شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / بھائی پھیرو:محکمہ انہار اور شکاریات کی ملی بھگت سے ہیڈ بلوکی اور گردنواح میں سو ایکڑسرکاری اراضی سالہا سال سے مفت کاشت

بھائی پھیرو:محکمہ انہار اور شکاریات کی ملی بھگت سے ہیڈ بلوکی اور گردنواح میں سو ایکڑسرکاری اراضی سالہا سال سے مفت کاشت

بھائی پھیرو(نامہ نگار)محکمہ انہار اور شکاریات کی ملی بھگت سے ہیڈ بلوکی اور گردنواح میں اربوں روپے کی 2800 سو ایکڑسرکاری اراضی سالہا سال سے مفت کاشت- با اثر قبضہ گروپوں اورسرکاری محکموں نیحکومت کو اربوں کا ٹیکہ لگا دیا۔ دو دفعہ نیلامی منسوخ کراکے تیسری دفعہ پھر نمائشی نیلامی کرا کر اونے پونے نیلام کرکے ہزاروں ایکڑ اراضی چہیتوں کو الاٹ کرنے کی تیاریاں مکمل کرلیں۔کسان بورڈکی طرف سے نیلامی کا عمل شفاف بنانے کیلیے فوج کی نگرانی میں کران اور نیب سے تحقیقات کرنے کا مطالبہ ۔تفصیلات کے مطابق دریائے راوی کے ہیڈ بلوکی پر پانڈ ایریا اور محکمہ شکاریات کی 2800 ایکڑ اراضی کی نام نہاد نیلامی کرانے کیلیے تیسری دفعہ پھر تین اکتوبر اور چار اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے جبکہ اس سے قبل بھی دو دفعہ نیلامی کی تاریخیں مقرر کی گئیں اور اخبارات میں اشتہارات بھی دیے گئے مگر دونوں ہی دفعہ با اثر قبضہ گروپوں نے محکمہ نہر کی ملی بھگت سے نیلامی منسوخ کرا دی۔اب تیسری دفعہ پھر اربوں روپے کی سرکاری زمین کی نیلامی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے مگر با اثر قبضہ گروپ اور محکمہ نہر ملی بھگت سے اس اراضی کو اونے پونے داموں فروخت کرنے کیلیے متحرک ہو چکا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے اس اراضی پرگزشتہ نو سال سے با اثر افراد نے ناجائزقبضہ کر رکھا ہے اور اس زمین کو مفت کاشت کر کے محکمہ کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ اس طرح جگہ جگہ محکمہ انہار کی نہروں کے ساتھ ساتھ بھی ہزاروں ایکڑ اراضی پر لوگوں کا قبضہ ہے۔بلوکی ،جمبر اور دیگر کئی جگہوں پر بی ایس لنک کینال کے کنارے پر لوگوں نے قبضے جما کر کچی آبادیاں بنا رکھی ہیں۔محکمہ کے ریسٹ ہاؤسوں سے ملحقہ سینکڑوں ایکڑ اراضی بھی با اثر کاشتکاروں کے قبضہ میں ہے۔با وثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں ملک میں احتساب کا عمل شروع ہونے اور ہزاروں ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضے کی خبریں شائع ہونے پر حکومت پنجاب نے اس گھپلے کا نوٹس لیا جس پر محکمہ شکاریات نے فوری طور پر یہ اراضی دوبارہ محکمہ انہار کو واپس کر دی ۔پتہ چلا ہے کہ محکمہ انہار نے اربوں روپے کی زمین کے گھپلوں پر پردہ ڈالنے کیلیے دو دفعہ پہلے نام نہادنیلامی کی تاریخیں دیں مگر پر اسرار طور پر نیلامی منسوخ کر دی گئیں اب پھر تیسری دفعہ تین اور چار اکتوبر کو نیلامی کی تاریخ رکھی گئی ہے مگر با وثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اب اس اراضی کو اونے پونے داموں با اثر قبضہ گروپوں کو الاٹ کرکے اپنے گزشتہ اربوں کے گھپلوں پر مٹی ڈال دی جائے گی۔کسان بورڈ پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات حاجی محمد رمضان نے مطالبہ کیا ہے کہ پہلے سالہا سال مفت کاشت کرنے والے قبضہ گروپوں سے سابقہ اربوں روپے کے واجبات وصول کیے جائیں،قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچانے والے کرپٹ افسران کو نوکریوں سے بر خواست کیا جائے ہزاروں ایکڑ سرکاری اراضی کو قبضہ گروپوں سے واگزار کر کے اسے مارکیٹ ریٹ پر شفاف طریقے فوج اور رینجر کی زیر نگرانی نیلام کر دیا جائے ۔انہوں نے مطا لبہ کیا کہ ہیڈ بلوکی پر اربوں روپے کے اراضی سیکنڈل کی تحقیقات نیب سے کرائی جائے۔

error: Content is Protected!!