کھڑی کر لی۔

حشر کے اس ڈرامے کو پہلے دس سال کے دوران ہندوستان کے مختلف حصوں میں ’سلور کنگ‘، ’ناعاقبت اندیش‘، ’اچھوتا ڈراما‘، ’پاک دامن‘ اور ’نیک پروین‘ کے ناموں سے کیا گیا اور جہاں بھی کیا گیا اسے کامیابی ہی حاصل ہوئی۔

ہندوستان میں تب اور اس کے بعد بھی اِسے کہاں کہاں، کب کب اور کس کس نے سٹیج کیا اور اس میں کس کس نے کام کیا اس کی ایک لمبی تاریخ ہے لیکن اب اسے ضیا محی الدین کی ہدایات میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس، ناپا کے تھیٹر کے لیے مخصوص شعبے نے ’ناپا ریپرٹوری تھیٹر‘ نے کیا ہے۔

نیک پروین کے نام سے کیے جانے والے موجودہ ڈرامے کے لیے ریپرٹوری کی اصطلاح بہت موزوں ہے کیونکہ یہ واقعی لگا بندھا تماشا تھا۔

اردو زبان کے بارے میں بہت تھوڑا جاننے والوں کے لیے بھی آغا حشر کا نام غیر مانوس نہیں ہو سکتا اور پھر ضیا محی الدین بھی صرف برصغیر میں ہی نہیں باہر بھی جانے پہچانے جاتے ہیں اور جب یہ دونوں نام ایک جگہ ہوں تو تجسس اور توقعات کا بہت بڑھنا قطعاً فطری ہے۔

لیکن میری ناقص رائے میں ضیا نے اس میں کسی اختراع سے کام نہیں لیا۔ شاید ان کی منشا اداکاروں اور دیکھنے والوں کو سو سال پہلے ہونے والے ڈرامے کے انداز اور شکل دونوں سے متعارف کرانا ہے۔اگر کوشش یہ تھی تو وہ اس میں کامیاب رہے ہیں۔

ڈرامے کی کہانی افضل، منیر اور اسد نام کے تین ایسے دوستوں کے گرد گھومتی ہے جو نیک پروین نامی لڑکی کے عاشق ہیں۔ پروین ان میں سے افضل کا انتخاب کرتی ہے لیکن شادی اور ایک بیٹی کے بعد افضل جوئے اور شراب کا عادی ہو جاتا ہے اور ایک روز جب وہ منیر کو پروین سے بات کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اسے پروین اور منیر کے بارے میں شک پیدا ہوتا ہے۔ منیر کی حد تک بات درست بھی ہوتی ہے لیکن پروین انتہائی وفا شعار ہے۔ منیر کو گھر سے نکالنے کے لیے افضل اس پر پستول تان لیتا ہے اور کچھ دیر بعد خود بھی اس کے پیچھے نکل پڑتا ہے۔

منیر جب اپنے گھر پہنچتا ہے تو وہاں اپنے پولیس افسر دوست اسد کو دو ساتھیوں کے ساتھ موجود پاتا ہے۔ اسد اور منیر کے درمیان پروین کے معاملے پر تلخ کلامی ہوتی ہے اور اسی دوران غیر ارادی طور پر گولی چلنے سے منیر کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اسد اور اس کے ساتھی حادثاتی قتل سے نمٹنے کا سوچ ہی رہے ہوتے ہیں کہ انہیں افضل، منیر کے گھر کی طرف آتا دکھائی دیتا ہے۔ اسد، افضل کو منیر کے قتل میں ملوث کرنے کا ایسا منصوبہ بناتا ہے کہ خود افضل کو بھی اس بات یقین آ جاتا ہے کہ منیر کو اسی نے قتل کیا ہے، اسی بنا پر وہ اپنی بیوی اور بچی کو وفادار ملازم تحسین پر چھوڑ کر جنوبی افریقہ فرار ہو جاتا ہے۔

نیک پروین کراچیڈرامے میں منیر کے گھر کا منظر جس میں نبو کے ہاتھوں غیر ارادی طور پر چلنے والے گولی سے منیر کی موت واقع ہو جاتی ہے

اس کے جانے کے بعد اسد پوری کوشش کرتا ہے کہ پروین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنائے لیکن اسے کامیابی حاصل نہیں ہوتی، یہاں تک کہ تین سال گزر جاتے ہیں اور افضل کروڑوں روپے کما کر لوٹ آتاہے لیکن گرفتاری کے خوف سے ایک بھکاری کے روپ میں رہتا ہے۔ ساری ناکامیوں کے بعد اسد پروین اور اس کی بیٹی کے اغوا کا منصوبہ بناتا ہے تا کہ پروین کی عزت لوٹ سکے۔

اغوا کے اس منصوبے کی گفتگو کا کچھ حصہ افضل سن لیتا ہے جب اسد کی نظر افضل پر پڑتی ہے تو افضل گونگا بہرا بن جاتا ہے اور اسے اس مکان پر ملازم بنا کر لے جاتا ہے جہاں وہ پروین کو لے جانے والا ہے۔ پروین کے اغوا کے بعد اسد کا دوست نبو اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔ جب افضل کو اس کی ناراضی کا علم ہوتا ہے تو وہ اس پر اپنی اصلیت ظاہر کر دیتا ہے اور نبو بھی اسے منیر کے قتل کی حقیقت بتا دیتا ہے۔

اس طرح اسد اور نبو قتل میں گرفتار ہوتے ہیں اور افضل ایک نئی حیثیت سے اپنی بیوی بچی کے ساتھ لوٹ آتا ہے۔

اس ڈرامے میں نذرالحسن نے افضل، ایمن طارق نے پروین، اویس منگل والا نے منیر، پارس مسرور نے اسد، سنیل شنکر نے نبو، علی رضوی نے ابو، اکبر الاسلام نے افضل کے وفا دار ملازم، تحسین اور مسکان فاطمہ نے افصل کی کم سن بیٹی بانو کے کردار ادا کیے ہیں۔

تمام ہی اداکاروں کی اداکاری ہال میں موجود ناظرین کو انتہائی پسند آئی اور انہوں نے خوب داد دی۔

جونز کے اصل ڈرامے کی طرح حشر کا ڈرامہ بھی میلو ڈرامہ ہے اور اس میں بھی المناک واقعات کے دوران مزاحیہ منطق، جملے اور کردار موجود ہیں جو تماشائیوں پر دکھ کو بوجھل پن سے نکالتے رہتے ہیں لیکن ان کے جملوں میں نہ تو گھٹیا ذو معنویت ہے اور نہ ہی پھکڑ پن۔ یہاں تک کہ دھول دھپا بھی نہیں ہے۔

مجھے نہیں پتا کہ آغا حشر کے اصل ڈرامے میں یہ اہتمام اسی طرح ہے یا یہ اضافہ ضیا محی الدین کا کرشمہ ہے۔

میں یہ بھی نہیں سمجھ سکا کہ ڈرامے میں ناکارہ وکیل مرزا چونگا (اطہر عباس)، اس کی بیوی زلفن (فائزہ حسن) اور ملازم زیٹک (میثم نقوی) کے کردار کیوں ہیں۔ اگرچہ ان کرداروں کو نبھانے میں تینوں ادا کاروں نے کوئی کمی نہیں چھوڑی۔

ڈرامے کے آخری منظر میں جب نیک پروین (ایمن طارق) اپنے شوہر افضل (نذرالحسن) کو زندہ دیکھتی ہے تو بے ہوش ہو جاتی ہے۔

ڈرامے نے تمام وقت تماشائیوں کو اس طرح پکڑے رکھا کہ انہیں سیٹ کی تبدیلیوں میں لگنے والا وقت بھی ناگوار نہیں ہوا۔

اس ڈرامے کی ایک اور اہم بات اس کی اثر انگیز موسیقی ہے جو ارشد محمود اور نفیس احمد خان نے ترتیب دی ہے۔ سٹیج، لائٹنگ، میک اپ، روشنی اور ملبوسات کے اعتبار سے بھی ڈرامے میں کوئی کمزوری نہیں تھی۔

یقینی طور پر یہ ڈرامہ عام تماشائیوں کو ایک سے زائد بار دیکھنے پر آمادہ کر سکتا ہے لیکن تھیٹر کرنے والے نئے لوگوں کو تو یہ ڈرامہ ضرور ایک سے زائد بار دیکھنا ہی چاہیے۔

ہدایات اور پیشکش کے حوالے سے جو اور سوال اٹھائے جا سکتے ہیں وہ حشر کے سکرپٹ اور موجودہ سکرپٹ کے موازنے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں اس لیے انہیں ضیا محی الدین سے کسی انٹرویو تک موقوف کرنا ہی مناسب ہے۔

x

Check Also

فیملی کورٹ نے اداکارہ نور اور شوہر ولی حامد کو صلح کیلئے آخری موقع دے دیا

فیملی کورٹ نے اداکارہ نور کے خلع کے دعوے پر میاں بیوی ...

مزاحیہ اداکار افتخار قیصر کی حالت تشویشناک ہوگئی

پشاور (نمائندہ شوبز) پشتو ہندکو اور اُردو کے مشہور مزاحیہ اداکار افتخار ...

شادی سے کیریئر متاثر ہونے کاخدشہ ہوتا ہے ،اس سے دور رہنا چاہتی ہوں، کترینہ کیف

ممبئی(نمائندہ شوبز) بالی ووڈ کی دلکش اداکارہ کترینہ کیف نے کہا ہے ...

نصرت فتح علی خان کی 20ویں برسی آج منائی جارہی ہے

لاہور(نمائندہ شوبز) قوالی کی نئی پہچان اور گلوکاری کے چمکتے دمکتے آفتاب ...

اداکارہ ایمان شاہ جوڈیشل ریمانڈ‌ پر جیل روانہ

ملتان(مانیٹرنگ سیل) اسٹیج اداکارہ ایمان شاہ کی گاڑی سے ٹکرا کر ایک ...