شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پاکستان / نیب عدالت اسلام آباد میں ایون فیلڈ ریفرنس سماعت، نواز شریف کا بیان قلمبند

نیب عدالت اسلام آباد میں ایون فیلڈ ریفرنس سماعت، نواز شریف کا بیان قلمبند

اسلام آباد(بیوروچیف)نیب عدالت اسلام آباد میں ایون فیلڈ ریفرنس سماعت، نواز شریف کا بیان قلمبند ، سابق وزیراعظم نے پانامہ کیس فیصلے اور جے آئی ٹی کو نامناسب اور غیر ضروری قرار دیدیا، جے آئی ٹی ارکان کی سیاسی وابستگی کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق آج نیب عدالت اسلام آباد میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی ۔ نواز شریف نے اپنا بیان قلمبند کروایا۔ سابق وزیراعظم نے اپنے بیان میں سپریم کورٹ کے پانامہ کیس فیصلے اور جے آئی ٹی کو نامناسب اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔ انہوں نے جے آئی ٹی ارکان کی حریف سیاسی جماعتوں سے وابستگی کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ‘جے آئی ٹی رکن بلال رسول کی سیاسی وابستگی ان کی حریف جماعت تحریک انصاف سے ظاہر ہے،جے آئی ٹی رکن عامرعزیزجانبدار تھے جبکہ سابق وزیراعظم نے جے آئی ٹی میں ایم اور آئی ایس آئی ممبران کی موجودگی پر اعتراض اٹھایا۔ نواز شریف نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ میری عمر 68 سال ہے، میں وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم پاکستان رہ چکا ہوں۔نوازشریف نے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘سپریم کورٹ کے حکم پر جے آئی ٹی تشکیل دی گئی لیکن مجھے جے آئی ٹی کے ممبران پر اعتراض تھا اور یہ اعتراض پہلے بھی ریکارڈ کرایا جبکہ آئین کا آرٹیکل 10 اے مجھے یہ حق دیتا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبران کی سیاسی جماعتوں سے وابستگی ظاہر ہے جس کے ممبران میں بلال رسول سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے بھانجے ہیں جو (ن) لیگ کی حکومت کے خلاف تنقیدی بیانات دے چکے ہیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ بلال رسول کی اہلیہ تحریک انصاف کی سرگرم کارکن ہیں۔ میاں اظہر کے بیٹے حماد اظہر کی عمران خان کیساتھ 2017 کو تصاویر لی گئیں، بلال رسول پی ایم ایل این حکومت کیخلاف تنقیدی بیانات دے چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ بلال رسول کی اہلیہ بھی تحریک انصاف کی سرگرم کارکن ہیں،سابق وزیراعظم نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ واجد ضیا نے اپنے کزن کے ذریعے جے آئی ٹی تحقیقات کرائیں جبکہ تحقیقات میں ان کی جانبداری عیاں ہے۔نواز شریف نے کہا کہ ‘جے آئی ٹی ممبر عامر عزیز بھی جانبدار ہیں جو سرکاری ملازم ہوتےہوئے سیاسی جماعت سے وابستگی رکھتے ہیں جب کہ وہ پرویز مشرف دور میں میرے اور فیملی کیخلاف نیب ریفرنس نمبر 5 کی تحقیقات میں شامل رہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘جے آئی ٹی کے ایک اور رکن عرفان منگی کی تعیناتی کا کیس سپریم کورٹ میں ابھی تک زیر التوا ہے جنہیں جے آئی ٹی میں شامل کر دیا گیا۔سابق وزیراعظم نے ایک اور اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہایم آئی اور آئی ایس آئی افسران کا جے آئی ٹی کا حصہ بننا غیر مناسب تھا، موجودہ سول ملٹری تعلقات میں تناو کے اثرات جے آئی ٹی رپورٹ پر پڑے۔نواز شریف نے کہا کہ سول ملٹری تناو پاکستان کی تاریخ کے 70 سال سے زائد عرصے پر محیط ہے، پرویز مشرف کی مجھ سے رقابت 1999 سے بھی پہلے کی ہے جنہوں نے جے آئی ٹی رکن عامر عزیز سے حدیبیہ پیپر ریفرنس میں ہمارے خلاف تحقیقات کرائیں۔نواز شریف نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف علاج کے بہانے بیرون ملک گئے اور اس وقت خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، ان کے خلاف سنگین غداری کیس کے بعد تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہوا۔نواز شریف نے سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے حکم کو نامناسب اور غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘سپریم کورٹ کے فیصلے سے میرا شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہوا۔سابق وزیراعظم نے عدالت سے استدعا کی کہ جے آئی ٹی کی طرف سے لکھے گئے ایم ایل ایز عدالت میں پیش نہیں کیے گئے اس لیے ان کی بنیاد پر فیصلہ نہ دیا جائے۔

error: Content is Protected!!