شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / مقروض قومی ترقی
loading...
مقروض قومی ترقی

مقروض قومی ترقی

sabir mughalسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے موجودہ دور حکومت میں قرضوں کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دئیے گئے ہیں،گذشتہ تین برسوں کے دوران نواز شریف حکومت نے 8ہزار ارب روپے کے قرضے حاصل کئے جس کے بعد ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 22ہزار ارب روپے سے بڑھ گیا ہے اس رپورٹ کے مطابق 30ستمبر 2016تک مقامی قرضوں کا مجموعی بوجھ 14787ارب روپے ہو گیا جس میں طویل المدت قرضے 7904ارب روپے اور قلیل المدت قرضوں کا حجم 6482ارب روپے پہنچ چکا ہے ،اسی طرح 30جون 2016تک غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 7200ارب روپے تھا جس میں سرکاری قرضوں کا حجم 6200ارب روپے ہو گیا ،غیر ملکی مجموعی قرضوں میں غیر ملکی کرنسی ،براہ راست سرمایہ کاروں کو قرضے کے واجبات ،بینکوں ،سرکاری اداروں اور نان ریذیڈنٹ ڈپازٹس کے واجبات بھی شامل ہیں،سرکاری دستاویزات کے مطابق تین سال قبل ملک پر قرضوں کامجموعی بوجھ14800ارب روپے تھا ،2008میں 6126ارب روپے اور 1999میں 2946 ارب روپے تھا،ملک پر قرضوں کا یہی بوجھ 1996میں1704ارب روپے،1990میں 1704ارب روپے جبکہ 1971میں 30ارب روپے تھا۔عالمی قانون کے مطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 60فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے مگر اس وقت پاکستان پر مسلط یہ قرضے جی ڈی پی کے تقریباً 68فیصدتک پہنچ چکے ہیں جو ۔فی سکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیبٹ لیمیٹیشن ایکٹ 2005کی خلاف ورزی ہے ۔ پاکستان کی ترقی کا یہ دلچسپ اور عجیب گراف دنیا کی کسی اور مملکت میں شایدڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔یہ ترقی کی کیسی معراج اور منازل ہیں جنہیں ہم پھلانگتے جا رہے ہیں جس کے قرض میں ہر پاکستانی گردن تک دھنس چکا ہے۔ہمارے تمام قومی ادارے بد ترین زبوں حالی کا شکار ہیں۔ریلوے ،پی آئی اے اور پاکستان سٹیل ملز میں گذشتہ تین سال کے دوران 1905ارب کا خسارہ ہو چکا ہے ،سٹیٹ لائف کے سالانہ اخراجات 6 ارب روپے اور لے آؤٹ صرف 52لاکھ روپے( آڈیٹرجنرل آف پاکستان نے اسے ایک اور سفید ہاتھی قرار دے دیا ہے )۔سارک کانفرنس کے لئے لگژری گاڑیوں کی خریداری پر قوم کو 150کروڑ روپے کا ٹیکہ لگا دیا گیا،400ارب روپے کا خسارہ انرجی سیکٹر میں ہے۔ نندی پور پاور پراجیکٹ کی لاگت 18ارب روپے سے80ارب روپے تک جانے کے باوجود بے کار پڑا ہے ،نیلم جہلم منصوبے کی لاگت لاپرواہی کی وجہ سے 400ارب روپے سے بھی بڑھ چکی ہے مگر تاحال مکمل نہیں کیا جا سکا،بے نظیر انٹرنیشنل ائیر پورٹ اسلام آبادکی تعمیر میں خراب منصوبہ بندی سے اب تک 19ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے جس میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہ منصوبہ30ارب سے130ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔علامہ اقبال انٹر نیشنل ائیرپورٹ لاہور کی توسیع کے لئے 35ارب روپے قرض کا اشہار اخبارات کی زینت بنا ہے ،کے الیکٹرک کمپنی نے کرپشن کی مد میں عوام اور حکومت سے 120ارب روپے بٹور لئے ہیں،ذوالفقار علی بھٹو کے آبائی ضلع لاڑکانہ میں ترقیاتی کاموں کے نا م پر 90ارب روپے ڈکار لئے گئے ، 462ارب کرپشن الزام میں ملوث ڈاکٹر عاصم کو وی وی آئی پی پروٹوکول دیا جا رہا ہے ،شاید اسی لئے عدلیہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئی کہ اس ملک میں 400ارب سے زائد کرپشن الزام بھینس چوری مقدمے کی طرح ہیں۔میگا کرپشن کی ہر طرف گونج ہے یہاں کس کس کا ذکر کیا جائے تمام بڑے عہدوں پر براجمان کرپٹ اورراشی افسران ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیںیہ لوگ صبح گرفتار ہوتے ہیں شام کو با عزت گھر،بد قسمتی تو یہ ہے کہ احتساب کے نام پر بننے والے ادارے ہی کرپشن کے پنپنے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں، 9جولائی کو وزیر اعظم میاں نواز شریف ڈیڑھ ماہ لندن میں علاج کی خاطر رہنے کے بعد وطن واپس آئے تو انہیں لانے والی وی وی آئی پی فلائٹ پر قوم کے تین کروڑ روپے خرچ کر ڈالے گئے،حالانکہ پاکستان کی واحد قومی ائیر لائن خسارہ میں جا رہی ہے اب تو اس کے پاس تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے فنڈز بھی ختم ہو جانے کی خبریں گردش کرنے لگی ہیں۔ایوان صدر اور ایوان وزیر اعظم کے سالانہ اخراجات میں آئے روز اضافہ کی رپورٹس ہیں،پارلیمنٹ کے اجلاس محض خانہ پری،ذاتی مفادات کے بل کی منظوری، لاؤنسز کے حصول اور تنخواہوں کی بڑھوتی کی خاطر بلائے جاتے ہیں ،وہاں مرضی کے قانون ، مرضی کی تنخواہیں اور آسائشیں ،اب تو کالے دھن کو سفید کرنے کا بھی قانون پاس کر لیا گیا ہے ،پاکستان میں ارکان پارلیمنٹ کی حاضری کی اوسط دنیا بھر میں سب سے کم ہے ،سن رہے ہیں بہت ترقی ہو رہی ہے ،بڑے بڑے میگا منصوبے زیر تکمیل ہیں ،سیاسی بحران پر نواز شریف جلسوں میں عوام سے محبت بانٹنے جاتے ہیں تو وہاں اربوں روپے کے منصوبوں کا اعلان آنکھ کے اشارے پر کر دیا جاتا ہے ،(اب وہ محبت شاید پھر ماند پڑ گئی ہے)،کیا ہم ترقی کی جانب گامزن ہیں یا وطن کو ہی گروی رکھا جا رہا ہے ،شاید حکمرانوں کے ذہنوں میں ۔سی پیک۔منصوبہ سے آنے والی رقم ہو کہ چلو وہاں سے آنے والے ثمرات سے یہ قرضے اترتے پھریں گے۔ قرضوں کی دلدل میں دھکیل کر ائیر پورٹس ،موٹر ویز ،اورنج ٹرین،سڑکیں ،پلیں تو ہرکوئی بنا سکتا ہے اس میں کسی کی قائدانہ صلاحیتوں کا کیا عمل دخل؟ اس کاکسی کو کریڈٹ نہیں بلکہ مقروض دولت کو جاتا ہے جس کا سود ہی اتنا ہوتا ہے کہ ہمارا آدھا سالانہ بجٹ ہی اس کی نذر ہو جاتا ہے ،اور اس کرپشن کو لگام ڈالنے والے ادارے کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں،سندھ کا اینٹی کرپشن ادارہ اور نیب اس حوالے سر فہرست ہیں، ہماری معیشت حکومتی دعوؤں کے بر عکس تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ،غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے ،غیر ملکی سرمایہ کاری کے نام پرجو کچھ عوام کو بتایا جا رہا ہے یہ سرمایہ کاری نہیں بلکہ ۔قرض ۔ہے ،بوجھ ہے ،کرپشن ہے،تباہی ہے،سپریم کورٹ حکومت سے کہہ رہی ہے اگر فیصلوں پر عمل نہیں کرنا تو سپریم کورٹ کو بند کر دیں؟کیا حکومت اتنی ہی منہ زور ہے ؟پہلے اسی سپریم عدالت نے کہا تھا ملک میں جمہوریت نہیں بادشاہت ہے اب انہیں الفاظ کو لاہور ہائی کورٹ بھی دہرانے پر مجبور ہو گئی ہے جس کے مطابق ملک میں بادشاہت قائم ہے ادارے ماورائے آئین اقدامات سے عوامی حقوق غضب کر رہے ہیں یہ سب کیسے برداشت کریں،جسٹس شجاعت نے ایک مقدمہ میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا۔انگریز کو گئے دہائیاں گذر گئیں مگر تاحال انگلش بابو کلچر ختم نہیں ہو سکا۔عدلیہ ہی کے مطابق وہ کونسی ایسی بڑی شخصیت ہے جس کی لندن یا دوبئی میں پراپرٹی نہیں ہے یہ عوام کی امنگوں کا خون ہی چوس لیتے ہیں،سندھ کے محکمہ صحت میں جعلی تقرریوں کے کیس میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا ہے بد عنوانی کی حد ہوتی ہے سندھ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صو بائی صدر چوہدری پرویز الہٰی کے مطابق حکمران ڈوبتے نظر آ رہے ہیں ،پرویز الہٰی صاحب ڈبکیاں اور غوطے تو عوام کھا رہی ہے مگر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے خلق خدا کے غاضب اسی دنیا میں بدلہ ضرور دیتے ہیں، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے سوال اٹھایا ہے کہ بتایا جائے 20ارب ڈالر کا نیا قرضہ کہاں خرچ ہوا ہے ؟یہ معاشی دہشت گرد عوام کا خون چوس رہے ہیں عوام تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے آج بھی محروم ہیں،پینے کو صاف پانی میسر نہیں آئے روز پاکستانی مہلک ترین بیماریوں میں مبتلاء ہو رہے ہیں ،عوام دوست رہنماؤں نے ایسا طریقہ کار وضع کیا ہے کہ ہرپاکستانی ہر چیز پر ٹیکس دینے پر مجبور ہے ،مراعات یافتہ طبقہ پر اس کا کوئی اثر نہیں غریب ۔پس۔ جاتا ہے ،کیا کمال ہے کہ قرض لے کر ملک بھر میں بنائے گئے ہر موٹر وے یا شاہراہ پر ۔ٹول پلازوں ۔ سے بھی دولت کا انبار اکٹھا کیا جا رہا ہے، غربت اور مفلسی عام ہے ،ملک کی نصف کے قریب آبادی خط غربت سے بھی ۔غریب ۔ہے ،حکومت کے نزدیک وہ شخص یا فرد غریب ہے جس کی ماہانہ آمدنی تین ہزار سے کم ہو،تین ہزار روپے سے توہم پر مسلط اشرافیہ کے کتوں کی صرف ایک روز کی خوراک بھی پوری نہیں ہوتی، ان معاشی دہشت گردوں کی وجہ سے حالت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ غربت اور عوامی بد حالی کے باعث پاکستان انسانی اعضاء کی خرید و فروخت کرنے والوں کے لئے جنت بن چکا ہے ۔کیا اسے ترقی کہتے ہیں؟پاکستان میں ترقی تو ہو رہی ہے مگر مقروض ترقی اور یہ قرض ۔قرض لینے والوں کی کئی نسلیں کھائیں گی اور عوام کی کئی نسلیں اسے اتاریں گی۔سٹیٹ بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق حکومت بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے مزید 2250ارب روپے قرضہ لے رہی ہے ،مفاد پرست سیاستدانوں کے آگے بھنگڑے ڈالنے والو یہ ہے گڈ گورنس اور بہترین لیڈر شپ۔ قرض ہی قرض اور ٹیکس ہی ٹیکس۔ترقی کے دعوے کتنی ڈھٹائی سے؟

note

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top