شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / نظریاتی سیاست-منظر و پس منظر!
loading...
نظریاتی سیاست-منظر و پس منظر!

نظریاتی سیاست-منظر و پس منظر!

asif iqbalہندوستانی معاشرہ چونکہ تکثیر ی معاشرہ ہے لہذا یہاں نہ صرف مختلف معاشروں کے رسم و رواج،عقائد و نظریات موجود ہیں بلکہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب کی رنگا رنگی بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں بے شمار مذاہب کے لوگ صدیوں سے مل جل کر رہتے آئے ہیں۔ان مذاہب میں آسمانی مذاہب ہیں تو بہت سے ایسے بھی ہیں جنہیں انسان نے خود تخلیق کیا ہے۔نیز وہ طرززندگی بھی ،جسے مخصوص شناخت کے ساتھ مذہب کا رنگ دیا گیا ۔یہ طرز زندگی جسے درحقیقت مذہب نہیں کہا جاسکتا ،اس کے باوجود وہ اپنی مخصوص شناخت رکھتی ہے۔دوسری جانب ہندوستان میں ایسے افراد کی تعداد بھی موجود ہے جو نہ مذہب سے اور نہ ہی مذہبی تعلیمات سے اپنا رشتہ استوار کرتے ہیں۔یہ لوگ خود کو ملحد اور مذہب بیزار لوگوں میں شمار کرتے ہیں اوران کی بڑی تعداد عموماً اشرافیہ پر منحصر ہے۔موجودہ ہندوستان میں نظریاتی سیاست کی بات کی جائے تو یہاں ہندتو کے علمبردار پیش پیش ہیں ۔ وہیں کمیونسٹ(جن میں کچھ لوگ ملحد ہیں تو بڑی تعداد رسم و رواج کے اختیار کرنے تک مذہبی رنگ میں رنگی ہوئے ہیں)بھی اچھی خاصی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ساتھ ہی سوشلسٹ اور سوشلزم کے علمبرداروں کی تعداد بھی کافی ہے۔نیز ایسے افراد بھی بڑی تعدا د میں موجود ہے جو خود کو ہارڈ کور ہندوتو کے علمبردار وں کے زمرے میں رکھنا توپسند نہیں کرتے ،اس کے باوجود سافٹ کور ہندوتو کے علمبردار کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔ملک میں نکسل واد یا نکسل ازم کے دعوے داروں کی آج کمی نہیں تو وہیں حق آزادی و خود مختاری کے دعوے داربھی خاصی تعداد میں نظر آتے ہیں۔جہاں سوشل لبرل ازم اور علاقائی اصلاحات کے حامیوں کی بھی خاصی تعداد پائی جاتی ہے تو وہیں مذہبی و ثقافتی بنیادوں پر اصلاحی کوششوں کے علمبردار بھی نظر آتے ہیں۔ان سب کے علاوہ زبان و علاقہ کی بنیاد پر نظریاتی سیاست کی جڑیں بھی کافی گہری ہیں۔یہ تمام وہ لوگ ہیں جن کے نظریات نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ عقلی دلائل پر بھی پورے اترتے ہیں۔لہذا کسی کو بھی کسی دوسرے پر نہ فوقیت دی جاسکتی ہے اور نہ ہی نظر انداز کیا جانا چاہیے۔یہ الگ بات ہے کہ ایک نظریہ کے ماننے والے دوسرے نظریہ سے اختلاف رکھتے ہیں،اور اس کی گنجائش بھی ہر معتدل مزاج سماج میں ہونی چاہیے۔نیزہندوستانی معاشرہ کی اب تک یہی وہ خوبی بھی ہے جس کے نتیجہ میں اس قدر بڑے پیمانہ پر نظریاتی اختلافات ہونے کے باوجود ،معاشرہ اُس درجہ منقسم نہیں ہے،جس قدر کہ یہاں اختلافات موجود ہیں۔اس موقع پر لازماً یہ سوال بھی اٹھنا چاہیے کہ کیا ہندوستانی سیاست جوبظاہر نظریاتی بنیادوں پر حد درجہ کشمکش کا شکار ہے،عملی میدان میں بھی واقعتا اختلافات کے نتیجہ میں ہر سطح پر منقسم ہے؟جواب مجھے نہیں بلکہ آپ کو تلاش کرنا ہے۔اس کے باوجود فی الوقت ہم ایک نظریہ اور اس کی عملی سیاست کی بات کرتے ہیں۔توقع ہے یہ مختصر گفتگو نتیجہ اخذ کرنے میں ہماری مدد کرے۔
اگر بات کی شروعات اشتراکیت سے کی جائے تو اس کا بنیادی نظریہ استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ ہے۔پھر چونکہ اشتراکیت سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے ردّ عمل کے طور پر ابھری تھی لہذا اس کا پورا زور جائز و ناجائز ذرائع سے سرمایے کو بڑھانے اور معیشت کے ہر مسئلے کو مارکٹ فورسز کی گرفت سے نجات دلانا ہے۔اس نظریہ میں مزدوروں کی حمایت کا نعرہ تو دیکھنے کو ملتا ہے،اس کے باوجود فلاحِ عامہ اور غربا کی بہود کا کوئی واضح اہتمام نہیں ہے۔اِشتراکی نظریے کے مطابق آمدنی کی تقسیم کے لیے رسد و طلب کا فارمولا ایک ایسا بے حس فارمولا ہے۔جس میں غریبوں کی ضروریات کی رعایت نہیں ہے۔اشتراکی نظریہ میں مارکٹ کی منصوبہ بندی کو اہمیت حاصل ہے۔یعنی کیا پیدا کیا جائے؟ کیوں پیدا کیا جائے ؟کس کے لیے پیدا کیا جائے؟ اور کتنا پیدا کیا جائے؟ یعنی یہ تمام بنیادی فیصلے جو معیشت سے تعلق رکھتے ہیں ،انہیں حکومت کو خود اپنی منصوبہ بندی میں شامل کیا جاتا ہے۔اشتراکی معیشت میں انفرادی ملکیت ( Private Ownership) کا تصّور نہیں ہے۔زمین، جنگلات، دریا، کارخانے، عوامی فلاحی ادارے، اسکول، کالجز، ہسپتال وغیرہ سب سرکار کی ملکیت قرار پاتے ہیں۔اشتراکیت میں انفرادی مفادات کو اجتماعی مفادات کے تابع رکھا جاتا ہے۔اس کے برخلاف سرمایہ دارانہ معیشت میں تمام معاشی سرگرمیاں ذاتی مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔اشتراکی نظریہ کا اہم ترین اصول ،ملکی پیداوار سے حاصل ہونے والی آمدنی کو منصفانہ طور پر ملکی آبادی میں تقسیم کیا جانا ہے۔یعنی آمدنیوں میں توازن قائم کرتے ہوئے امیر و غریب کے درمیانی فاصلے کو کم کیا جاتا ہے۔دوسری جانب کال مارکس کا نقطہ نظر اخلاقیات کے سلسلے میں منفی ہے۔ ان کے نزدیک سچ جھوٹ کی کوئی حیثیت و اہمیت نہیں ہے۔ اشتراکی انقلاب برپا کرنے کے لیے مکر، فریب، دغا، جھوٹ اور قتل و غارت سب کچھ جائز ہے۔ اس کے بقول دنیا کی تمام جنگیں وسائل پیداوار پر قبضہ کرنے کے لیے لڑی گئیں۔ جنگوں کی وہ نہ صرف مادی تعبیر کرتا ہے اور تاریخ کی موجودہ صورت کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتا ہے۔ بلکہ ہر تاریخی واقعہ میں طبقاتی کشمکش ڈھونڈ نکالتا ہے۔ان تمام اصولوں، تصورات اور نظریہ کے باوجود نہ ہندوستان کی اُن ریاستوں میں جہاں نظریہ کے حاملین کا ایک طویل عرصہ اقتدار رہا اور نہ ہی ہندوستان کے علاوہ دنیا کے دیگر خطوں میں یہ جہاں یہ حکومتیں قائم ہوئیں اور ہیں،نظریہ پر عمل درآمد ہوتا نظر آتا ہے۔بلکہ واقعہ یہ ہے کہ جس کی ردّ میں اس نظریہ فروغ ملا تھا،یعنی جس سرمایہ دارانہ نظام کی سفاکیاں اورتشدد ،ٹھیک وہی سفاکیاں اور تشدد اُن تمام مقاما ت پر موجود ہے ،جہاں اس نظریہ کو اقتدار حاصل ہوا یا ہے۔تیسری جانب یہ نظریہ مذہب کو افیون سے تعبیر کرتا ہے،جو ایک نشہ کی لت میں مبتلا انسان کے لیے ضروری ہے۔لہذا عائلی اور معاشرتی بنیادوں پر اخلاقی پستی نظریہ کے حاملین کی مخصوص پہچان ہے۔
مجھے وہ مجلس اچھی طرح یاد ہے جس میں ہم نے اس بات کا تذکرہ کیا تھا کہ ہندوستان چونکہ ایک تکثیری سماج پر مشتمل ملک ہے لہذا یہاں دیگر مذاہب کے علاوہ ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں جو نہ خدا پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی خدائی تعلیمات و احکامات پر عمل پیرا ہیں، اس کے باوجود ہم سب مل جل کر رہتے ہیں اور یہی ہم ہندوستانی لوگوں کی سب سے بڑی خوبی و مخصوص پہنچان ہے۔اس کے باوجود چند مٹھی بھر شر پسندلوگ اس پہچان کو مٹانے میں لگے ہیں۔جن کا بائیکاٹ کرنا نہ صرف ہمارا فرض ہے بلکہ ملک کی سالمیت اور امن و امان کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بھی۔گفتگو کے بعد آئی آئی ایم کے ریٹرائرڈ پروفیسر نے کہا تھا کہ آصف اقبال کی یہ بات کہ ہندوستان میں ایسے افراد رہتے ہیں جو خدا کو نہیں مانتے ،یہ صحیح ہے۔اورمیں نہیں جانتا کہ یہ بات میرے حق میں مثبت ہے یا منفی اس کے باوجود مجھے خوشی ہے کہ میں اُنہیں لوگوں میں سے ہوں جو خدا اور مذہب کو افیون سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ واقعتا میرے نزدیک اور دنیا میں جتنے بھی مسائل آج درپیش ہیں وہ اسی خدائی تصور یا مذہب کی دین ہیں۔برخلاف اس کے میں خدا ئی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں۔کس خدا کو مانتا ہوں اور کیسے؟یہ میں کسی کو نہیں بتاتا،نہ اس کی تبلیغ کرتا ہوں،یہ میرے اور میرے خدا کے درمیان کا معاملہ ہے۔اُس موقع پر گرچہ ہم خاموش رہے،اس کے باوجود لوگوں نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ دنیا میں پہلی اور دوسری جنگ عظیم اور اس کی تباہ کاریاں ،ان لوگوں کی جانب منسوب نہیں ہوتیں جو خدا کو ماننے والے یا مذہبی لوگ کہلاتے ہیں۔لیکن جس نکتہ پر میں آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ منیجمنٹ کے معروف ترین تعلیمی ادارے آئی آئی ایم کے ریٹائرڈ پروفیسر یا تو خود زندگی بھر خدا اورمذہب کو ماننے نہ ماننے میں بری طرح کنفیوژ رہے یا پھر گفتگو کا یہ انداز دوسروں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ ٹھہرا۔اس سب کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کا ایک طبقہ آغاز ہی سے کئی محاظ پر ان لوگوں کو اپنا ہمنوا سمجھتا آیا ہے ۔۔۔۔(جاری)۔

note

Share Button
loading...
loading...

About admin

loading...
Scroll To Top