شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / اطہر مسعودوانی / مری اور آزاد کشمیر کا سیاحتی مقابلہ!

مری اور آزاد کشمیر کا سیاحتی مقابلہ!

انہی دنوں سوشل میڈیا پہ دارلحکومت اسلام آباد ،راولپنڈی سے قریب واقع ‘ہل سٹیشن’ مری میں سیاحوں کے ساتھ غیر مناسب سلوک کے خلاف  سرگرم مہم جاری ہے ۔گزشتہ 35سالوں میں مری کا حلیہ تیزی سے بگڑتا چلا آیا ہے۔بے ہنگم تعمیرات نے مری کو سیمنٹ اور کنکریٹ کے ایک ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔مری کا مرکزی مقام مال روڈ ایک گلی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔جنہوں نے تین چار عشرے قبل مری دیکھا ہے،وہ آج کے مری کو دیکھ کر افسوس کرتے ہیں اور اسے ایسی جگہ نہیں پاتے جہاں سکون اور تفریح کے لئے آیا جا سکے۔مجھے یاد ہے کہ بچپن میں مال روڈ پہ ہتھ گاڑی پہ کوئی میم مال روڈ سے گزر رہی ہوتی تھی اور سب اسے رشک سے دیکھتے تھے۔کوئی بھی شام کے وقت مال روڈ پہ غیر مناسب کپڑے پہن کر نہیں جاتا تھا۔کشمیر پوائنٹ سے پنڈی پوائنٹ تک مال روڈ کے دو متوازی جگہوں کے درمیان واقع سنگل سڑک( مال روڈ) پہ واکنگ کرنے کا ایک الگ ہی منظر اور ماحول ہوتا تھا۔سکول کے دور میںگرمیوں کے دو سیزن مری میں رہنے کا اتفاق ہوا۔اس وقت اگر کوئی ساتھی مال روڈ پہ رش میں بچھڑ جاتا تو اس کو ڈھونڈنے کا بہترین مقام جی پی او چوک تھا۔ہر کسی کا گزر جی پی او چوک سے ضرور ہوتا تھا۔اکثر لوگ جی پی او کی سیڑیوں پر بیٹھ جاتے، مال روڈ پہ رواں خوش و خرم ہجوم کو دیکھتے اور خوش گوار ہوا کے مزے لیتے۔اس وقت بھی دکاندار اشیاء کی بہت زیادہ قیمت لگانے پریہی جواب دیتے کہ گرمیوں کے دو تین ماہ ہی سیزن ہوتا ہے ،باقی سال کوئی کاروبار نہیں ہوتا۔مزے کی بات کہ وہ اپنا یہ مخصوص جملہ موسم گرما کے علاوہ ،موسم بہار،خزاں حتی کہ برفباری کے موسم میں بھی دہراتے رہتے تھے۔تین سینما گھر تھے۔ایک اپر اڈے کے قریب، دوسرا جی پی او چوک کے ساتھ حبیب بنک کے اوپر تار گھر سے آگے اور تیسرا سامنے کی جانب ہوٹلوں کی گلی سے گزر کر۔سینما میں دن کے پہلے اوقات میں سپیشل شو بھی لگتے تھے۔گھر والے پکانے کے لئے سامان لینے بازار بھیجتے تو میں لگے ہاتھوں فلم کا سپیشل شو بھی دیکھ آتا۔سکول کے دور میں دو دوستوں(مظفر عرف کاکا مرحوم اور سہیل) کے ساتھ مری سیر کرنے کا ایک واقعہ آج بھی یاد ہے۔دوپہر ڈھلنے کے وقت بس سٹینڈ سے مال روڈ کی چڑہائی چڑھ کر ہانپتے ہوئے مال روڈ پہنچے تو یہی الفاظ زبان پر تھے کہ پہلے ہوٹل جاکر کھانا کھاتے ہیں۔مظفر کہنے لگا کہ میرا ایک دوست ہے ،دکان کا بزنس کرتا ہے،اسی کے پاس چل کر کھانا کھاتے ہیں۔ہم دونوں نے اصرار کیا کہ پہلے ہوٹل سے کھاتے ہیں بعد میں اس دوست کی طرف جائیں گے۔ لیکن مظفر مرحوم نے انکار میں کہا کہ وہ میرا بہت اچھا دوست ہے،وہاں اطمینان سے کھانا کھائیں گے۔بادل ناخواستہ اس کے پیچھے چل پڑے۔ایک دکان میں داخل ہوئے تو ایک شخص نے پرتپاک انداز میں ہمارا خیر مقدم کیا۔ان صاحب کی گرمجوشی دیکھ کر ہمیں اطمینان ہوا کہ ان کی طرف سے جلد ہی کھانے کا آڈر کیا جائے گا۔وہ صاحب ہم سے پوچھنے لگے کہ آپ اس جگہ گئے ہیں؟ وہ جگہ آپ نے دیکھی ہے؟ ہم نے جواب دیا کہ ابھی پہنچے ہیں۔وہ جگہوں نے نام بتانے لگے کہ وہاں ضرور جانا۔تھوڑی دیر کے بعد وہ صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے”یہ وقت کھانے کا نہیں ہے اور چائے آپ لوگ پیتے نہیں ہیں،  آپ تھوڑی دیر دکان پر بیٹھیں میں جا کر کھانا کھا کر آتا ہوں۔اس کے بعد مری کی اس سیر کے دوران مظفر خاموشی سے ہمارے کہنے پر عمل کرتا رہا۔  مری میں سیاحوں کی بدسلوکی کے اتنے واقعات سامنے آئے ہیں کہ یہ ان دنوں ایک موضوع بن گیا ہے۔موضوع بننے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اگلے ماہ جون سے سکولوں میں چھٹیاں شروع ہو رہی ہیں اور گرمیوں کے چند ماہ پر فضا سیاحتی مقامات پہ لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔مری میں سیاحوں سے بدسلوکی کے اتنے واقعات سامنے آنے پر ” بی بی سی” نے بھی اس مسئلے پر ایک رپورٹ پیش کی۔عوامی ردعمل پر مری میں مقامی افراد کی طرف سے سیاحوں کو پھول پیش کرنے کا طریقہ بھی اختیار کیا گیا ہے لیکن بات زبانی خوش آمدید کہنے کی نہیں بلکہ سیاحوں کو اپنے علاقے میں مہمان سمجھ کر ان کو احترام اوراچھا مقام دینا ہے۔بات صرف سیاحوں کی ہی نہیں، مری اور گرد و نواح کے علاقوں میں ٹریفک کے حوالے سے بھی اسی طرح کے غیر مناسب روئیے کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ایسا ممکن نظر نہیں آتا کہ مقامی روئیے راتوں رات  بدل جائیں گے ۔پنجاب کے لوگوں کے لئے مری کی صورت ایک قریبی پر فضا مقام میسر ہے۔گرم علاقوں کے لوگ مری اور گلیات آتے رہیں گے تاہم مقامی طور پر سیاحوں کے ساتھ ناروا سلوک کا گہرا اثر ضرور پڑے گا۔خصوصا اس صورت بھی کہ مری سے قریب ہی آزاد کشمیر کے کئی علاقے مری سے کہیں زیادہ اچھے، پرفضا ، خوبصورت، ٹھنڈے پانی اور شاندار نظاروں والے مقامات ہیں اور آزاد کشمیر میں سیاحتی سہولیات کی فراہمی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔مری میں سیاحوں سے بدسلوکی کے خلاف عوامی ردعمل کی مہم میں آزادکشمیر کے مختلف حلقوں کی طرف سے سیاحوں کو آزاد کشمیر کے پرفضا مقامات آنے کی دعوت دی گئی ہے۔آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کے لئے کسی حد تک کام تو ہوا ہے لیکن ابھی بھی اس حوالے سے بہت کچھ کیا جانا ابھی باقی ہے کہ جس سے پاکستان سے لوگ سیاحت کے لئے آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں کا انتخاب کریں۔اگر آزاد کشمیر میں سیاحت کا فروغ مطلوب ہے توسہولیات کی فراہمی اور محفوظ سیاحت کے اقدامات کرنا ناگزیر ہے۔آزاد کشمیر میں بھمبر،میر پور سے لیکر تائو بٹ نیلم ویلی تک مختلف نوعیت کے شاندار سیاحتی مقامات ہیں۔آزاد کشمیر میں سیاحت کو صنعت کا درجہ دینے کی بات کی جاتی ہے لیکن سیاحتی بنیادی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ کئی دیگر اہم امور بھی ایسے ہیں جو آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کے لئے بنیادی شرط کی حیثیت رکھتے ہیں۔مظفر آباد ڈویژن میں شامل ضلع نیلم کے مقام کنڈل شاہی میں ایک پیدل پل منہدم ہونے سے پاکستان کے متعدد طلبہ و طالبات نالہ جاگراں میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ سے نالہ جاگراں کے ساتھ کٹن کی طرف جاتے ہوئے ،تھوڑے ہی فاصلے پہ نالہ جاگراں پہ قائم مصنوعی آبشارسے آگے ایک کمزور سا پل تھا جس پر ایک ساتھ کئی افراد کے کھڑے ہونے کی وجہ سے پل منہدم ہو گیا اور متعدد سیاح نوجوان نالہ جاگراں میں بہہ گئے۔چند سال قبل اس پل کی جگہ بغیر سہارے والا لکڑیوں کا ایک چند انچ ہی چوڑا پل نما تھا۔یہ نالے کے پار کی آبادی کا راستہ تھا۔بعد میں اس خطرناک پل نما کی جگہ سہارے والا ذرا بہتر پل بنا یا گیا۔یہی پل آج زیادہ بوجھ کی وجہ سے گر گیا اور متعدد قیمتی انسانی جانوں کے نقصان اور ایک سانحے کا سبب بنا۔نیلم ویلی کے اکثر گھروں کا کوئی نا کوئی شخص سلائیڈنگ،پہاڑ سے پتھر گرنے،فرفانی تودے گرنے،ٹریفک حادثیس یا ڈوب کر ہلاک ہو چکا ہے۔نیلم ویلی میں آنے والے سیاح مقامی نوعیت کے خطرات سے لاعلم ہوتے ہیں۔نیلم ویلی میں سیاست کے فروغ کے لئے اس طرح کے حادثات کا تدارک لازم ہو جاتا ہے۔اس حوالے سے سیاحوں کو مقامی سطح پہ رہنمائی مہیا ہونی چاہئے۔اسی طرح نیلم ویلی میں سیاحوں کے ٹریفک حادثات کے بھی متعدد واقعات ہو چکے ہیں،اس حوالے سے بھی رہنمائی،گائیڈنس کا اہتمام کیا جانا ضروری ہے۔عین سیز فائر لائین کے سامنے واقع نیلم ویلی کی اس حساس حیثیت کے پیش نظر بھی سیاحوں کی ہر حوالے سے مکمل رہنمائی حکومت ہی نہیں بلکہ نجی شعبے اورسماجی سطح پر بھی ضروری ہے۔نیلم ویلی میں سیاحت کے فروغ سے مقامی سطح پر رہائش ،طعام وغیرہ سے وابستہ کاروبار کرنے والے،مقامی لوگ مستفید ہوتے ہیں۔نیلم ویلی کشمیر کے قدرتی حسن کا ایک نمونہ ہے۔اس علاقے میںسیاحت کے فروغ کے لئے سیاحوں کو ہر حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاحت کے فروغ کے لئے نیلم ویلی میںمحفوظ سیاحت کے اقدامات کرنا  ناگزیر ہے۔سیز فائر لائین ( لائین آف کنٹرول) پہ واقع نیلم ویلی میں ہزاروں کی تعداد میں سیاحوں کا آنا مقبوضہ کشمیر کی غلامی،جبر اور آزاد کشمیر کی آزادی کا ایک مدلل اور موثر منظر پیش کرتا ہے

error: Content is Protected!!