شہ سرخیاں
Home / بین الاقوامی / جذبہ جہاد،شوق شہادت اور کشمیریوں سے محبت خون میں شامل ہے،عبد اللہ حمید گل
loading...
جذبہ جہاد،شوق شہادت اور کشمیریوں سے محبت خون میں شامل ہے،عبد اللہ حمید گل

جذبہ جہاد،شوق شہادت اور کشمیریوں سے محبت خون میں شامل ہے،عبد اللہ حمید گل

برمنگھم ( ایس ایم عرفان طا ہر سے ) جذبہ جہاد ، شوق شہادت اور کشمیریوں سے محبت خون میں شامل ہے، نام نہا د جمہو ری نظام نے پاکستان کو کرپشن اقرباء پروری اور لا قانونیت کے سوا کچھ نہیں دیا ہے تحریک جوانا ن پاکستان سیاسی ہے لیکن انتخابی نہیں، جوا ں سال نسل کو اپنے ملک کے تحفظ احیاء دین اور قوم کی بقاء کی خاطر میدان عمل میں نکلنا ہو گا ملا نے ہمیں دین کے اندر سیاستدان نے دین سے با ہر تقسیم کردیا ہے ، آج ہم سندھی بلوچی پٹھان پنجابی اور سب کچھ ہیں لیکن پاکستانی نہیں ہیں تحریک جوانان پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہے ،قائد کے نظریات اور اقبال کی فکر نا پید ہوچکی پاکستان میں قیادت کا فقدان ہے اقتدار کی ہوس نے حکمرانو ں اور سیاستدانوں کو کھوکھلا کرکے دکھ دیا ہے ۔ ان خیالا ت کا اظہا ر پاکستانی فوج کے عظیم سپہ سالا ر اور سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل حمید گل کے صاحبزادے محمد عبد اللہ حمید گل چیئرمین جوانان پاکستان و کشمیر اور مرکزی رہنما پاکستان دفا ع کونسل نے یہا ں مقامی ہال میں اپنے اعزاز میں دی جا نے والی پروقار استقبالیہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کے دوران کیا ۔ میزبانی کے فرائض برادر ثاقب نے سرانجا م دیے جبکہ اس موقع پر بیرسٹر عبد الرشید مرزا، محمد شرف ، حافظ محمد ادریس ، محمد غالب ،محمد سلیمان ، محمد رشید ، جا وید عزیز ، منیر احمد رضا، داؤ د احمد ، افتخار احمد جگنو، مسعود احمد، شفیق قاسم، افضل شاہ، اسحاق نسیم، جما عت علی شیرازی ، نیاز احمد، بد ر اقبال ، علی محسن، اعجاز شائق ، ڈاکٹر خرم بشیر ، محمد مظہر اور دیگر نے خصوصی شرکت کی ۔ عبد اللہ حمید گل کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آزادی کے لیے جان دینا بھی اور دشمن کی جان لینا بھی جا نتے ہیں ۔جذبہ جہا د شوق شہادت اور کشمیریوں سے محبت کی تروتا زگی کبھی بھی دل سے جا نہیں سکتی ہے ۔ جب تک پاکستانی قوم کو کوئی ایماندار اور دیانتدار قیادت میسر نہیں آتی تو فکری اور نظریاتی فتح ناممکن ہے ۔ پاکستان کی آزادی ادھوری ہے جس کی تکمیل کے لیے جوا ں سال نسل کو اپنا مو ئثر کردار ادا کرنا ہو گا ۔ پاکستانی نوجوانو ں کو دین اسلام شریعیت محمدی سے دور کرکے اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے بے راہ روی کا شکا ر بنایا جا رہا ہے ۔ درحقیقت دین سے دوری اوراتبا ع رسول سے بیزاری کی بدولت ہی ہمیں تنزلی اور پستی جھیلنا پڑ رہی ہے۔ معا شرے کی بہتری اور تطہیر کے لیے مسٹر اور مولوی کا فرق ختم کرنا ہو گا جبکہ ہما ری منزل اسلام ہونی چاہیے نہ کے اسلام آبا د ۔ آج کا حکمران خلفاء راشدین کے زریں اصولو ں کو چھوڑ کر قوم کو تا ریکی اور پسماندگی کی طرف لے کر جانا چاہتا ہے ۔مسلم امہ کا عروج اور سربلندی خلفائے راشدین کے دور کا عملی زندگی میں نفاذ ہے ۔ ظالم حکمران کے خلا ف کلمہ حق کہنا بھی جہاد ہے جو نوجوانو ں کی اولین ذمہ داری ہے استعما ر ی قوتو ں کے خلا ف مذاہمت جا ری ہے گی ۔ پاکستان جس بنیا د پر حاصل کیا گیا تھا اس کی طرف لوٹنا ہو گا ۔ پاکستان میں حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کا قیام اشد ضروری ہے ۔سوویت یونین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں پاکستانی مسلح افواج اور آئی ایس آئی کا کلیدی کردار رہا تا ریخ وہ دن بھی دیکھے گی جب پاکستانی مسلح افواج اور آئی ایس آئی امریکہ اور بھا رت کو بھی کئی ٹکڑوں میں تقسیم کردیں گے۔ قرآن اور اسلام کی حاکمیت ہی ہمیں دنیا میں عروج اور بلندی عطا کرسکتی ہے ۔ پاکستان کو سیاستدانو ں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تو حمزہ بلاول اور مونس الہیٰ کی ہی قیادت نصیب ہو گی ۔ اپنا کھویا ہوا وقا ر اور حقیقی ترقی کے حصول کے لیے شریعیت محمدی کا پرچا ر اور عدل و انصا ف کا معاشرہ قائم کرنا ہو گا ۔ قومیں نظریا ت سے بنتی ہیں اس کے لیے مہلک ہتھیا رو ں اور بے پنا ہ وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top