شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / بھائی پھیرو:سرائے مغل ،بھائی پھیرو،حبیب آبادسمیت ضلع قصورمیں باردانہ کی تقسیم میں گھپلے

بھائی پھیرو:سرائے مغل ،بھائی پھیرو،حبیب آبادسمیت ضلع قصورمیں باردانہ کی تقسیم میں گھپلے

بھائی پھیرو(نامہ نگار)سرائے مغل ،بھائی پھیرو،حبیب آباداور ضلع قصور بھر میں باردانہ کی تقسیم میں گھپلوں ،لسٹوں سے ہزاروں کاشتکاروں کے نام غائب ہونے اور رشوت خور محکمہ خوراک کے ملازمین اور آڑھتیوں کی ملی بھگت کے خلاف کسان سراپا احتجاج ۔پرچیزنگ سنٹروں پر عوام کی سہولت کیلیے بجلی،پانی ،نایاب ۔پرچیزنگ کمیٹیوں میں محکمہ خوراک اور حکمرانوں کے چہیتوں کے نام شامل ،کسانوں کے حقیقی نمائندوں کے نام غائب۔گندم کی خریداری کیلیے رکھے گئے اربوں روپے کرپشن کی نذر ہو جائیں گے عام کسانوں کو اربوں کا نقصان ہوگا۔نیب نوٹس لے۔کسان رہنماؤں کا مظاہرین سے اظہار خیال۔تفصیلات کے مطابق سرائے مغل سے دور حبیب آباد میں قائم سرائے مغل گندم پرچیزنگ سنٹر پر گزشتہ روز صدر کسان بورڈ تحصیل پتوکی چوہدری محمد ممتاز کی قیادت میں کسانوں کی بڑی تعدادنے بار دانہ کی تقسیم میں گھپلوں ،گرداوری سے عام کسانوں کے نام غائب ہونے اور سرائے مغل کے سنٹر کو دوردراز حبیب آباد میں بنانے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور محکمہ فوڈ کے افسران کے خلاف سینہ کوبی کی ۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے صدر کسان بورڈ ضلع قصور رائے محمد افضل کھرل نے کہا کہ ضلع بھر کے پرچیزنگ سینٹروں پر عام کسانوں کے نام گندم کی شائع شدہ فہرستوں سے غائب ہیں ۔جبکہ عام کسانوں کی گندم کھلے آ سمان تلے پڑی خراب ہو رہی ہے کسان بچارے سینٹروں کے دھکے کھا کھا کر حکومت کو گالیاں دیتے ہوئے واپس چلے جاتے ہیں ۔ گیارہ سو روپے سے ساڑھے گیارہ سو روپے فی من گندم خرید کر مڈل مین اپنی تجوریاں بھر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی گندم پالیسی صرف اور صرف حکمران طبقے اورکرپٹ افسران کو نوازنے کیلیے ہے پورے ضلع قصور میں باردانہ کی تقسیم میں ہیرا پھیری اور گھپلے انتہا کو پہنچ چکے ہیں ۔حکومت تشہیری مہم کے ذریعے عوام اور کسانوں کو بے وقوف بنا رہی ہے ۔حکومت نے کمپیوٹرائزڈ تقسیم کا جھوٹا دعوی کیا جبکہ سنٹروں پر پٹواریوں کی ہاتھ سے لکھی فہرستوں میں حکمران طبقے کے چہیتے با اثر افراد اور آڑھتیوں کے نام شامل کیے گئے جبکہ حقدار لاکھوں کسانوں کے نام فہرستوں سے غائب ہیں۔کسانوں کی گندم اونے پونے خریدنے سے کاشتکاروں کو اربوں کا نقصان ہوگا۔پرچیزنگ سنٹروں پر عوام کی سہولت کیلیے بجلی،پانی ،نایاب ہے۔پرچیزنگ کمیٹیوں میں محکمہ خوراک اور حکمرانوں کے چہیتوں کے نام شامل ہیں جبکہ کسانوں کے حقیقی نمائندوں کے نام غائب ہیں۔گندم کی خریداری کیلیے رکھے پان کسان رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ گندم کی پرچیزنگ میں کرپشن کی تحقیقات نیب کے ذریعے کرائی جائے اور عام کسانوں کو باردانہ دے کر اربوں روپے کے مالی نقصان سے بچایا جائے

error: Content is Protected!!