شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / مرادِ نبوت
loading...
مرادِ نبوت

مرادِ نبوت

Abdullahروزِ اول سے قیامت تک تاریخ ان لوگوں کی احسان مند رہے گی جنہوں نے اپنے کردار ‘نیک نیتی ‘انسانیت دوستی ‘جرات و استقامت اور جذبہ ایثار و قربانی سے تاریخ کے چہرے کو زندگی بخشی ‘روشنی عطا کی ‘یہی وہ لوگ ہیں جو لوح تاریخ پر سنہری حروف میں نقش ہیں ‘اِنہی لوگوں کے کردار کی روشنی سے ہر دور کے انسان اپنی جہالت کے اندھیرے دور کر تے ہیں ایسے ہی لوگوں میں حضرت عمر فاروق ؓ شامل ہیں جنہیں اہل اسلام دعائے رسول ﷺ کا ثمر قرار دیتے ہیں جو مراد نبوت کہلاتے ہیں جن کے فضائل بیان کر نے کے لئے عمر نوح بھی کم ہے ‘سر تا ج الانبیاء ﷺ کی با رگا ہ سے آپؓ کو متعدد بار عظیم الشان عزت و احترام سے نوازا گیا ‘نو ر مجسم آقا ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالی ( بعض اوقات ) عمر کی زبان سے بولتا ہے ‘ایک اور موقع پر آقا کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا شیطان عمرؓ کے سائے سے بھی دور بھا گتا ہے اور حضرت عمرؓ کے مقام و مرتبے کے لیے آقا کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ اگر میرے بعد کو ئی نبی ہو تا تو وہ عمر ہو تا لیکن میرے بعد کو ئی نبی نہیں آئے گا اور پھر یہ اعزاز اور شان بھی پو ری اسلامی تا ریخ میں حضرت عمرؓ کے ہی حصے میں آئی کہ ہر ایک نے اپنی خواہش اور طلب پر حضور ﷺ کی غلامی کا شرف حاصل کیا لیکن عمر فاروق ؓ کو اپنی لا زوال صحبت اور رفاقت کے لیے حضور ﷺ نے ہی خدا ئے بزرگ برتر سے دعا کر کے منتخب کیا حضرت عمر فاروقؓ قبو ل اسلام سے پہلے اپنے ماموں اور والد کے اونٹ چرایا کر تے تھے یا پھر عکا ظ کے میدان میں شہسواری اور کشتی کے جو ہر دکھا یا کر تے تھے لیکن چونکہ آ پ ؓ تھو ڑا بہت پڑھنا لکھنا جانتے تھے لیکن جب اسلام کے رنگ میں رنگے گئے تو عقل و دانش کی منزلیں طے کر تے چلے گئے اور پھر حکو مت سنبھالی تو لگتاتھا جیسے آپ پیدا ہی حکمرانی کے لیے ہو ئے تھے’’ اولیات عمرؓ ‘‘ سے کون واقف نہیں آپؓ نے اسلامی ریا ست کو جدید عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطا بق استوار کیا۔ ایسے عادلانہ اقدامات کئے کہ مدینے کی ریا ست کو ایرانی و رومی امپا ئر کے برابر لا کھڑا کیا بلکہ ایرانی اور رومی سلطنتوں کا سارا کروفر شان اور دبدبہ ریت کے ذروں کی طرح بکھر کر رہ گیا آپ ؓ ہی کے عہد میں سن ہجری کا آغاز ہوا مستقل فوج کا قیا م بھی آپؓ ہی کا کارنامہ ہے اتنی عظیم الشان سلطنت کے حکمران ہو نے کے با وجود آپ ؓ کے کر تے میں با رہ با رہ پیوند لگے ہو تے تھے آپ ؓ کی بیٹی اور ہما ری ماں حضرت حفصہؓ نے کہا با با جان نیا کر تا بنوا لیجئے آخر اِس پر انے کر تے میں اور کتنے پیوند لگا ئیں گے تو فاروق اعظم ؓ بو لے جان پدر میں مسلمانوں کے مال میں اور اِس سے زیا دہ تصرف نہیں کر سکتا یہ تھے فاروق اعظمؓ جن کے دور میں قیصر کا تا ج اُچھلا کسرٰی کا تخت الٹا مگر اس قدر کامیابی اور عزت کے باوجود عمرؓ کا مزاج نہ بدلا اور پھر کون بھول سکتا ہے جب فاروق اعظمؓ بیت المقدس فتح ہو نے پر یروشلم کی چابیاں وصول کر نے کس فقیرانہ شان سے گئے کہ غلام اونٹ پر سوار تھا اور امیر المومنینؓ نے اونٹ کی با گ تھامی ہو ئی تھی امیروں کی آن بان سے کون واقف نہیں شاہی درباروں کے آداب سے سب واقف تھے رئیسانہ ٹھاٹ بھاٹھ سے بھی ہر کو ئی آگاہ تھا مگر اِن میں سے کو ئی بھی چیز فاروق اعظمؓ کو متا ثر نہ کر سکی حکو مت اور اقتدار نہ تو حضرت عمرؓ پر اثرا ندازہو سکی اور نہ ہی آپ ؓ کے انداز حکمرانی پر ایک بار شام کے سفر کے دوران راستے میں ایک بیوہ کے خیمے کے پاس رکے اُس سے ملاقات ہو ئی تو آپ ؓ نے اُس بیوہ سے پو چھا بی بی آپ کو معلوم ہے کہ امیر المومنینؓ کہا ں ہیں تو اُس بیوہ نے بے رخی سے کہا سنا ہے شام سے چل پڑا ہے تو آپؓ نے دوبا رہ پو چھا امیر المومنینؓ کے حالات سے اتنی بے رخی اور بے خبری تو بڑھیا بو لی جب امیر المومنینؓ کو ہما ری خبر پتہ نہیں تو ہمیں اُس کے حالات یا مقام سے کیا مطلب ‘فاروق اعظمؓ نے فوری طور پر اُس کی ضروریات پو ری کیں اورمقامی اہل اقتدار کو اُس کی مکمل خبر گیری اور ضروریات کا خیال کر نے کا حکم جا ری کیا آپؓ کا شفقت بھرا رویہ اور لہجہ دیکھ کر بڑھیا بو لی کاش عمر کی جگہ تم امیر المومنینؓ ہو تے اِس واقعہ کے بعد جب اکثر عمر فاروقؓ اُس بڑھیا کو یا د کر تے اور کہا کر تے خلافت کو مفہوم تو مجھے شام کی اُس بڑھیا نے سمجھایا تھا یعنی جو امیر عوام کے حالات سے بے خبر ہو اسے امارت کا کو ئی حق نہیں پہنچتا ۔ ایک روز رسول کریم ﷺ نے اپنے اصحابؓ سے سوال کیا تم لوگوں میں آج کسی نے کسی کا جنا زہ پڑھایا تو حاضرین میں حضرت عمرؓ نے ہاں کہی ، پھر پو چھا کسی نے کسی مریض کی عیا دت کی تو عمرؓ بو لے میں نے تو آقا کریم ﷺ نے پھر پو چھا آج صدقہ کس نے دیا تو عمر بو لے میں نے نبی رحمت ﷺ پھر بو لے آج روزے سے کون ہے تو عمر بو لے یا رسول اللہ ﷺ آج میں روزے سے تھا تو شہنشاہِ دو عالم ﷺ نے فرمایا آپؓ کو جنت ضرور ملے گی یعنی جنت میں عمرؓ کا جانا اب یقینی ہو گیا ہے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ قیامت کے دن جب مجھے اٹھا یا جا ئے گا تو میں ابو بکرؓ اور عمرؓ کے درمیان ہو نگا اور پھر ہم تینوں حرمین کے درمیان کھڑے ہو جا ئیں گے اِس کے بعد اہل مدینہ اور اہل مکہ آئیں گے حضرت علیؓ فرماتے ہیں ایک دن مسجد نبوی ﷺ میں میرے اور رسول اللہ ﷺ کے سوا کو ئی بھی نہ تھا کہ اتنے میں ابو بکرؓ اور عمرؓ ایک دوسرے کا ہا تھ تھامے ہو ئے تشریف لا ئے انہیں دیکھتے ہی سرور کا ئنا ت ﷺ بو لے علی دیکھنا انبیاء اور مرسلین کے ماسوا جتنے اہل جنت ہیں خوا ہ وہ قدیم عہد سے ہوں یا جدید عہد سے یہ ان تمام کے سردار ہو نگے ایک رات حضرت عمرؓ احوال قوم کے لیے نکلے تو حضرت طلحہؓ کی آپؓ پرنظر پڑ گئی اور وہ آپ ؓ کے پیچھے پیچھے چلنا شروع ہو گئے عمرؓ ایک مکان میں داخل ہو ئے وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک اندھی اپا ہج بڑھیا بیٹھی ہوئی ہے طلحہؓ نے پو چھا یہ آدمی تمہا رے پا س یہاں کیوں آتا ہے تو بڑھیا بو لی یہ آدمی بہت پرانا ہے میری خدمت کے لیے آتا ہے اور میرے دکھ درد کا علاج اور ضروتیں پو ری کر کے چلا جا تا ہے طلحہؓ نے یہ سن کر کہا طلحہؓ تجھے تیری ماں روئے تو عمرؓ کے نقشِ قدم پر چلنے کا سوچ رہا تھا وہ تو بہت عظیم ہیں جب شہا دت کا وقت آیا تو ساتھیوں نے کہا کسی کو اپنا جا نشین مقرر کر دیں اور نہیں تو اپنے بیٹے عبداللہ کو ہی جانشین بنا دیں تو�آپؓ لاپرواہی سے بولے کیا میں اُسے مسلمانوں کا امیر بنا دوں جسے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ڈھنگ بھی نہیں آیا جب اصرار کیا گیا تو آپؓ نے کہا اگر خلافت ایک نعمت تھی تو عمرؓ اور اس کے خاندان نے وافر حصہ پا لیا اور اگر آزمائش ہے تو میں اپنی اولاد اِس آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتا یہ کہہ کر پہلو بچا لیا اور دنیا توشہر نبی ﷺ کی ہوا کو ترستی ہے مگر عمرؓ قیا مت تک نبی رحمت ﷺ کی دامن کی ہوا ملتی رہے گی سرور دو جہاں ﷺ کی ذات اقدس کا ایک پل کا سایہ زندگی کی کڑی دھوپ کے سفر کے لیے کا فی ہے جب فاروق اعظمؓ کو قیامت تک اِس سا ئے میں رہنے کا شرف حاصل ہے محبوب خدا ﷺ نے انہیں اللہ سے مانگ کر لیا تھا تو مرادِ نبوت کو خود سے دور کیسے کر لیتے۔

note

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top