شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / پاکستان کی بہت بڑی کامیابی

پاکستان کی بہت بڑی کامیابی

تبدیلی کا نعرہ تو جیسے دیوانے کا خواب ہو گیاکہ ریاست مدینہ کا عزم لیکر چلنے والی تحریک انصاف اپنے پہلے پندرہ دنوں میں ہی الزامات اور اخلاقیات کی سیاست میں الجھ کر رہ گئی ہے کہ وزیراعظم کو صحافیوں سے کہنا پڑا ہے کہ ابھی ’’ہتھ ہولا رکھیں ‘‘ ہمیں تین مہینے دیں اس کے بعد کھل کر تنقید کریں مگر ہم تو کہیں گے کہ پھر بھی کچھ نہیں بدلے گا کیونکہ فطرت کو نہیں بدلا جاسکتا اور تحریک انصاف کی صفوں میں موجود لوگ موقع پرست اور پرانے سیاسی شعبدہ باز ہیں اور فطرت نہیں بدلتی ۔اسی بات پرایک دفعہ کسی بادشاہ اور وزیر میں بھی اختلاف ہوگیا کہ تربیت کا زیادہ اثر ہوتا ہے یا کہ فطرت کا ؟ بادشاہ کا کہنا تھا کہ فطرت کو نہیں بدلا جا سکتا جبکہ اس کے وزیر کا کہنا تھا کہ تربیت وہ چیز ہے جو فطرت بدل سکتی ہے ۔با لآخر ملکہ نے کہا کہ آپ دونوں اس بات پر جنگ مت کریں بلکہ آپ دونوں عملی طور پر اس کو ثابت کر دیں ۔چنانچہ بادشاہ نے حکم دیاکہ وزیر اگلے ہفتے ہی اپنی بات کا ثبوت پیش کرے ۔چنانچہ وزیر نے اگلے ہفتے دربار میں دس بلیاں پیش کیں جن کے ہاتھوں میں جلتی ہوئی شمعیں روشن تھیں اور وہ پچھلی دو ٹانگوں پر چل رہی تھیں ۔یہ تربیت کو ثابت کرنے کے لیے بہترین نمونہ تھا ۔بادشاہ نے بھی اسے پسند کیامگر کہا کہ میں ابھی بھی کسی کی فطرت کو زیادہ با اثر ثابت کر سکتا ہوں ۔اس نے ملازم کے کان میں کچھ کہا اور اس نے دربار میں چوہے چھوڑ دئیے ۔چوہوں کے دوڑنے سے بلیوں نے اپنے ہاتھوں میں جلتی شمعیں پھینکی اور چوہوں کو پکڑنے کے لیے دوڑ پڑیں ۔پورے دربار میں ہلچل مچ گئی ۔اور بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ تربیت فطرت نہیں بدل سکتی!
عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے سو روزہ منشور پر عمل درآمد کیلئے اقدامات شروع کر دئیے ہیں مگر پاکستان کی سیاست میں جس تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ایسے میں ہر نیا دن تحریک انصاف حکومت کے لیے نیا امتحان لیکر طلوع ہوتا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی سوشل میڈیائی ٹیم کی تیار کردہ مضحکہ خیز پوسٹوں کے ساتھ ڈھل جاتا ہے ۔ اس کی ایک وجہ تو خان صاحب کے وزراء کے غیر ضروری بیانات،رعونت آمیز رویے اور بے سرو پا توجیحات ہیں اور دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ سبھی نامی گرامی سیاسی پہلوان تو اپوزیشن میں جا بیٹھے ہیں ایسے میں سبھی زہر بھرے نشتر لیے گھوم رہے ہیں اورخود کو عقل کُل سمجھنے والے صحافی جاتی امرا ء اور عالیشان ہوٹلوں کے عشائیوں کی سہانی یادوں میں کھوئے خالی جیبیں کھنگال رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اخبار کھنگالنے اور خبر تلاشنے کا وقت نہیں ملتا کہ سوشل میڈیائی خبروں کو ہی توڑ مروڑ کر پیش کر دیتے ہیں۔ بریں عقل و دانش بباید گریست (ایسی عقل و دانش پر رونا چاہیے) مگرڈٹے رہتے ہیں اور غلط کو درست ثابت کرنے میں کوشاں دکھائی دیتے ہیں ۔اکثر تو ایک کالم گذشتہ حکومت کے لیے اور ایک موجودہ کے لیے لکھ رہے ہیں کہ کوئی تو لفٹ کرا دے ۔۔ کچھ ایسے بھی ہیں کہ جنھیں مال پانی مل رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ادھر خبر آتی ہے اور وہ ادھر بنا تحقیق کے تحریک انصاف کے تبدیلی وعدوں کا پوسٹ مارٹم شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ سلیم صافی نے کچن اخراجات کی من گھڑت خبر دی تھی جس کی تردید جناب وزیراعظم کی طرف سے آگئی ہے کہ کچن کے علاوہ اور بہت سے اہم ایشو ہیں جن پر وہ بات کر سکتے ہیں۔ ترجیحات کا تو پتہ نہیں مگر یہ سچ ہے کہ ابھی تک ہمارے حکمرانوں کو قائد اعظم کے مزار پر جانے کا بھی وقت نہیں مل سکا مگر درباروں پر حاضریاں جاری ہیں اوربھارت سے مذاکرات کی دھوم تو بہت تھی مگر اب سب سوچنے پر مجبور ہیں کہ سدھو ملاقات بیک ڈور ڈپلومیسی تو نہیں ہے کیونکہ دیرینہ تنازعات کے حل اور بھارتی لائین آف کنٹرول خلاف ورزی پر تاحال کوئی بیانیہ سامنے نہیں آیا ۔
یہی وجہ ہے کہ مبصرین کے مطابق بادی النظر میں ریاست مدینہ بنانے کا خواب لیکر چلنے والوں کے غبارے سے ہوا نکلتی جا رہی ہے ۔اب یہی دیکھ لیں کہ ختم نبوت شق کو بنیاد بنا کر انتخاب لڑنے والوں نے اقتصادی مشاورتی کونسل کا ممبر ایک قادیانی کو بنا لیا ہے جو کہ دھرنے کے دنوں میں بھی زیر بحث تھا مگر شاید یہ سچ ہے کہ دروغ گورا حافظہ نباشد(جھوٹ بولنے والے شخص کا حافظہ نہیں ہوا کرتا) خان صاحب نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کسی ایسے شخص کو اپنے منشور کا حصہ نہیں بنائیں گے جو اللہ اور ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا۔۔ مذیداس قدر اخلاقی بدحالی کا ثبوت دیا جا رہا ہے کہ عامر لیاقت کو کشمیر سربراہ بنانے پر سوچ و بچار جاری ہے کیونکہ عامر لیاقت نے تحریک انصاف کی قیادت کو میڈیا پر سر عام للکار کر بتا دیا ہے کہ اگر وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔۔ ویسے تو جو کچھ نہیں اب وہ بھی بہت کچھ ہیں کہ ایف اے پاس بھی عہدے پا رہے ہیں کسی نے کیا خوب کہا تھا :
آپ کیوں پڑھ پڑھ کے نڈھال ہوتے ہیں ۔۔۔بس زمانے میں ایسے کہاں کمال ہوتے ہیں
جو کچھ کرتے ہیں وہ خود کو پامال کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جو کچھ نہیں کرتے وہ کمال کرتے ہیں
اگر اداروں میں سیاسی اثر و رسوخ کی بات کی جائے تو وزیراعلیٰ پنجاب پر پبلک آفس کے غلط استعمال کا الزام بھی لگ گیا ہے اور اب آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے اطلاق کی باتیں بھی ہو رہی ہیں ۔الغرض ہیں کواکب کچھ اور نظر آتے ہیں کچھ کے مصداق بہت کچھ ہے جس کی پردہ داری ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آج اداروں میں طاقت کا تواز ن نہیں ہے اور یہی انصاف حکومت کو سب سے بڑا چیلنج ہے اور اسی توازن کو قائم کرنے کا وعدہ تھا مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے کیونکہ یہ نظام روز اول سے جڑ پکڑ چکا تھا اور نا سور کی طرح پھیل چکا ہے کہ عوام کو کسی بھی ادارے سے ریلیف نہ ملا ہے اور نہ مل رہا ہے بس لفاظی ہی لفاظی ہے ۔ان حالات میں اگر تبدیلی لانی ہے تو عمران خان کو از خود انڈر دی ٹیبل ہونے والے معاملات کا نوٹس لینا پڑے گا شاید انہی حالات کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے سابق IG خیبر پختونخواہ پولیس ناصر درانی کو پولیس میں اصلاحات کرنے والی ٹاسک فورس کا سربراہ بنا دیا ہے جو کہ پولیس کو سیاسی اثر رسوخ سے بھی پاک کریں گے ۔بلاشبہ پنجاب میں یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہونے جا رہی ہے تو کیاپنجاب کی تبدیلی اپوزیشن کو قبول ہوگی ؟ ویسے ابھی تو یہ طے ہونا بھی باقی ہے کہ اپوزیشن کا کردار کون نبھائے گا ؟
کیونکہ اپوزیشن کا اتحاد سر بازار نیلام ہو رہا ہے ۔صدارتی امیدوار پر اپوزیشن جماعتوں کی غیر سنجیدگی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ تین امیدوار ہیں اور تینوں ہی پر امید ہیں ۔ایک طرف اپوزیشن کی لن ترانیاں ہیں اور دوسری طرف حکومت کی نادانیاں اور معافیاں ہیں کہ ہٹو بچو کی صداؤں اور ایذا رسانیوں سے شہریوں کو بچانے کی خاطر خان صاحب نے بنی گالہ سے چیف منسٹر ہاؤس تک ہیلی کاپٹر استعمال کرنا شروع کیا تو صحافیوں اور مبصرین نے آڑے ہاتھوں لیا جس پر فواد چوہدری نے سفری اخراجات پر جو توجیح پیش کی اس پر پورا ملک ششدر رہ گیا کہ مذکورہ فاصلے میں صرف 55 روپے فی کلومیٹر خرچ آتا ہے جبکہ ہمیشہ سے پروٹوکول پر لاکھوں کروڑوں خرچ ہوتے رہے ہیں ۔سفری اخراجات پر غلط بیانی ضرور تھی مگر فواد چوہدری حق بجانب تھے مگر مخالفین نے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر وہ گرد اڑائی کہ ہیلی کاپٹر امارت کا استعارہ بن گیا ہے مگر اس پر مدلل جواب تو سامنے نہیں آیا لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے پاکپتن حاضری دینے کے لیے پروٹوکول کا وہی شاہانہ انداز اختیار کیا جو اس سے پہلے تھا اور یوں کپتان کی ٹیم اپنے سفر ی آغاز میں ہی سادگی اور کفایت شعاری کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نظر آئی اس پر طرہ فیاض الحسن چوہان کی اسٹیج اداکارؤں کے بارے غیر ضروری گفتگو تھی کہ حاجی بنانے چلے تھے اور پھر دو مرتبہ معافی مانگی اور باجیاں بناتے ہوئے توبہ کی کہ آئندہ پہلے تولیں گے اور پھر بولیں گے حالانکہ باتیں اور اقدام درست تھے مگر الفاظ کا چناؤ نا مناسب تھا ۔ لیکن اس معافی سے اندازہ کر لیں کہ پاکستان میں جاری فحاشی اور بے حیائی کے پیچھے کس قدر مضبوط مافیا ہے کہ جس کے خلاف آج تک ہمارے مذہبی راہنمابھی کھل کر آواز نہیں اٹھا سکے تو اس پر ایکشن ضرور لیں اور کوئی ضابطہ اخلاق طے کریں تاکہ آنے والی نسلیں اس شر اور بے حیائی سے محفوظ رہ سکیں کیونکہ نتائج اس قدر بھیانک ہیں کہ بچے بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں ۔
ہم مانتے ہیں کہ ابھی تین ہفتے ہوئے ہیں اور بگاڑ کئی دہائیوں کا ہے اور عمران خان کے پاس الہ دین کا چراغ نہیں ہے مگر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جناب وزیراعظم ویسے ہی خوشامدیوں اور مشیران میں پھنس چکے ہیں جیسے میاں نواز شریف کے گرد تھے اس لیے محتاظ ہونے اور ایسی ٹیم تیار کرنے کی ضرورت ہے جو کہ حالات کاتعین کرتے ہوئے درست سمت میں راہنمائی کر سکے ورنہ اس بار سوال عوام کریں گے کیونکہ ان کی توقعات اور حوصلے اس قدر بڑھا دئیے گئے ہیں کہ معمولی سے لغزش کی بھی معافی نہیں ملے گی ۔معافی تو جناب چیف جسٹس بھی نہیں د رہے اور وقت کے فرعونوں کے خلاف برسر پیکار رہیں کہ جناب چیف جسٹس نے شہری کو تھپڑ مارنے پر عمران شاہ کو 30 لاکھ روپے ڈیم فنڈ میں جمع کروانے کی سزا دی ہے اور کہا ہے کہ عمران شاہ جیسے لوگوں میں رعونت اور فرعونیت آجاتی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے کوئی سوال نہیں کر سکتا اور میں ایسے لوگوں کو سبق سکھانے آیا ہوں ۔یقیناًعدل کی فراہمی کسی بھی ریاست کی خوشحالی کی بنیاد ہوتی ہے اور جناب چیف جسٹس کی طرح اگر سبھی مخلص ہوجائیں تو تبدیلی کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا لیکن ا سکے لیے چند فیصلوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی ورنہ معاملات الجھتے چلے جائیں گے ۔
بہرحال کچھ اقدام قابل تحسین ہیں جیسا کہ امت مسلمہ اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے بروقت آواز اٹھانے پر ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ ہوگیا ہے بلاشبہ سفارتی لحاظ سے یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے ۔مگر اس کاوش اور احتجاج کو رکنا نہیں چاہیے بلکہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانا چاہیے اور ایسا قانون مرتب کروانا چاہیے کہ دشمنان اسلام مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے دوبارہ کھیلنے کی جرات نہ کر سکیں جیسا کہ ہالو کاسٹ ہے جس میں یہودیوں کے خلاف بات کرنا جرم مانا جاتا ہے ۔۔کیونکہ وہ لوگ متحد ہیں جبکہ ہم من حیث الگروہ جی رہے ہیں اگر آج امت مسلمہ دوبارہ متحد ہوجائے اور من حیث القوم باطل سے ٹکرا جائے تو کیسے ممکن ہے کہ کفر کے چھائے یہ بادل نہ چھٹ جائیں اور یہود و نصاری اپنی ہی جلائی آگ میں نہ جل جائیںیا جلا دئیے جائیں کیونکہ یہاں تو بچے بچے کا یہ ایمان ہے کہ
گر حرمتِ رسول پر مانگوگے میری جاں
میں چیخ کر کہونگی کہ یہ دار خوب ہے ۔۔!

error: Content is Protected!!