شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ملت کا ذہن بر سر پیکار مت بنا
ملت کا ذہن بر سر پیکار مت بنا

ملت کا ذہن بر سر پیکار مت بنا

کسی شاعر نے پاکستانی سیاست کا نقشہ کچھ ان الفاظ میں کھینچا تھا کہ
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
کبھی تو یہ شعر میرے سر کے اوپر سے ہی گزر جاتا تھا اور میرے فہم و شعور کے کسی بھی خانہ میں فٹ نہ بیٹھتا تھا مگر اب اور بالخصوص آج یہ بات کھل کے میرے ذہن میں واضح ہوگئی جو تصویر کبھی دھندلی سی دکھائی دیتی تھی اب واضح ہوکر سامنے آگئی ہے کہ میرے وطن میں لیڈر کا ٹیکہ ماتھے پر سجائے پھرنے والے راہنمایان قوم عقل و خرد سے بالکل عاری ہیں ۔ جس ملک میں قانون کی پاسداری اور عملداری یقینی نہ رہے وہاں شورشیں جنم لیتی ہیں ۔مجھے خوف ہے کہ جو حالات یہ عقل کی دولت سے تہی دست لوگ پیدا کر رہے ہیں انکی ان حرکتوں سے انارکی پھیلنے کا اندیشہ ہے یہ شعور و ادراک سے اسقدر دور ہیں کہ شائید زمین سے سورج کا فاصلہ بھی اتنا دور نہ ہو ۔ صاحبان دانش ! شائید مجھ جیسا کم فہم آدمی اچھی طرح سمجھ نہیں پا رہا اس لئے برائے کرم آپ ہی مجھے سمجھا دیں میرا مسئلہ صرف اتنا سا ہے کہ ،جس شخص کو ملک کی اعلی ٰ ترین عدالت ( سپریم کورٹ )فل کورٹ اتفاق رائے سے نا اہل ڈکلئیر کر دے جو وزیر اعظم تو کیا ایم این اے بھی نہ رہا ہو یہاں تک کہ اب کسی جماعت کا صدر بھی نہیں رہا ایک عام شہری ہے اب اسکے آگے پیچھے پھرتی کابینہ اور اسکی نعلین برداری کرتا ہوا نو منتخب وزیر اعظم دیکھا تو بے ساختہ سر پیٹنے کو دل چاہا کہ آخر میری ماں دھرتی کے سینے پر یہ حرکت کر کے کونسی مونگ دلی جا رہی ہے ۔سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال آخر کس حیثیت سے اس شخص پر کیا جارہا ہے جو اب ایک عام شہری ہے ؟اسقدر پروٹوکول تو اس شخص کو اپنی وزارت عظمیٰ میں بھی حاصل نہ تھا جتنا اسے اب دیا گیا پہلے اس کے پروٹوکول میں صرف سیکیورٹی اداروں کی گاڑیاں ہوتی تھیں اب تو اخیر ہی ہوگئی اس شخص کے پروٹوکول میں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ ساتھ ساری کابینہ بشمول نو منتخب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی شامل ہو ملک بھر کے سرکاری ملازمین کو حکم کے تحت اس جلوس میں شامل کیا گیا ہزاروں پولیس اہلکاروں کو پابند کیا گیا کہ اس جلوس کے ساتھ ساتھ ڈیوٹی انجام دیں سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے وہ بھی اس شخص پر جسے مادر وطن کی اعلیٰ ترین عدالت نے نا اہل قرار دیا ہو ۔ یہ سب کچھ کر کے ہم کیا ثابت کرنے جا رہے ہیں دنیا کے سامنے ؟کیا تصویر پیش کر رہے ہیں ہم مادر وطن کی اقوام عالم کے روبرو ؟کیا وطن عزیز کے وہ سپوت جنہیں حکومت پاکستان نے وزراء کے منصب تفویض کر رکھے ہیں اور وہ ممبران پارلیمنٹ جو اسمبلی میں بیٹھ کر قانون بنانے کی ڈیوٹی پر ما مور ہیں اپنے ہی ہاتھوں اپنی ہی عدلیہ کی تضحیک نہیں کر رہے ؟خود ہی قانون شکنی کے مرتکب نہیں ہورہے ؟مجھے اس بات سے قطعی طور پر کوئی سروکار نہیں کہ نواز شریف کے الوداعی جلوس میں کتنی تعداد میں لوگ شامل ہوئے اور نہ ہی اس چیز سے کوئی واسطہ کہ وہ لوگ جو اس جلوس یا ریلی میں شامل ہوئے کتنے پاسداران قانون و عدل ہیں ۔میاں نواز شریف تو ایک ہی بات کی رٹ لگائے چلے جا رہے ہیں کہ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں مجھے نا اہل قرار دیا گیا ہے ، اف آپ کی سادہ لوحی اور معصومیت جناب کیا کہنے ،عرض یہ ہے کہ اقامے کا عقدہ تو جے آئی ٹی میں آکر کھلا تھا مگر اس سے پیشتر جسٹس گلزار اور جسٹس کھوسہ نے آپ کو کس جرم میں نا اہلیت کے منصب سے سرفراز کیا تھا ؟ تو جناب وہ جرم تھا جھوٹ ۔ اسمبلی میں کوئی اور بات ، عوام کے سامنے کوئی اور بات ،اور پھر عدلیہ کی بنائی ہوئی جے آئی ٹی کے سامنے بھی کوئی اور بات ۔کیا اسمبلی میں آپ نے یہ نہیں کہا تھا کہ ساری منی ٹریل اور ثبو ت موجود ہیں ؟ مگر کیا آپ نے پیش کئے ؟اور پھر عدالت کے روبرو آپ کے وکلاء کی ٹیم نے یہ کہہ دیا کہ اسمبلی والی بات تو محض سیاسی بیان تھا ۔منی ٹریل سرے سے موجود ہی نہیں کبھی قطر سے ناکارہ کاغذ پیش کئے جاتے رہے کبھی دستاویزات میں لکھنے مٹا نے کا کھیل بھی آپ کی کمپنی کھیلتی رہی لندن فلیٹس کے بارے میں کیا آپ عدالت کو مطمئن کر سکے ؟ یہی وہ باتیں تھیں جن کو پیش نظر رکھتے ہوئے جسٹس گلزار اور جسٹس کھوسہ نے آپ کو نا اہل قرار دیا اور باقی ماندہ تین ججز جسٹس اعجاز افضل ،جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن نے مزید انکوائری کے لئے جے آ ئی ٹی بنانے کی سفارش کی تھی اہل تو آخر الزکر تینوں معزز جج صاحبان نے بھی آپ کو نہیں گردانا تھا مگر فقط اس واسطے مزید انویسٹی گیشن کروانا چاہی کہ شائید آپ کوئی پختہ اور سچا ثبوت فراہم کر دیں اور آپ کی خلاصی ہو جائے ۔جے آئی ٹی کے بننے پر مٹھائیاں ان ججز نے بانٹیں تھیں کیا ؟آپکو جے آئی ٹی کے بننے پر اسقدر خوشی ہوئی اور آپ نے سوچ لیا کہ اب شائید کچھ کھلا پلا کے یا پھر ڈرا دھمکا کے گلو خلاصی ہو جائے جو کہ نہ ہو سکی اور دو ماہ کے قلیل عرصے میں جے آئی ٹی کی رپورٹ جو کہ دس والیمز پر مشتمل تھی سپریم کورٹ کے فاضل بنچ کے سامنے آگئی جس میں آپکا تمام سیاہ و سفید رقم تھا ہاں اسی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں ہی اقامے کا انکشاف ہوا اور پھر آپ کی اننگز ختم ہو گئی ۔ آپ نے عدالت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی بجائے میں نا مانوں کی رٹ پر عملدرامد شروع کر دیا ۔نا اہلیت کے باوجود پارلیمانی اجلاسوں کی صدارت کرتے رہے آخر کس حیثیت سے ؟ وزیر اعظم ؟؟؟ وہ تو آپ رہے نہیں ۔ایم این اے کی حیثیت سے ؟نہیں ایک ایم این اے کا اختیار یہاں تک کب ہوتا ہے کہ پارٹی کے اجلاسوں کی صدارت کر سکے ۔پھر وزیر اعظم کی نامزدگی پارٹی نے کرنی تھی جو آپ ہی نے کی آخر کس حیثیت سے ؟جناب یاد فرمایئے آپ نے ہی فرمایا تھا عدالت جو فیصلہ کرے گی من و عن تسلیم کریں گے پھر اپنی ہی بات سے پھر کیوں گئے ؟کیا اسے توہین عدالت نہیں کہا جاتا ؟اس ٹکراؤ کی سیاست کی پالیسی سے کب باز آئیں گے آپ ؟آج آپ نے نیا فرمان جاری کر دیا کہ پانچ معزز ججز نے مجھے نہیں بلکہ بیس کروڑ عوام کو نا اہل قرار دیا ہے واہ سبحان اللہ کیا کہنے جناب ۔19ذرا ب بتایئے تو کیا پاکستان کی آبادی پچاس یا ساٹھ کروڑ ہے ؟ کیونکہ پیپلز پارٹی والے بھی بیس کروڑ عوام کے ساتھ ہونے کے دعویدار ہیں اور عمران خان بھی یہی کہتے ہیں کہ بیس کروڑ عوام میرے ساتھ ہے ،اے این پی کی بھی اپنی عوام ہے ،پی ایم ایل این (ق) والوں کے ساتھ بھی عوام ہیں ،ایم کیو ایم کے تمام گروپوں کے ساتھ بھی تو عوام ہی ہے اور وہ بھی عوام ہیں جنہوں نے آپ کے نا اہل ہونے پر بھنگڑے ڈالے مٹھائیاں بانٹیں دیگر چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی عوام ہیں اگر اس حساب سے دیکھا جائے تو پاکستان کی کل آبادی ایک ارب نفوس کو کراس کر جائے گی محترم ۔سیدھی سی بات ہے کہ آپ ٹکراؤ کی سیاست کو ہوا دینے کے ساتھ ساتھ توہین عدالت تسلسل کے ساتھ کئے جا رہے ہیں آپ کو بخوبی اندازہ ہے کہ ایسا کرنے سے آپ عوام کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کر رہے ہیں پاکستان کی عدلیہ کی توہین کے علاوہ بد امنی بھی پھیل سکتی ہے اس لئے آپ سے اور آپ کے ان ساتھیوں سے گزارش کروں گا جو آپ کو کھائی میں گرنے کی ترغیب دے رہے ہیں اور آپ مسلسل ان کے مشوروں پر عمل کر کے ا نتشار کی جانب گامزن ہیںآپ سے یہی گزارش کروں گا کہ
ملت کے ذہن بر سر پیکار مت بنا
فکر بشر کے پھول کو تلوار مت بنا
میں نے اپنی پوری حیاتی میں پہلی بار دیکھا ہے کہ حکومتی اراکین ایک ایسے شخص کی اقتداء میں صف بستہ ہو کر چل نکلے ہیں جو سپریم عدالت سے نا اہل ہو کر وزیر اعظم تو کیا پارٹی کا سربراہ بھی نہیں ماشاء اللہ کیا کہنے حالانکہ اس پارٹی نے سات روز کے اندر اندر اپنی پارٹی کے سربراہ کا انتخاب کرنا تھا جو تا حال نہیں کر پائے کیا ایسا کر کے آپ لوگ ملک و ملت کی خیر خواہی کر رہے ہیں ؟میاں نواز شریف بار بار ایک ہی بات کہے چلے جا رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا گیا کیا جرم تھا میرا عوام جواب دے؟اور کل جہلم میں کونسے ملک کی عوام تھی جسے آپ کی وجہ سے ہوٹل سے نکال باہر کیا گیا انکو انکا سامان تک نہیں اٹھانے دیا گیا وہ عوام بھی پوچھ رہی تھی ہمیں کیوں ہوٹل سے نکالا گیا ہم کہاں جائیں آخر ہمارا قصور کیا ہے ؟اب بیس کروڑ عوام جسے آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ نا اہل ہوئی ہے آپکے جرم کی پاداش میں ،، تو پھر بیس کروڑ پہ یہ جو اضافی عوام ہے جو رات بلک رہے تھے یہ کون ہیں ؟قارئین کرام میاں صاحب کہتے ہیں پانچ ججوں نے یک جنبش قلم انکو نا اہل قرار دے دیا ہے ذرا سوچیں وہ قلم کس قدر وزنی ہو گا جس کو جنبش دینے کے لئے ان ججز کو ایک سو چوراسی دن لگے ۔ ادھر چوہدری نثار صاحب کا فرمان عالیشان ہے کہ میں کمر درد کی وجہ سے نہیں بلکہ اس ریلی یا الوداعی جلوس میں کو ئی بھی سینئر رکن شامل نہیں ہے ۔ تو ثابت ہو گیا جو جو میاں صاحب کو گہری کھائی میں گرانا چاہتے ہیں وہ خوشامدی اس عدل مخالف جلوس میں شامل ہیں ورنہ اگر جناب حق پر ہوتے تو چھوٹے میاں صاحب ،اسحاق ڈار،اور چوہدری نثار جیسے بیسیوں لیگی اس جلوس میں ضرور شامل ہوتے ۔عدالت کی توہین تو آپ کر ہی رہے تھے اوپر سے بیس کروڑ عوام کو بھی نا اہل کہہ کر آپ نے ہر پاکستانی کی توہین کی ہے میاں صاحب اب بھی وقت ہے غلطی در غلطی کے رویئے سے باہر نکل آئیں جب عدالت نے آپ کو نا اہل کہا ہے تو گھر سکون سے بیٹھیں اللہ اللہ کریں اور نیب والے ریفرنسز کے فیصلوں کا انتظار کریں خدارا اب تو انتشاری اور انتقامی سیاست سے دست بردار ہو جائیں ۔

Share Button

About aqeel khan

Scroll To Top