شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ممبئی حملوں پرنواز شریف کے غیر ذمہ درانہ بیان پر بھونچال

ممبئی حملوں پرنواز شریف کے غیر ذمہ درانہ بیان پر بھونچال

دنیا بھر میں کوئی ایسی ایک مثال نہیں ملے گی جہاں کسی ریاست کا سابق سربراہ کسی انٹرویو میں ایسا بیان داغ دے گا جو ڈائریکٹ اس ریاست کی خارجہ پالیسی کے خلاف اور دشمن ملک کے حق میں ہو یہ شرف ہمارے تین بار وزارت اعظمیٰ پر براجمان رہنے والے جہاندیدہ سیاستدان میاں نواز شریف نے حاصل کیا ہے اس بیان نے بھونچال پربا کر دیا پوری قوم پریشان کہ ایسی حماقت کیوں کی گئی جو عین ملکی سلامتی کی دشمن ہے،پاکستان دہشت گردی کی شدید ترین لپیٹ میں رہا اس تمام تر دہشت گردی کو افغانستان سے بھارت،امریکہ اور اسرائیل آپریٹ کرتے ہیں بھارت نے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو ساتھ ملایا اس کا حاضر سروس فوجی آفیسر کلبھوشن یادیو بھی وہیں سے پکڑا گیاکلبھوشن کے حوالے سے نواز شریف کی زبان ہمیشہ بند رہی ، تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف نے سرل المیڈا کو سپیشل طیارہ میں ملتان میں بلوا کر غیر ملکی جریدے کے لئے انٹرویو دیا،ڈان لیکس کے ہیرو کو وزیر اعظم کے مشیر احتشام علی نے ملتان ائیر پورٹ پرپروٹوکول،سیکیورٹی کلیرنس کے لئے لیٹر لکھاانٹرویو میں نواز شریف نے کہا کہ ممبئی حملوں میں پاکستان میں متحرک عسکریت پسند تنظیمیں ملوث ہیں یہی لوگ ممبئی میں ہونے والی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا ہمیں انہیں اس بات کی اجازت دینی چاہئے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 سے زائد افراد کو قتل کر دیں،کچھ دہشت گرد تنظیمیں اب بھی یہاں متحرک ہیں جنہیں غیر ریاستی عناصر کہہ سکتے ہیں ہماری عدالتوں میں ممبئی حملوں کے ملزمان کا ٹرائل اب تک کیوں نہیں ہوا ؟نواز شریف نے پاکستانی کالعدم تنظیموں کو ذمہ دار قرار دے کر اعتراف کیا ہے کہ ممبئی حملے پاکستانی دہشت گردوں نے کئے،نواز شریف کے اس بیان پربھارتی میڈیا نے طوفان کھڑا کر دیا اور کہایہ بیان بھارتی فتح ہے ان کا یہ سنسی خیز اعتراف ہندوستانی مؤقف پر مہر ہے،پاکستان نے ہمیشہ ممبئی حملوں سے لا تعلقی کا اظہار کیا مگر اب نواز شریف کی جانب سے اسے قبول کرنے کے بعد پاکستان کا پول کھل گیا ہے، نواز شریف کا اس طرح کھلے عام اعتراف کرنے کے ساتھ کہا کہ ان حملوں کو روکا جا سکتا تھا،روسی صدر پوٹن،چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان امریکہ کو جھوٹ اور دھوکہ کے سوا کچھ نہیں دے رہادہشت گردوں کو اس نے محفوظ پناہ گاہیں دے رکھی ہیں،پاکستان تو طویل عرصہ سے انکاری رہا اب اعتراف کر رہا ہے غرضیکہ بھارتی میڈیا اتنا زہر اگل رہا جس کی مثال نہیں ملتی،ان حملوں کے بعد نوازشریف نے کہا تھابھارت کو الزامات سے قبل ثبوتوں کا انتظار کرنا چاہئے، دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی ضروت ہے ،ہم ان بم دھماکوں کے الزام کو مسترد کرتے ہیں،بھارت کو تحمل سے کام لینا ہو گا، بھارتی الزامات سے امن کوششوں کو نقصان پہنچے گا، الزام تراشی کی بجائے واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے انڈیا بصیرت سے کام لے، ملکی دفاع کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے دنیا کے فرعون مقابلہ کر دیکھ لیں،ہمیں اس پر دکھ ہے عالمی برادری پاک بھارت کشیدگی کو ختم کرائے،26نومبر 2008کو ممبئی حملے جو چار دن جاری رہے جن میں 22غیر ملکیوں سمیت195افراد ہلاک جبکہ327افراد زخمی ہوئے ،یہ کاروائیاں مصروف ترین ریلوے سٹیشن چھتر پتی شیوا جی،اوبرائے ٹرائیڈینٹ ریسٹورنٹ،تاج محل ،پیلس اینڈٹاورز نامی دو فائیو سٹارہوٹل،لیو پولڈ کیفے،کاما ہسپتال،یہودیوں کے مرکز نریمان ہاؤ س،وے پارلے،میٹرو ایڈلیس مووی تھیٹر،پولیس ہیڈ کوارٹر،ہوائی اڈے کے قریب ٹیکسی میں بم دھماکہ اور پبلک مقامات متاثر ہوئے، تاج محل میں کرکٹر کامران اکمل جبکہ تین ارکان اسمبلی اور50برطانوی شہریوں سمیت 100غیر ملک سیاح تھے ،دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا آپریشن60گھنٹے تک جاری رہا،رکن پارلیمنٹ راجیو شکلا کے مطابق ان حملوں میں 80مسلمان 30سے زائد غیر ملکی ہلاک ہوئے ، غیر معروف تنظیم دکن حیدر آباد نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کر لی،اس واقعات میں تمام دہشت گرد ہلاک جبکہ اجمل قصاب نامی دہشت گرد کو گرفتار کر کے پھانسی دے دی گئی،گرفتاری کے بعد جب اجمل قصاب انٹرویو کے لئے آیا تو اس دوران وہ بھگوان سے معافی مانگتا رہا ایسا کوئی مسلمان جہادی نہیں کر سکتا، دوسرا اس نے کلائی پر کلاوا تھا جو صرف ہندو پہنتے ہیں ،پولیس کے تین کلیدی افسران بشمول ہیمانت کر کرے کو ان واقعات کے پہلے چار گھنٹے میں ہی پار کر دیا گیا تھا،ہیما نت کر کرے ایک مؤثر ترین آفیسر تھے جنہوں نے آٹھ سال آسٹریا میں RAW کے لئے کام کیا،2006 میں مہاشڑا کے شہر بالیگاؤں میں بم دھماکوں شروع ہوئے توگرفتار بھی مسلمان متاثر بھی مسلمان ،کرکرے نے ای ٹی ایس کے صدر کی حیثیت سے انکوائری شروع میں انہوں نے ثابت کیااس میں ملوث سب ہندو ہیں جن میں اکھل بھارتیہ و دیارتی پریشد کی سابق طالب علم رہنماء سادھوی پرگید سنگھ،سوامی مرمیتانند وظیفہ یار میجر رمیش ایادھیا اور حاضر سروس فوجی افسر لیفٹیننٹ کرنل پرساد سری کانت پروہت ملوث تھے،کرکرے نے بھارتی تاریخ میں پہلی بار ہندو انتہا پسند تنظیموں کو دہشت گردی میں بے نقاب کیابھارتیہ جنتا پارٹی ،ویشو سینا سمیت دیگر انتہا پسند ہندو تنظیموں نے اسے غدار قرار دیا ،وہ حاضر سروس کرنل پرسادکانت پرساد کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کی تحقیقات کر رہے تھے،ممبئی حملوں پربھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ان حملوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے جن کا تعلق کسی بیرونی اسلامی مجاہدین گروہ سے ممکن ہے مگر انہوں نے پاکستان کا نام نہیں لیا،ماہرین کے مطابق ایسا حملہ صرف القاعدہ ہی کر سکتی ہے، یہ پہلا موقع تھا کہ بھارتی حکومت نے فوری طور پر براہ راست پاکستان یا کسی ریاستی ادارے پر الزام نہیں لگایا بلکہ پاکستان کو شواہد پیش کرنے اور تعاون فراہم کرنے کی درخواست کی تھی بھارتی وزیر خارجہ پرتاب مکھر جی نے کہا ابھی پاکستان کو اس کے ملوث ہونے کے ثبوت نہیں دے سکتے کہ اس واقعہ کا تعلق پاکستان سے ہے،البتہ گجرات کے وزیر اعلیٰ اور موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس وقت پاکستان پر ان حملوں کا الزام براہ راست پاکستان پر لگا کرمرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا،بھارتی اور مغربی ذرائع ابلاغ نے بھی اس دہشت گردی کا ذمہ پاکستان کی جہادی تنظیموں پر عائد کیا تھا،بعد میں جماعت الدعواۃ کے سربراہ حافظ سعید پر الزام لگایا جسے پاکستان نے مسترد کر دیا،لشکر طیبہ نے بھی تردید کر دی تھی،اس وقت پاکستان اور انڈیا کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے،انڈیا نے فون کال کر کے حملہ کرنے کی دھمکی دے ڈالی فضائیہ کو ریڈ الرٹ کر دیا گیا اور کہا وطن کے کے دفاع کے لئے ہر سطع تک جائیں گے بھارت نے سر کریک اور تجارتی مذاکرات ملتوی کر دئیے تھے ، منموہن سنگھ نے کہا تھاکہ دنیا کسی روز مانے گی کہ ممبئی حملوں کا منصوبہ ہمسایہ ملک میں ہی تیار ہوا،تب صدر ،وزیر اعظم اور آرمی چیف نے مشترکہ طور پر کہابھارت غیر ضروری رد عمل سے گریز کرے اگر ٹھوس ثبوت دیں ہم کاروائی کرتے ہیں، جنگ مسلط کی گئی تو منہ توڑ جواب دیں گے،وزیر اعظم گیلانی نے بنکاک کا سرکاری دورہ منسوخ کر کے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کی،امریکہ نے کہا اس میں لشکر طیبہ ملوث ہو سکتی ہے مگر پاکستان نہیں،2013میں بھارت کے وزارت خارجہ کے سابق افسر انڈر سیکرٹری آر وی ایس مانی نے عدالتی بیان میں یہ رازفاش کیا کہ ممبئی اور پارلیمان پر حملوں کے پیچھے خود ہماری حکومت کا ہاتھ ہے،معروف تحقیقاتی جرمن یہودی صحافی ابلیس ڈیوڈسن ممبئی حملوں سے متعلق2017میں منظر عام آنے والی کتاب کتاب میں لکھا کہ دہلی سرکار اور بھارت کے بڑے اداروں نے حقائق مسخ کئے بھارتی عدلیہ انصاف کی فراہمی اور سچائی سامنے لانے کی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی،ممبئی حملوں کے مرکزی فائدہ کارہندو انتہا پسند اور قوم پرست رہے، ہیمانت کرکرے سمیت دوسرے اہم پولیس افسران کو راستے سے ہٹا یا گیا،امریکا اور اسرائیل کے کاروباری اور فوجی عناصر کو بھی ان حملوں سے فائدہ ہوا ،دہشت گرد حملوں کے حقائق چھپانے کے لئے سیکیورٹی و انٹیلی ایجنس اداروں کی نا اہلی نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت حقائق میں ہیرا پھیری کی گئی ،ان حملوں کی منصوبہ بندی وعمل اور سازش میں بھارت کے ساتھ ساتھ امریکا اور اسرائیل کا کردار بھی حقیقت ہے،یہ تاثر دیا گیا کہ ان حملوں سے انڈیا کو دہشت گردی سے مستقل خطرہ اور پاکستان اس میں شامل ہے، بھارت کو دہشت گردی کی عالمی جنگ کے لیڈنگ ممالک کے ساتھ کھڑا ہونے میں مدد ملی،اس تازہ بیان کے بعدبھارتی وزر دفاع نے کہا اب دنیا کو پتا چلا کہ ہمارا مؤقف درست تھاہمیں یقین ہے کہ اس حملے میں ملوث ملزمان پاکستان میں ہیں،، تجزیہ کاروں کے مطابق نواز شریف کا یہ بیان انڈیا کی فتح ہے پتا نہیں انہوں نے یہ کس کو خوش کرنے کے لئے بیانیہ دیا ہے،کیا یہ وہی ایجنڈا ہے جس کے لئے بلیک لسٹ بھارتی صحافی پاکستان نواز شریف کا انٹر ویو لینے آ نا چاہتے تھے،نواز شریف نے 2016میں اقوا م متحدہ میں تقریر کے دوران بھی کلبھوشن کا ذکر نہ کیا،بلوچستان میں بھارتی مداخلت پر آج تک نواز شریف خاموش ہیں ،مودی کی دوستی میں نواز شریف کیا کیا قیمت ادا کرنا چاہتے ہیں،نواز شریف کا بیان پاکستان مخالف بیان اور بھارتی سہولت کاری واضح ہوتی ہے، سیاسی قیادت نے اس بیان کو ملک دشمنی اور سازش قرار دیا ہے،اعتزاز احسن نے کہا یہ مسئلہ ڈان لیکس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، میاں منظور وٹو نے کہابھارت نواز بیان ملک کے قومی مفاد پر حملہ ہے، سابق چیف جسٹس چوہدری افتخار نے کہا اس بیان پر بہت تحفظات ہیں،لیاقت بلوچ نے کہا یہ بیان ملکی سلامتی کے خلاف ایک خطرناک اور ملک دشمنی عمل سے مماثلت رکھتا ہے نواز شریف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت پر کیوں خاموش ہیں؟عمران خان نے کہا نواز شریف مودی کی زبان بول رہے ہیں وہ دور جدید کے میر جعفر اور میر صادق ہیں جو 300ارب روپے کی چوری بچانے کے لئے ملک دشمنی پر اتر آئے،پیپلز پارٹی نے کہااس بیان سے ملکی وقار مجروع ہوا ہے،چوہدری پرویز الہٰی نے کہا نواز شریف ملک دشمنی پر اتر آئے ہیں،شیخ رشید نے کہا وہ پاکستان کو عالمی سطع پر تنہا کرا کر پابندیاں لگوانا چاہتے ہیں، چوہدری نثار علی خان نے واضح کیا کہ وہ سب جانتے ہیں بھارت نے ہٹ دھرمی سے شواہد نہیں دیئے جبکہ پاکستان کا ان حملوں سے کوئی تعلق نہیں تھا نواز شریف کا بیانیہ غلط ہے، آصف علی زرداری نے اسے ملک دشمنی قرار دیا ہے،نواز شریف کے اس انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان پر سوموار کی صبع نو بجے قومی سلامتی کمیٹی کا ایک ہنگامی اجلاس وزیر اعظم کی صدرات میں منعقد ہوا جس میں چیر مین جوائنٹس چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر حیات محمود ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ،بحری و فضائی افواج کے سربراہان،ڈی جی آئی ایس آئی جنرل نوید مختار،ڈی جی ملٹری آپریشن ساحر شمشاد مرزا،ڈی جی IBمحمد سلیمان خان ،وفاقی وزراء ،سول و عسکری اعلیٰ افسران نے شرکت کی ،تینوں مسلح افواج کے سربراہان،ایم آئی اور آئی ایس آئی کے سربراہان ،قومی سلامتی کے مشیر،وزیر دفاع ،نے شرکت کی ،آئی ایس پی آر کے مطابق ممبئی حملوں سے متعلق گمراہ کن بیانات پر اجلاس بلانے کی تجویز دی تھی یہ اجلاس پونے دو گھنٹے جاری رہااجلاس میں نواز شریف کے ممبئی حملوں پر بیان سے پیدا ہونے والی متنازعہ صورتحال پر بات اور تفصیلی غور کے بعد عسکری قیادت نے اس غیر ذمہ درانہ بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ،مریم نواز نے ٹویٹ کے ذریعے بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کو تقویت ملی ہے مریم نے بیان کو ملکی مفاد کے لئے بہترین قرار دیا ،صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف بھائی کی حمایت میں اترے اور کہا ڈان نے ان کا بیان حقائق سے ہٹ کر شائع کیا ،پاکستانی میڈیا کی جانب سے یہ سوالات سامنے آئے ہیںْکہ نواز شریف نے سرل المیڈا اور ڈان کو ہی کیوں انٹرویو دیا؟اسے اتنا پروٹوکول کیوں دیا گیا؟اگر ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تو وہ خاموش کیوں ہیں؟کیا یہ وہی راز ہیں جو سینے میں دفن تھے؟شہباز شریف کو وضاحتی بیان اجلاس بلانے کی خبر کے بعد ضرورت کیوں پیش آئی؟اگر صحافی نے بیان توڑ مروڑ کر شائع کیا ہے تو حکومت نے ایکشن کیوں نہیں لیا؟احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر نواز شریف نے کہا آخر میں نے کہا کیا ہے ؟ وہ اپنے بیان پر ڈٹ گئے میں نے کچھ غلط نہیں کہا اپنے بیان پر قائم ہوں مجھ سے پہلے مشرف ، محمود درانی رحمان ملک ایسی بات کر رہے ہیں،آج انہوں نے پہلی مرتبہ کلبھوشن یادیو کا ذکر کیا ،حیرت تو یہ ہے کہ پوری قوم کا مؤقف ایک ہے جبکہ میاں نواز شریف کا مؤقف اور ہے، نواز شریف کے خلاف لاہور کورٹ میں غداری کا مقدمہ درج کرنے کے لئے درخواست دائر کی جا چکی ہے،

error: Content is Protected!!