شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / سرائیکستان صوبہ محاذ۔ایک تاریخی عمل

سرائیکستان صوبہ محاذ۔ایک تاریخی عمل

پچھلے دنوں سرائیکستان صوبہ محاذ کے نام سے ایک نیا الائنس وجود میں آیا بندہ ناچیز کو اس بات کا شرف حاصل ہے کہ وہ اس موقع پر اجلاس میں شریک تھا۔ اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ آج کا اجلاس ابتداء ہے ، ایک اچھے کام کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ آئندہ اجلاسوں میں دوسری جماعتیں بھی شریک ہوں گی اور اُن کو ممبر بننے کی دعوت دی جائے گی۔ سرائیکستان صوبہ محاذ کا ہر جگہ خیر مقدم کیا گیا اور سوشل میڈیا پر اس اقدام کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔ سرائیکستان صوبہ محاذ کے سلسلے میں مجھے سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ رانا محمد فراز نون صاحب نے فون کیا ہے، اُن کی مہربانی ہے وہ مجھے وقتاً فوقتاً وائس میسج کرتے رہتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ سرائیکستان صوبہ محاذ والوں نے ہماری جماعت کو نظر انداز کیا ہے اور ہمیں اجلاس میں نہیں بلایا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں اس لئے نہیں بلایا گیا کہ یہ لوگ مرکزی عہدے اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے اور ان کو عہدوں کی لالچ تھی۔ اس سلسلے میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اجلاس میں سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی کو بھی بلایا جانا چاہئے تھا، کیوں نہیں بلایا؟
اس کا جواب سرائیکستان صوبہ محاذ کی قیادت کو دینا چاہئے۔ جہاں تک عہدوں کی بات ہے تو اس میں حقیقت نظر نہیں آتی کہ میں خود اجلاس میں موجود تھا، اجلاس کے میزبان ظہور دھریجہ اپنی تقریر کے دوران رانا محمد فراز نون اور تمام سرائیکی جماعتوں کی شرکت کی بات کرتے رہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ میں تو اس بات کا بھی حامی ہوں کہ سرائیکستان کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر کوئی بھی جماعت یا کسی جماعت کا رہنما ہمارا ساتھ دیتا ہے تو اُسے بھی محاذ میں شریک کرنا چاہئے۔ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ جس طرح سرائیکستان عوامی اتحاد کے عہدے نہیں تھے اسی طرح سرائیکستان صوبہ محاذ کے بھی عہدے نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ایگزیکٹو باڈی اس کام کو چلائے بہر حال دوسرے رہنماؤں نے کہا کہ عہدے ہونا چاہئیں اس کے ساتھ عہدوں کی باری آئی تو ظہور دھریجہ صاحب کا نام شریک چیئرمین کے طور پر لیا گیا تو ظہور دھریجہ صاحب نے کہا کہ میری جگہ کسی دوسرے شخص کو اکاموڈیٹ کیا جائے، ہم بحیثیت رکن کام کرتے رہیں گے۔
اس موقع پر کسی دوسرے رہنما نے بھی عہدوں پر کوئی کھینچا تانی نہیں کی، سب نے کہا کہ آغاز ہو گیا ہے، بڑے بڑے عہدے ابھی باقی ہیں وہ نئے آنے والوں کیلئے ہیں۔ اس موقع پر مجھے ’’وسیب جگاؤ صوبہ بناؤ مہم‘‘ تحریک کی رہنما دختر سرائیکستان عابدہ حسین بخاری نے سب سے پہلے فون کیا اور مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مجھے سرائیکستان صوبہ محاذ بننے کی خوشی کے ساتھ ساتھ سرائیکستان عوامی اتحاد کے ٹوٹنے کا افسوس بھی ہے، اگر ہمارے کچھ ساتھی نادانیاں نہ کرتے تو سرائیکستان عوامی اتحاد کی طرف سے سرائیکستان لانگ مارچ کا دوسرا اور تیسرا مرحلہ بھی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتا۔ فون کے دوران میں نے عابدہ حسین بخاری کا پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا خیر مقدم بھی کیا۔
سرائیکستان صوبہ محاذ کو تمام دوستوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہئے، خاص طور پر جتنے بھی سٹیک ہولڈرز ہیں ان سے رابطہ کرنا چاہئے، وسیب میں بسنے والے پنجابیوں اور مہاجروں کو بھی ساتھ لیکر چلنا چاہئے، اگر سرائیکستان صوبہ محاذ نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور سب کو ساتھ لیکر چلنے کی خلوص دل کے ساتھ کوشش کی تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ سرائیکی صوبے کی منزل نہ مل سکے، اب صوبہ خطے میں بسنے والے تمام لوگوں کی ضرورت ہے، سب سے بڑا مسئلہ معاشی مسئلہ ہے، جب تک صوبہ نہیں بنے گا اس خطے کے مسائل حل نہیں ہوں گے، سرائیکستان صوبہ محاذ کی طرف سے نواب مظفر خان شہید کا دو سو سالہ یوم شہادت منانے کا اعلان ہوا ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو جون کو رنجیت سنگھ کے پتلے نذر آتش کئے جائیں گے۔
رنجیت سنگھ سے پنجابیوں کو بھی کوئی ہمدردی نہیں کہ وہ مسلم پنجابیوں کا بھی قاتل ہے، لیکن رنجیت سنگھ کے عمل سے چونکہ تخت لاہور کو فائدہ ہوا ہے اس لئے مورخہ 18 مئی 2018 کے روزنامہ ایکسپریس میں معروف کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم زیرو پوائنٹ میں رنجیت سنگھ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم پنجابیوں میں کھڑے ہونے کے جینز ہی نہیں ہیں، راجہ پورس اور رنجیت سنگھ کے علاوہ آج تک پنجاب کا کوئی لیڈر کسی سے نہیں لڑا ‘‘ سوال یہ ہے کہ رنجیت سنگھ نے ملتان پر حملہ کیا تو اہل ملتان نے مزاحمت کی نواب مظفر خان شہید نے عظیم قربانی دی اب اپنی اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ ساتھ اپنی مکمل سطح کی قربانی دے دی لیکن ہتھیار نہیں ڈالے، سوال یہ ہے کہ جاوید چودھری صاحب رنجیت سنگھ کو تو بہادر قرار دے رہے ہیں جس نے اتنی بڑی قربانی دی اُس کا نام نہیں لیا، کیوں؟ پھر وہی بات ہے کہ چونکہ تخت لاہور اور اُس کے آس پاس کے اضلاع کو سرائیکی وسیب پر رنجیت سنگھ کے قبضے سے فائدہ ہوا ہے اس لئے انہوں نے نام نہیں لیا، سرائیکی قیادت کو ان تمام امور پر غور کرنا ہو گا اور خطے میں بسنے والے حقیقت پسند پنجابیوں اور مہاجروں کو اپنے ساتھ ملانا ہو گا ورنہ کامیابی حاصل نہ ہو سکے گی۔
آخر میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بھی بنایا گیا تھا جو کہ وسیب کے جاگیرداروں پر مشتمل تھا اور ہمیں پہلے سے پتہ تھا کہ ان جاگیرداروں نے اپنے خطے اور اپنے علاقے سے کبھی وفا نہیں کی، یہ اپنی مرضی سے سانس بھی نہیں لیتے، یہ وہ بولتے ہیں جو ان کو بلوایا جاتا ہے، جنوبی پنجاب صوبہ محاذ سے میرے بھائی اور دوست رانا محمد فراز نون سمیت بہت سے لوگوں کو ہمدردی تھی اور وہ ان کی طرف رابطے بڑھانے کیلئے بے تاب تھے اور اس سلسلے میں رابطہ کمیٹیاں بھی بن گئی تھیں مگر چند ہی دنوں میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا خاتمہ بالخیر ہو گیا، سب نے انا للہ کہا اور فاتحہ پڑھی ، ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ کسی کا سہارا نہ ڈھونڈوں جو کچھ کرنا ہے آپ کرو، اگر خلوص دل کے ساتھ ہمیں اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہو تو ہم پنجابی بھی آپ کے ساتھ ہیں کہ صوبہ ہم سب کی مشترکہ ضرورت ہے۔

error: Content is Protected!!