شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / سینئر کالم نگارپروفیسر مسعوداخترہزاروی کی کتاب ”صدائے تکبیر”کی پروقار تقریب رونمائی

سینئر کالم نگارپروفیسر مسعوداخترہزاروی کی کتاب ”صدائے تکبیر”کی پروقار تقریب رونمائی

لاہور(پریس ریلیز )ورلڈکالمسٹ کلب برطانیہ کے مرکزی سینئر نائب صدر اور سینئر کالم نگارپروفیسر مسعوداخترہزاروی کی کتاب ”صدائے تکبیر”کی پروقار تقریب رونمائی مقامی ہوٹل میں منعقدہوئی جس کی صدارت ورلڈکالمسٹ کلب کے مرکزی چیئرمین محمددلاورچودھری نے کی جبکہ روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر،تجزیہ کار اورسینئر کالم نگار مجیب الرحمن شامی مہمان خصوصی تھے۔دانشور ،تجزیہ کاروسینئر کالم نگاراوریامقبول جان ،تجزیہ کاروسینئر کالم نگارسلمان غنی،تجزیہ کاروسینئر کالم نگارسجادمیر،تجزیہ کاروسینئر کالم نگارسلمان عابد ، سینئر تجزیہ کار بریگیڈئیر (ر)سیّدغضنفر علی ،سینئر تجزیہ کار بریگیڈئیر (ر) حامدسعیداختر،سینئرکالم نگارمحمدیٰسین وٹو،صدائے تکبیر کے مصنف پروفیسر مسعوداخترہزاروی اورورلڈکالمسٹ کلب ویمن ونگ کی مرکزی صدر ڈاکٹرنبیلہ طارق ایڈووکیٹ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان واحد ریاست ہے جہاں تعلیم ایک ساتھ چھ سات نصاب میں دی جارہی ہے۔جس وقت تک ہم مسجدمکتب اورگھرتینوں درست نہیں کریں گے توکس طرح وہ پاکستان بنے گاجس کاخواب اقبال ؒ اورمحمدعلی جناحؒ نے دیکھاتھا۔پروفیسر مسعوداخترہزاروی کی تحریروں سے اللہ تعالیٰ کیلئے دوستی اوردشمنی صاف عیاں ہوتی ہے۔مختلف موضوعات بارے ان کامطالعہ وسیع ہے ،ہم دعاکرتے ہیں قلم قبیلے سے وابستہ افرادکا سچائی تک رسائی کادشوارسفر جاری رہے۔ورلڈکالمسٹ کلب کے مرکزی چیئرمین محمددلاورچودھری نے کہا کہ ہم لوگ حادثات اورسانحات سے بھی نہیں سیکھتے،سیاسی قیادت مزید غلطیوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔اگرقلم قبیلے نے سچائی کاساتھ نہ دیاتوخدانخواستہ جگ ہنسائی ہمارااورہمارے ہم وطنوں کامقدربن جائے گی۔سینئر کالم نگاراورتجزیہ کارسلمان غنی نے بہت دردمندی سے سانحہ مستونگ اور نواب سراج رئیسانی کی شہادت پراپنے رنج وغم اورسوگ کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی مخصوص” خلائی مخلوق ” نے سانحہ مستونگ کے ساتھ انصاف نہیں کیا،اندوہناک قومی سانحہ کی نامناسب کوریج ا س سانحہ سے بڑاسانحہ ہے۔ مستونگ میں رونماہونیوالے حالیہ دلخراش سانحہ نے پاکستانیوں کورنجیدہ کردیا ہے۔نواب سراج رئیسانی ایک سچے اوربڑے پاکستانی تھے۔جس وقت مستونگ میں صف ماتم بچھی ہوئی تھی اس وقت ہمارامیڈیا سیاست کاپوسٹ مارٹم کررہا تھا۔ سلمان عابدنے کہاکہ معاشرے کے دوسرے طبقات سمیت میڈیا کوبھی اپنی سمت درست کرناہوگی۔راہ حق پرگامزن محب وطن پاکستانیوں کی شہادتیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔سراج رئیسانی شہید کی شخصیت اورسیاست سے پاکستانیت کی خوشبوآتی تھی۔ خودکش حملے کے نتیجہ میں سراج رئیسانی کی شہادت نے ان کی پاکستانیت کی” شہادت” دے دی۔بریگیڈئیر (ر)سیّدغضنفر علی نے کہا کہ پروفیسر مسعوداخترہزاروی اپنے علم اورقلم سے سماجی برائیوں کیخلاف جہادکررہے ہیں ۔مقررین نے مزید کہا کہ پروفیسر مسعوداخترہزاروی سات سمندرپارمادروطن سے دورکلمہ حق بلندکررہے ہیں۔ان کے ہرایک کالم میں اسلامیت ،پاکستانیت اورانسانیت جھلکتی ہے۔انہوں نے اپنی جاندار تحریروں میں محض مسائل کاماتم نہیں کیا بلکہ ان کاپائیدارحل بھی تجویزکیا ہے۔پروفیسر مسعوداخترہزاروی پچھلی دودہائیوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں مگران کادل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔قاری محمددلاورنے تلاوت قرآن مجیدفرقان حمید کی جبکہ سیّدمقرب شاہ نے بارگاہ رسالت ؐ میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ پروفیسر عرفان انجم ،محمدناصراقبال خان ،حافظ عامر سعید ، ممتازاعوان، میاں محمداشرف عاصمی ایڈووکیٹ ،محمدشاہد محمود،کامران رفیق ،ناصف اعوان،،ریاض احمداحسان ،شہزادعمران رانا ایڈووکیٹ ،راشد علی،انعام الحسن کشمیری ،عدنان خالداورقاسم آصف بھی تقریب میں شریک ہوئے ۔تقریب کے اختتام پرسینئر کالم نگاراورمعروف روحانی شخصیت محمدیٰسین وٹو نے نواب سراج رئیسانی شہید سمیت شہداء مستونگ اورشہداء پشاور سمیت شہداء پاکستان کے بلندی درجات ،مادروطن میں امن وآشتی اورسیاسی ومعاشی استحکام کیلئے خصوصی دعا کااہتمام کیا ۔

error: Content is Protected!!