شہ سرخیاں
Home / پاکستان / پاناما کیس:عدالت نے وکیل پی ٹی آئی کو اگلی سماعت پر دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کردی
loading...

پاناما کیس:عدالت نے وکیل پی ٹی آئی کو اگلی سماعت پر دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کردی

panamaاسلام آباد(بیوروچیف)سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی سماعت چھ دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری کو آئندہ سماعت پر اپنے دلائل پینتیس منٹ میں مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔ سپریم کورٹ میں پاناما پیپرز کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی زیر صدارت پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی پی ٹی آئی کی جانب سے نعیم بخاری نے وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے پاناما لیکس کے معاملے پر ایوان میں جھوٹ بولا انہوں نے قطری شہزادے کا نام تک نہ لیا اس کے باوجود قطری شہزادے کا خط اور وزیر اعظم کے  موقف میں تضاد ہے۔ پی ٹی آئی وکیل نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کے صاحبزادے کا این ٹی این نمبر ہی نہیں ہے، مریم نواز وزیر اعظم کی زیر کفالت ہیں اور لندن فلیٹس کی بینیفیشل آنر ہیں، وزیر اعظم کو یہ بات گوشواروں میں ظاہر کرنا چاہیے تھی اپنے جوابات میں وزیر اعظم نے جدہ فیکٹری کے لئے بینکوں سے قرضہ لینے کا ذکر کیا اس کے ساتھ جدہ فیکٹری جون دوہزار چار میں ایک کروڑ ستر لاکھ ڈالر میں فروخت کرنے کا بتایا جب کہ لندن فلیٹس 1993 سے 1996 کے درمیان خریدے گئے،جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نےنون لیگ کے وکیل سے استفسار کیا کہ دبئی اسٹیل مل کی طرح جدہ اسٹیل مل کے لئے سرمایہ کہاں سے آیا جب کہ جسٹس اعجازالحسن نے استفسار کیا کہ سعودی بینکوں سے قرضہ کیسے لیا؟، جدہ فیکٹری کتنے میں اور کیسے فروخت کی گئی۔ عدالت میں پیش کئے گئے ضمنی جواب اور تقاریر میں تضاد ہے، دونوں مواقع پر کی گئی تقاریر میں بھی تضاد ہے۔ اس دوران نعیم بخاری نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے بقول تمام دستاویزات موجود ہیں جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ دستاویزات ہر جگہ موجود ہوں گی لیکن عدالت میں موجود نہیں ہیں۔پی ٹی آئی وکیل نعیم بخاری نےعدالت کو بتایا کہ گلف اسٹیل مل دو کروڑ دس لاکھ درہم میں فروخت ہوئی لیکن مل کی فروخت سے طارق شفیع کو ایک روپیہ تک نہیں ملا طارق شفیع نے اپنے بیان میں آدھا سچ بولا انہوں نے بیان حلفی میں کہا تھا کہ دبئی کا کاروبار بے نامی تھا جب کہ شہباز شریف نے طارق شفیع بن کر دستاویزات پر دستخط کیے۔اس موقع پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ لگتا ہے سب کچھ میاں محمد شریف نے کیا ہے، جدہ اور دبئی میں فیکٹریوں کے حوالے سے میاں شریف کے بچوں اور آگے سے ان کے بچوں نے کیا کردار ادا کیا؟اس موقع پر جسٹس عظمت نے وکیل پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اخبار جو چھپتا ہے اسے مان لیا جائےآپ کے موکل سےمتعلق انگریزی اخباروں میں تیس سال سےجوچھپ رہا ہے اس کو بھی مان لیں؟ آپ سونے میں کھوٹ کیوں ڈال رہے ہیں اور روز اپنے کیس میں اخباری خبروں کو کیوں لاتے ہیں اپنے ریمارکس میں جسٹس عظمت نے کہا کہ قطری شہزادے کا خط تصدیق شدہ نہیں،قطری شہزادے نے خط کس کو لکھا ،کیا اس کی قانونی حیثیت ہےِ؟ جسٹس اعجازالحسن نےنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر خط کی کوئی حیثیت نہیں اس کو کیوں پڑھیں عدالت نے پاناماکیس کی سماعت چھ دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر وکیل پی ٹی آئی نعیم بخاری کو پینتیس منٹ میں دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top