شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / خیبرپختونخواکاسیاسی مستقبل اورامیرمقام کی اونچی اڑان
loading...
خیبرپختونخواکاسیاسی مستقبل اورامیرمقام کی اونچی اڑان

خیبرپختونخواکاسیاسی مستقبل اورامیرمقام کی اونچی اڑان

zafarپانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے نوازشریف وزارت عظمیٰ کے منصب سے استعفیٰ دیں یااپنے آپ کواحتساب کے لئے پیش کریں جیسے مطالبات لے کر دونومبرکوشہراقتداراسلام آبادکو لاک ڈاؤن کرنے کی دھمکی اور دس لاکھ افراد کی شرکت کے دعوے کرکے پی ٹی آئی کی قیادت نے جس حتمی دھرنے کااعلان کیاتھاوہ یکم نومبرکومؤخرکردیاگیااورہوسکتاہے اس کے مؤخر ہونے کے عوامل کچھ اور بھی ہوں تاہم بظاہرسپریم کورٹ کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کے فیصلے کوبنیادبناکرعمران خان نے دھرنادینے کی بجائے یوم تشکر منانے کااعلان کیا تھا اوراگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مذکورہ دھرنامؤخر ہوجانے سے وزیراعظم نوازشریف اور مسلم لیگ نون کی قیادت نے سکھ کاسانس لیاہے کیونکہ دھرنے کے باعث شہراقتداراسلام آبادبھی لاک ڈاؤن ہونے سے محفوظ رہا ،ملک بھرمیں پیداہونے والی ہیجانی صورتحال بھی ختم ہوگئی اور پانامہ لیکس کی تحقیقات مکمل ہونے تک نوازشریف کووزارت عظمیٰ کے منصب پر براجماں رہنے کی بھی مہلت مل گئی تاہم وجود رکھتی ناقابل تردید حقیقت یہ بھی ہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں واضح برتری لینے کے بعد وزارت عظمیٰ کامنصب سنبھالنے سے لے کراب تک وزیراعظم نوازشریف تحریک انصاف کے ہاتھوں مشکل صورتحال کاسامناکرتے آرہے ہیں ۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نہ صرف آئے روزوفاقی حکومت بالخصوص وزیراعظم نوازشریف اوران کے بچوں اور خاندان کے دیگرافرادپر الزامات کے نشتر برساتے رہے بلکہ 2014میں126 دنوں کادھرنادے کروطن عزیزکی سیاسی تاریخ کانیاباب بھی رقم کیاتھا۔قطع نظراس کے کہ وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بچے پانامہ کرپش میں ملوث ہیں کہ نہیں،کیاعمران خان اور ان کی جماعت نوازشریف کے خلاف لگائے الزامات کے ثبوت عدالت میں پیش کرپائیں گے کہ نہیں ،معاملے کی عدالتی تحقیقات میں شواہد اورثبوتوں کی بنیادپر فیصلہ نوازشریف کے خلاف آئے گا یا انہیں الزامات سے بری الذمہ قراردیاجائے گاتاہم اگر پانامہ کرپشن کی زد میں آکرنوازشریف کی وزارت عظمیٰ کے منصب سے چھٹی ہوجاتی ہے اور اس صورت میں کوئی اور لیگی رہنماء اس منصب پر فائز ہوجاتاہے جیساکہ پیپلزپارٹی کے دوراقتدارمیںیوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے بعدراجہ پرویزاشرف وزیراعظم بنے تھے تواٹھتاسوال یہ ہے کہ اس سے عمران خان کی ذات اور صوبہ خیبرپختونخواکے عوام کو کیافائدہ ہوگاکیونکہ سیاسی امور کے ماہرین کاکہنایہ ہے کہ اگرعمران خان وزیراعظم کے استعفے کی بجائے اپنے صوبے کے حقوق کے حصول کی خاطر دھرنادیتے اور احتجاج کرتے تو انہیں عام لوگوں کی بھی تائیدوحمایت حاصل ہوتی اور ایساکرنے سے خیبرپختونخوامیں عوامی ریلیف کے قابل ذکر ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل ہوجاتے تو مستقبل میں نہ صرف خیبرپختونخوابلکہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی پی ٹی آئی کو سیاسی فائدہ حاصل ہوتاکیونکہ وفاق میں اقتدار سے محرومی کی وجہ سے نیاپاکستان بننے سے تو رہا لیکن پی ٹی آئی کے پاس نیاخیبرپختونخوانہ بنانے کا کوئی جوازنہیں ہوگاجہاں وہ برسراقتدارہے اس بناء پراس میں کوئی دورائے نہیں کہ اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی جہاں خیبرپختونخوامیں کارکردگی کی بنیادپر عوام سے ووٹ لے گی وہیں ملک کے دیگر حصوں میں پی ٹی آئی کوملنے والے ووٹ کاانحصار بھی خیبرپختونخواپر ہی ہوگا۔ بہرحال ذکرہورہاتھاوزیراعظم نوازشریف کے خلاف پی ٹی آئی کے دھرنوں کاتوایک طرف اگروفاقی حکومت کے خلاف پی ٹی آئی کی مخالفت اور سیاسی مزاحمت نظرآرہی ہے تودوسری جانب وزیراعظم کے مشیر انجینئرامیرمقام کی جاری سیاسی سرگرمیوں کی حقیقت کوبھی رد نہیں کیاجاسکتاجوخیبرپختونخوامیں پی ٹی آئی کی حکومت اور پارٹی قیادت کو گاہے بہ گاہے جواب دینے اوراپنی سیاسی برتری دکھانے میں مصروف عمل ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انجینئر امیرمقام ایک متحرک قدآورسیاسی شخصیت کے حامل ہیں ہرلمحہ کچھ نیااورغیرمعمولی کردکھاناان کے سیاسی طرزعمل کاخاصاہے جوسیاسی مدارمیں ان کی شخصیت کومنفردوممتازبنادیتاہے۔سابق صدرپرویزمشرف کے دورمیں وہ ان کے قریبی ساتھی اور وزیراعظم شوکت عزیزکابینہ کے بااثر رکن تصورکئے جاتے تھے جبکہ انہیں اپنی سیاسی جماعت مسلم لیگ ق میں بھی خاص مقام حاصل تھا۔انجینئرامیرمقام مسلم لیگ ق کی سیاسی کشتی سے اتر کر مسلم لیگ نون کے قافلے میں شامل ہوئے توصوبائی دارالحکومت پشاور سمیت خیبرپختونخواکے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان شخصیات کوبھی اپنے نئے قافلے کاہمسفربنایاجوق لیگ کے ساتھ جڑے ہوئے اہم پارٹی عہدوں پر فائز اور انتخابی دنگل میں حصہ لے چکے تھے۔2013کے عام انتخابات میں انجینئرامیرمقام اگرچہ اسمبلی سیٹ سے محروم رہے تاہم ان کی سیاسی قدکاٹھ، بصیرت،فہم وفراست اورگٹھ جوڑکی مہارت سے آشناوزیراعظم نوازشریف نے انہیں اپنامشیرمقرر کردیااوریہ عہدہ سنبھالنے کے بعدوہ وزیراعظم اوراپنی جماعت کے معیارپر پورااترنے کی غرض سے ایک کہنہ مشق سیاستدان کے روپ میں دکھائی دیئے جس دن تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان وزیراعظم نوازشریف کے خلاف جاتی امراء رائیونڈمیں دھرنادے رہے تھے اسی دن انجینئرامیرمقام نے خیبرپختونخواکے دارالحکومت پشاورمیں جلسہ کرکے غیرمعمولی سیاسی قوت کامظاہرہ کیاتھاجبکہ یکم نومبرکوایک طرف وزیراعلیٰ پرویزخٹک کی قیادت میں پی ٹی آئی کے محض چند ہزرا کارکن پانامہ لیکس کرپشن معاملے پر عمران خان کے اعلان کردہ دھرنے میں شرکت کے لئے ریاستی رکاؤٹوں کاسامنا کررہے تھے وہاں امیرمقام نے صوابی میں بڑاجلسہ کرکے عمران خان اور پرویز خٹک کوسیاسی جواب دیاتھا۔امیرمقام کی سیاسی کاوشوں کانتیجہ ہے کہ خیبرپختونخواکے اندر قدآور سیاسی شخصیات مسلم لیگ نون میں شامل ہورہے ہیں ایم پی اے جمشید مہمند کی شمولیت اس کی واضح مثال ہے سویہ کہناغلط نہیں ہوگا کہ امیرمقام اس معیارپر پورااترنے میں بھی کامیاب نظرآئے جس کی توقع نوازشریف اوران کی جماعت ان سے کررہے تھے جبکہ دوسری جانب انہوں نے وفاق سے جڑے محکموں بجلی اورسوئی گیس میں صوبہ خیبرپختونخواکے دیگرعلاقوں میں بالعموم جبکہ ملاکنڈڈویژن میں بالخصوص بڑے علاقائی ترقیاتی منصوبے شروع کررکھے ہیں جن کی تکمیل سے جہاں عوام کوریلیف ملے گا وہاں امیرمقام کی سیاسی مقبولیت میں بھی یقینی اضافہ ہوگا۔انجینئرامیرمقام کامستقبل میں وفاق اور خیبرپختونخواکے سیاسی افق پر مقام کیاہوگااس حوالے سے کچھ بھی کہناابھی قبل ازوقت ہے البتہ ان کی اونچی سیاسی اڑان کودیکھتے ہوئے اندازے ضرور لگائے جاسکتے ہیں جبکہ مسلم لیگ نون کے ورکرزانہیں پارٹی کی صوبائی صدربنانے کامطالبہ کررہے ہیں۔

note

Share Button
loading...
loading...

About admin

loading...
Scroll To Top
web stats