شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ماں کا نام، باپ کے احکامات۔۔بلاول بھٹو
loading...
ماں کا نام، باپ کے احکامات۔۔بلاول بھٹو

ماں کا نام، باپ کے احکامات۔۔بلاول بھٹو

javidذوالفقار علی بھٹونے عوامی خدمات کیلئے ایک سیاسی جماعت تشکیل دی ، بھٹو نے یہ سیاسی جماعت قومی دھارے میں داخل کرکے بھرپور شہرت اور کامیابی کے جھنڈے گاڑے، کراچی سے پشاور تک پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم مین لوگ جوق در جوق شریک ہوئے، پنجاب میں پنجابیون، سرحد میں پشتونوں ، بلوچستان میں بلوچیوں اور سندھ میں سندھیون کو نوازنے والی پاکستان پیپلز پارٹی بھارت سے ہجرت کرنے والی قوم مہاجروں کو مکمل بھول گئی،اردو بولنے والی قوم کیساتھ اس قدران کے حقوق کی حق تلفی کی گئی کہ پورے پاکستان میںکہیں بھی دہی اور شہری علاقوں کو منقسم نہیں کیا گیا جبکہ سندھ میں یہ تقسیم کرکے نفرت و عصبیت کا بیج بو دیا، اس تقسیم سے اردو بولنے والی قوم کو دیوار سے بھی لگادیا، بظاہر دہی اور شہری کوٹہ میں ساٹھ چالیس کا حصہ رکھا گیا لیکن درحقیقت یہ حصہ دو اور نناوے پر مشتمل کردیا گیا وقت کے ساتھ ساتھ سندھ پبلک کمیشن ہو یا دیگر روزگار کے ذرائع ان سب میں اردو بولنے والی قوم کے دروازے مکمل بند کردیئے گئے، تحقیق و حقائق یہی بتاتے ہیں کہ آج سندھ سیکریٹریٹ صرف سندھی زبان یعنی سندھی قوم سے بھرا ہے اور اردو بولنے والے شائد ہی اکا دکا نظر آجائیں؟؟؟ یہاں کراچی یونیورسٹی کے دانشور و اسکالروں کا کہنا ہے کہ کیا اردو بولنے والی قوم علم و فنون سے عاری ہیں کیا ان میں بیس فیصد تک قابل نہیں ؟؟؟ اردو بولنے والی قوم وہ قوم ہے جس نے پاکستان بننے کے بعد اس ملک کی ترقی و کامرانی مین بھرپور اپنا عملی کردار ادا کیا ہے ، اردو بولنے والے دانشوروں کا کہنا ہے کہ اس عصبیت و نفرت کقا خاتمہ ہونا چاہیئے کیونکہ کسی بھی قوم کو نا انصافی و ظلم سے دبایا نہیں جاسکتا، ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ دین اسلام نے سب کے حقوق کا توازن رکھا ہے اور قابلیت کا قتل کسی بھی ریاست کے نظام میں بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔۔!!معزز قائرین! ذوالفقار علی بھٹو کے اس عمل سے سندھ میں بسنے والی دو بڑی قوموں میں بہت زیادہ فاصلہ بڑھ گیا ،یہ فاصلہ اس قدر تک پہنچ گیا تھاکہ لسانی جھگڑے ہوگئے، بحرکیف سن انیس سو ستتر میں جب ضیا الحق نے پھانسی دینے کا اعلان کیا اور جلی کی کال کوٹھری میں بند کردیا اُس وقت بھٹوکیساتھ کوئی نہ تھا، تب بھٹو نے کہا کہ کاش میں اردو بولنے والی قوم کو بھی ساتھ لیئے چلتا اور ان کے حقوق کی حق تلفی نہ کرتا تو یقیناً یہ قوم مجھے جیل کی کال کوٹھری سے نکال لیتے اور سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوتے ۔!! مارشلا کے گیارہ سال بعد بینظیر بھٹو انتخابات کے ذریعے منتخب ہوئیں یہاں یاد رکھنے کی بات ہی ہے کہ ضیا الحق کے مارشلا میں دو سیاسی جماعت وجود میں آگئی تھیں جن میں مسلم لیگ نواز شریف دوسری مہا جر قومی موومنٹ۔۔!! بینظیر بھٹو کیساتھ بھی ایسے مشیر تھے جن کا مقصد اپنی ذات کو نفع پہنچانا مقصود تھا بینظیر بھٹو چاہتی تھیں کہ سندھ میں ان دو قوموں کے درمیان شگاف کو ختم کیا جائے اورسندھ کی ترقی کیلئے سندھیوں اور مہاجروں کو ایک ساتھ لیکر سندھ کی ترقی کا حصہ بنایا جائے لیکن چند ایک مفاد پرست عناصروں نے ایسا ہونے نہیں دیا  اور بلاآخر بینطیر اپنے ہی لوگوں کی ناقص پلاننگ، حکمت عملی اور کمزور سیاسی دانائی کے سبب جام شہادت نوش کرگئیں، بینظیر بھٹو شہید کے جانے کے بعد پی پی پی اپنی اصل حالت سے کوسوں دور چلی گئی اور مخلص جیالے پی پی پی انتظامیہ سے خائف ہوکر پارٹی سے دور ہوگئے ہیں ، جیالوں کے مطابق اب پی پی پی لٹیروں کے شکنجے میں ہےاس شکنجے کو بلاول بھٹو بھی ختم نہیں کرسکتے؟؟؟ معزز قائرین ! سندھ کے با شعور اردو بولنے والے مفکر، اسکارز محقق نے کہا ہے کہ ضیا الحق کے مارشل لا میں بننے والی اردو بولنے والی قوم کے حقوق کی سیاسی جماعت  ایم کیو ایم نے اپنی قوم کیساتھ جو سلوک کیا وہ دشمنوں نے بھی نہیں کیا ہوگا، اپنے نوجوانوں کو تعلیم سے دور اور جرائم میں ملوث کرکے ان کے مستقبل کو تار تارکردیا، دولت کی ہوس و لالچ نے ایک دوسرے کا خون کیاحتیٰ کہ ملک دشمنی مین اس قدر بڑھ گئے کہ بھارت کیساتھ اپنی مخلصی کا ظہار کھلم کھلا کرنے لگے جس سے ان کے مقاصد واضع ہوگئے،موجودہ حالات میں مہا جر قومی موومنٹ چار سیاسی جماعت میں منقسم ہوکر رہ گئی ہے، پاک سر زمین پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم حقیقی۔۔!!دانشور کہتے ہیں کہ یہ چاروں جماعتیں اسی ملک دشمن سے نکلی ہیں اور یہ قوم کیلئے ناسور ہیں کیا مہاجر قوم ہمیشہ کیلئے ان جیسے لوگوں کے ہاتھ مجبور رہے گی کیا مہاجر قوم میں اعلیٰ صاف و شفاف قیادت کا فقدان ہے؟؟ یقیناً ہر گز نہیں ! تو پھر قوم کو اب جذبات سے نہیں بلکہ ہوش وحواس سے آنے والے قومی انتخابات دو ہزار اٹھارہ میں فیصلہ دیں یہی عمل سندھ کے غیور سندھی قوم کیلئے بھی ہے کہ وہ ان تمام عناصر کا بائیکاٹ کریں جو سندھ مین بے امنی، نفرت،ظلم و بربریت کو ہوا دے اور ان سندھی رہنماؤں کا بھی گھیراؤ کرلیں جو لسانیات پر قوم کو منقسم کرنے کی ناکام کوشش کریں۔۔۔!! معزز قائرین! بینظیر بھٹو شہید کی شہادت کے بعد اس جماعت کی کمان سردار آصف علی زرداری نے سنبھالی اور صدر کے مقام تک پہنچ گئے، جیالوں کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ بی بی محترمہ کی شہادت کے بعد سب سے زیادہ فائدہ سردار آصف علی زرداری نے اٹھایا ہے ، کچھ جیالوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی پی پی نے ضیالحق کے مارشلا کے بعد تواتر سے سندھ کے اقتدار پر برجمان رہی ہے مگر سندھ کی ترقی و خوشحالی کیلئے کہیں بھی عملی اقدامات نہیں کیئے البتہ شہر ہو یا دیہات تمام کے تمام بنیادی حقوق پانی، بجلی،نکاسی آب،صفائی ستھرائی،صحت کی سہولیات جیسی عناصر سے محروم رہی ہے ، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو تباہ و برباد کردیا گیا ، سندھ وزرا ہیں کہ انہیں دھن دولت جمع کرنے سے فرصت نہیں ملتی، بے انتہا کرپشن و لوٹ مار کا بازار گرم ہے، سرکاری ملازمین اپنے حقوق کیلئے در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں، پروموشن رشوت اور ایریئرز کا ملنا آسمان کو چھونے کے مترادف بن گیا ہے ، بد ترین اور بد حال سندھ کو آج تک پی پی پی کےحکمران درست نہ کرسکے اور خواب دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنے نئے قائد سردار آصف علی زرداری کے بیٹے بلاول زرداری کو اس ملک کا وزیر اعظم بنائیں گے، جیالوں کے گروہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب اس طرح کے خواب ممکنات میں شامل نہیں کیونکہ آصف علی زرداری پاک فوج کو اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دے چکے ہیں اور اپنی مونچھوں پر داؤ لگا کر بتا رہے ہیں کہ وہ کس قدر چالاک اور ہوشیار ہیں کہ آج تک اپنی معصوم بیوی کے قاتلوں کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہوئی ہے انہیں تو بس اقتدار اور صرف اقتدار کی ہوس رہ گئی ہے۔۔۔!!معزز قائرین!بلاول بھٹو کومستقبل میں وزیراعظم بننے کیلئے بیانات کا سلسلہ پی پی پی کے وزرا ، مشیراور اراکین سندھ اسمبلی نے زور و شور سے جاری رکھا ہوا ہے۔۔۔۔۔!! خیرپور میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ملک کے اگلے وزیر اعظم ہونگے ، دیگر سیاسی پارٹیاں جلسے کر کے الیکشن کی تیاری کررہی ہیں، پیپلز پارٹی بھی پیچھے نہیں رہے گی، آصف علی زرداری وطن آنے والے ہیں، اب اگلی باری کسی اور کی ہے ، بلاول بھٹو کا وزیر اعظم نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ پوری قوم کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے اندر جو حالات پیدا ہوئے اس کے بعد وزیر اعظم کو استعفیٰ دیکر چلا جانا چاہیے ، بلاول بھٹو زرداری عقل مند سیاستدان ہیں، انہوں نے حالات مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ جہالت تمام برائیوں کی جڑ ہے ، اس لیے تعلیم کو عام کرنا ہو گا۔ ۔۔،کراچی میں نثار کھوڑو نےاورنگی ٹاوٴن میں جلسےسےخطاب  کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنےآپ کوگولیوں کےسامنے پیش کرنےوالےہیں،سالوں سے بتارہےہیں بندوق کی سیاست دائمی نہیں ہوتی، آج کراچی آزاد ہے،اس کراچی میں امن وامان بحال کرکے رہیں گے،عوام کو بےقوف بنانےوالےاب کام نہیں کرینگے،تمہارا حق ہے کہ یہاں یونیورسٹی بنے،ہم زندہ رہناچاہتےہیں،زندگیاں دینا چاہتے ہیں، ہم اوروں کی طرح ملک کےخلاف نہیں بولتے،بہت آرام کرلیااب تیارہوجاؤ،پارٹی کاپیغام گھرگھرپہنچائیں گے، یہ گلیاں کوچےبھٹوکےنعرے سےگونجتےرہیں گے، 2018دورنہیں،بلاول بھٹوکوکامیاب کرانے کیلئے محنت کرینگے۔۔،موجودہ پاکستان جہاں دہشت گردی کا شکار رہی ہے وہیں بھارت کی جانب سے مسلسل بارڈر پر جنگ بھی جاری ہے ، اسٹبلشمنٹ کسی طور برداشت نہیں کریگی کہ پاکستان کو لوٹ مار اور کرپشن کے ایندھن میں جھونک دیا جائے یہی وجہ ہے کہ جنرل راحیل شریف نے آپریشن ضرب عضب شروع کرتے ہوئے سہولت کاروں اور معاونین کے خلاف سخت اقدامات کا حکم بھی دیا تھا، دہشتگردی کا براہ راست ان دونوں عناصر پر محیط ہوتا ہے ، صوبہ سندھ بھی سہولت کروں و معاونین سے بھرا پڑا ہے اسی بابت افواج پاکستان کراچی سمیت پورے سندھ میں آپریشن کرنا چاہتی ہے اور افواج پاکستان نے سندھ حکومت کوواضع کردیا ہے کہ اس بابت انہیں حکومت سندھ کے تعاون کی اشد ضرورت ہے،دوسری جانب جہاں ایم کیو ایم کے کارکنان کو معاونین و سہولت کاری کے سبب گرفتاریاں کی گئی ہیں وہیں سندھ بھر میں پی پی پی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے خلاف بھی آپریشن کرنے باقی ہیں ، یقیناً یہ آپریشن الیکشن دو ہزار اٹھارہ سے قبل کردیئے جائیں گے پھر اصل صورتحال سامنے آئیگی کہ کون کون دودھ کا دھلا ہے اور کون سیاہ گنہگار ہے۔۔۔،معزز قائرین ! آج میں نے اپنے کالم کا موضوع ماں کا نام یعنی محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے کارڈ کا استعمال لیکن احکامات اپنے والد سردار آصف علی زرداری کے کرنے ہیں چاہے پی پی پی یا صوبہ سندھ کو نا تلافی نقصان سے دوچار ہی کیوں نہ کرنا پڑے، آصف علی زرداری ہوں یا بلاول بھٹو ان کے وزرا اور مشیران انہیں ہی لے ڈوبیں گے کیونکہ سندھ کے عوام ان کے اقتدار سے بہت مایوس ہوچکے ہیں مزید ان کا بوجھ اٹھانے کیلئے شائد تیار نہ ہوسکیں۔۔
note
Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top