شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / بھائی پھیرو:شوگر ملوں کے رویے سے مایوس ہوکر کاشتکار نے اپنے گنے کے کھیت کو آگ لگادی

بھائی پھیرو:شوگر ملوں کے رویے سے مایوس ہوکر کاشتکار نے اپنے گنے کے کھیت کو آگ لگادی

بھائی پھیرو(نامہ نگار)شوگر ملوں کے رویے سے مایوس ہوکر کاشتکار نے اپنے گنے کے کھیت کو آگ لگادی۔بچوں کیلیے گندم کاشت نہ کر سکا تو کھاؤں گا کہاں سے۔کاشتکار کا موقف۔ابھی تو کاشتکار گنے کے کھیتوں کو آگ لگا رہے ہیں ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے کہ کسان خود سوزیاں کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔کسان بورڈ ۔تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں میگہ موڑ کے کاشتکار یعقوب نے شوگر ملوں کے رویے سے مایوس ہوکر اپنے ایک ایکڑ گنے کی فصل کو آگ لگا دیاور اس پر گندم کی فصل کاشت کردی۔کاشتکار نے بتایا کہ اس سیزن میں شوگر ملوں نے سیزن اتنا لیٹ کر دیا ہے کہ کاشتکار ہزاروں ایکڑ پر گندم کاشت نہیں کر سکے۔ملیں اونے پونے گنا خرید کرکاشتکاروں کو لوٹ رہی ہیں۔گنے کا ریٹ حکومت نے 180روپے فی من مقرر کر رکھا ہے مگر ملیں 120روپے فی من خرید کر کسانوں کو دن دیہاڑے لوٹ رہی ہیں۔اس نے بتایا کہ اگر گندم نہ کاشت ہوئی تو اسکے بچے بھوکے مر جائیں گے۔اس موقع پر کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی صدر نے بتایا کہ گزشتہ روز چونیاں میں بھی ایک کاشتکار نے اپنی پانچ ایکڑ گنے کی فصل کو آگ لگا دی اور گندم کاشت کر دی۔کسان شوگر ملوں کی لوٹ مار سے مایوس ہوچکے ہیں اور حکمران اور اپوزیشن بھی انکیلیے کچھ نہیں کرتی۔اربوں کی گنے کی فصل تباہ ہورہی ہے مگر حکومت اور انتظامیہ ان با اثر شوگر ملوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتی ۔ کسان رہنما نے کہا کہ لٹیری شوگر ملوں نے گنے کے کاشتکاروں کے کروڑوں روپے دبا رکھے ہیں.مگر حکومت خاموش تماشائی بنی ھوئی ہے اور کسان ذلیل و خوار ہو رھا ھے.ملک بھر کی دیگر شوگر ملوں نے کسانوں کے اربوں روپے دبا رکھے ہیں۔اب حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے شوگر مل مالکان متحد ہوکر گنے کے کاشتکاروں کو لوٹنے کیلیے متحد ہو چکے ہیں اور ملیں بند کرکے کسانوں سے اونے پونے گنا خریدنے کیلیے ایک ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ابھی تو مایس کسان اپنی فصلوں کو آگ لگا رہے ہیں یہ وقت بھی قریب ہے کہ کسان حکمرانوں کے گھروں کے باہر خود سوزیاں کریں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ از خود نوٹس لیکر لٹیری شوگر ملوں کے خلاف ایکشن لیکر کسانوں کو تباہ ہونے سے بچائے۔

error: Content is Protected!!